حدیثِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 32
تین دائمی میراث: صدقۂ جاریہ، نفع بخش علم اور نیک اولاد
اس حدیث پر غور کی مناسبت: 20 مرداد (11 اگست)، یومِ وقف
تمہید
یومِ وقف ہمیں اسلام کی ایک نہایت خوبصورت تعلیم کی یاد دلاتا ہے: ایسے نیک اعمال انجام دینا جن کے اثرات اور برکتیں انسان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی لوگوں تک پہنچتی رہیں۔
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِذَا مَاتَ ابْنُ آدَمَ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ.
“جب انسان دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔”
(الکافی، ج 4، ص 25)
اس حدیث کے تربیتی پیغامات نوجوانوں کے لیے
1۔ اپنے وقت کا ایک حصہ دوسروں کی خدمت کے لیے وقف کریں۔
اپنے وقت، صلاحیتوں اور ہنر کو دوسروں کی مدد کے لیے استعمال کریں۔
عملی چیلنج:
اس ہفتے کم از کم ایک گھنٹہ اپنی کسی مہارت کے ذریعے کسی دوسرے شخص کی مدد کریں
2۔ اپنے والدین کے لیے صدقۂ جاریہ بنیں۔
آپ کا حسنِ اخلاق اور نیک کردار آپ کے والدین کے لیے دائمی اجر کا سبب بن سکتا ہے۔
عملی چیلنج:
اس مہینے ایک اچھی عادت اختیار کریں جو آپ کے والدین کے لیے باعثِ فخر ہو اور اسے مستقل اپنائیں۔
3۔ اپنے علم کو دوسروں کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔
جو علم آپ حاصل کرتے ہیں، اس کی اصل قدر اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ دوسروں کے کام آئے۔
عملی چیلنج:
اس ہفتے اپنی استطاعت کے مطابق کسی خیراتی ادارے یا فلاحی مرکز میں اپنی کسی مہارت کے ذریعے خدمت انجام دیں۔
4۔ صحیح نیت کے ساتھ تعلیم حاصل کریں۔
صرف اپنی ذاتی کامیابی کے لیے نہ پڑھیں، بلکہ یہ نیت کریں کہ اپنے علم کے ذریعے دوسروں کو فائدہ پہنچائیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کریں۔
عملی چیلنج:
ہر روز پڑھائی شروع کرنے سے پہلے یہ نیت کریں کہ جو کچھ سیکھیں گے اسے لوگوں کی بھلائی میں استعمال کریں گے۔
5۔ جہاں بھی جائیں، نیکی کی ایک یادگار چھوڑ جائیں۔
اپنے گھر، اسکول اور دوستوں کے ماحول کو اپنے حسنِ اخلاق اور مہربانی سے بہتر بنائیں، اور ایسی اچھی روایات قائم کریں جو آپ کے بعد بھی باقی رہیں۔
عملی چیلنج:
اپنی کلاس، خاندان یا دوستوں کے حلقے میں ایک مثبت عادت شروع کریں جسے دوسرے بھی جاری رکھ سکیں۔
6۔ ایسا کام کریں جو دیرپا ہو۔
صرف آج کے بارے میں نہ سوچیں، بلکہ ایسا کام کریں جس سے آنے والے برسوں تک لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں۔
عملی چیلنج:
اس ہفتے ایک مفید تعلیمی ذریعہ، جیسے نوٹس، ویڈیو یا رہنما مواد تیار کر کے دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔
7۔ جو جانتے ہیں، دوسروں کو بھی سکھائیں۔
ایک چھوٹی مگر مفید بات کی تعلیم بھی آپ کے لیے دائمی اجر کا سبب بن سکتی ہے۔
عملی چیلنج:
اس ہفتے اپنے کسی ہم جماعت، چھوٹے بہن بھائی یا کسی اور فرد کو ایسی مفید بات سکھائیں جو وہ پہلے نہیں جانتا تھا۔
اس حدیث کے تربیتی پیغامات والدین کے لیے
1۔ نیک اولاد کی تربیت میں سرمایہ کاری کریں۔
اپنے بچوں کے ایمان، اخلاق اور کردار کو اپنی زندگی کی اہم ترین ترجیحات میں شامل کریں۔
عملی چیلنج:
ہر ہفتے خاندان کے ساتھ ایک مخصوص وقت اسلامی اقدار اور اخلاقی تربیت پر گفتگو کے لیے مقرر کریں۔
2۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹیں۔
اپنی دولت، علم، مہارت، تجربے اور سماجی اثر و رسوخ کو دوسروں کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔
عملی چیلنج:
اس مہینے اپنی کسی نعمت کو کسی ضرورت مند کی مدد کے لیے بروئے کار لائیں۔
3۔ بچوں کو نیکی کے کاموں میں شریک کریں۔
اپنے بچوں کو خیراتی اور فلاحی سرگرمیوں میں ساتھ لے جائیں تاکہ ان کے اندر خدمتِ خلق کا جذبہ پروان چڑھے۔
عملی چیلنج:
اگلی بار صدقہ دیتے وقت یا کسی رضاکارانہ خدمت میں حصہ لیتے وقت اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جائیں۔
4۔ اپنے والدین کے لیے بھی صدقۂ جاریہ بنیں۔
اپنی صالح زندگی کے ذریعے اپنے والدین کے لیے دائمی اجر کا ذریعہ بنیں۔
عملی چیلنج:
اس ہفتے ایک نیک عمل انجام دیں، اس کا ثواب اپنے والدین کو ہدیہ کریں اور ان کے لیے دعا کریں۔
5۔ بچوں کو دعا کرنا سکھائیں۔
اپنے بچوں کو اللہ کی یاد اور والدین کے لیے دعا کرنے کی عادت ڈالیں۔
عملی چیلنج:
ہر خاندانی نماز کے بعد بچوں سے کہیں کہ وہ اپنے والدین کے لیے مختصر دعا کریں۔
6۔ ایک خاندانی نیک میراث قائم کریں۔
خاندان مل کر ایسے فلاحی منصوبوں کی سرپرستی کر سکتے ہیں جن سے آنے والی نسلیں بھی فائدہ اٹھائیں۔
عملی چیلنج:
اپنے خاندان کے ساتھ مل کر ایک طویل المدت خیراتی منصوبہ منتخب کریں اور معمولی ہی سہی، مگر باقاعدگی سے اس کی حمایت کریں۔
اس حدیث کے تربیتی پیغامات ائمۂ جماعت اور اساتذہ کے لیے
1۔ وقف کی جدید صورتوں کو متعارف کرائیں۔
لوگوں کو بتائیں کہ وقف صرف زمین یا عمارت تک محدود نہیں، بلکہ علم، ٹیکنالوجی اور سماجی منصوبے بھی دائمی صدقۂ جاریہ بن سکتے ہیں۔
عملی چیلنج:
اپنی آئندہ تقریر یا درس میں وقف کی ایک جدید اور عملی مثال پیش کریں۔
2۔ نفع بخش علم کو فروغ دیں۔
لوگوں کو ایسے علم کے حصول اور اس کی اشاعت کی ترغیب دیں جو ان کے ایمان اور روزمرہ زندگی دونوں کو بہتر بنائے۔
عملی چیلنج:
ہر درس یا خطاب کا اختتام ایک ایسے عملی کام پر کریں جسے سامعین پورے ہفتے انجام دے سکیں۔
3۔ پائیدار تعلیمی منصوبے قائم کریں۔
ایسی تعلیمی سرگرمیاں جو آنے والی نسلوں کے لیے مفید ہوں، صدقۂ جاریہ کا درجہ رکھتی ہیں۔
عملی چیلنج:
ایک مستقل تعلیمی منصوبہ شروع کریں، مثلاً تعلیمی کتابچے تیار کرنا، تعلیمی مواد بنانا، کسی تعلیمی مرکز کی معاونت کرنا یا اپنی کلاسوں میں کوئی مفید روایت قائم کرنا۔
4۔ نوجوانوں کو ترجیح دیں۔
آنے والی نسل کی تربیت میں سرمایہ کاری، دائمی نیک میراث قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
عملی چیلنج:
چند نوجوانوں کو ایک منظم تعلیمی یا تربیتی پروگرام میں شامل کریں اور ان کی علمی و اخلاقی نشوونما میں رہنمائی کریں۔
5۔ لوگوں کو دیرپا نیکیوں کی ترغیب دیں۔
لوگوں کو ایسے نیک کام شروع کرنے کی دعوت دیں جن کے فوائد اور برکتیں برسوں تک جاری رہیں۔
عملی چیلنج:
اپنی برادری یا طلبہ کو کسی مستقل خیراتی یا تعلیمی منصوبے میں عملی طور پر شریک ہونے کی دعوت دیں۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

