فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 26
مراجعِ عظامِ تقلید شهید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی اور آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (دام عزّہم العالی) کے فتوؤں کے مطابق۔
نمازِ جمعہ
نوٹ: اس پینل میں مسائل کا ذکر (بلا اختلاف یا حوالہ کےساتھ )
جومسائل بغیر کسی مخالف رائے یا خاص حوالہ کے ذکر کئے گئے ہیں، وہ تینوں بزرگ مراجع کے مشترک فتاوی ہیں۔ اور جہاں کسی ایک مرجع کا فتویٰ دوسرے دو سے مختلف ہو، وہاں اسی نمبر کے تحت اس مرجع کےنام کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔
نمازِ جمعہ کی اہمیت اور اس کامقام
- نمازِ جمعہ مسلمانوں کا ہفتہ وار اجتماع ہے جو "یادِ خدا” اور پروردگار کی عبادت کے محور پر منعقد ہوتا ہے۔ یہ اسلامی اُمت کی شان و شوکت اور دینی حکومت کی اقتدار و عظمت کی نمایاں علامتوں میں سے ہے۔ نمازِ جمعہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد پیدا کرتی ہے، دشمن کے پروپیگنڈے کو ناکام بناتی ہے اور اسلامی معاشرتی ذمہ داریوں اور عالمِ اسلام کے مسائل سے آگاہی کا ذریعہ بنتی ہے۔
- نمازِ جمعہ، جو جمعہ کے دن نمازِ ظہر کے بدلے ادا کی جاتی ہے، موجودہ دور (زمانۂ غیبتِ امام مہدی عجّل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) میں واجبِ تخییری ہے؛ یعنی مکلف شخص نمازِ ظہر اور نمازِ جمعہ میں سے کسی ایک کو اختیار کر سکتا ہے۔
- مستحب احتیاط یہ ہے کہ جب بھی اسلامی عدل و انصاف پر مبنی حکومت قائم ہو، حتی الامکان نمازِ جمعہ ترک نہ کی جائے۔
- نمازِ جمعہ کی اہمیت کو کم سمجھتے ہوئے اس میں شرکت نہ کرنا شرعاً ناپسندیدہ ہے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی: زمانۂ غیبتِ کبریٰ میں نمازِ جمعہ واجبِ تخییری ہے، یعنی نمازِ جمعہ اور نمازِ ظہر میں اختیار ہے؛ لیکن اگر اسلامی حکومتِ عدل قائم ہو تو واجب احتیاط یہ ہے کہ نمازِ جمعہ ترک نہ کی جائے۔
نمازِ جمعہ کی شرائط
- نمازِ جمعہ کی صحت کے لیے درج ذیل شرائط ضروری ہیں:
- جماعت کے ساتھ ادا کی جائے۔
- کم از کم پانچ افراد موجود ہوں (ایک امام اور چار مقتدی)۔
- نمازِ جماعت کی تمام شرائط، مثلاً صفوں کا متصل ہونا، موجود ہوں۔
- کسی دوسری نمازِ جمعہ سے کم از کم ایک فرسخ (تقریباً 5125 میٹر) کا فاصلہ ہو۔
- وہ مسافر جس کی نماز قصر ہوتی ہے، نمازِ جمعہ میں شرکت کر سکتا ہے اور نمازِ ظہر کے بجائے نمازِ جمعہ ادا کر سکتا ہے۔
- اگر دو نمازِ جمعہ ایک فرسخ سے کم فاصلے پر قائم ہوں تو جو نماز پہلے منعقد ہوئی ہو وہ صحیح ہوگی اور دوسری باطل ہوگی۔ اور اگر دونوں ایک ہی وقت میں قائم ہوں تو دونوں باطل ہوں گی۔
امامِ جمعہ کی شرائط
- امامِ جماعت کے لیے جو شرائط معتبر ہیں، جیسے عدالت وغیرہ، وہ تمام امامِ جمعہ کے لیے بھی ضروری ہیں۔
- اگر مقتدی اقتدا کے وقت امامِ جمعہ کی عدالت پر مطمئن ہو اور نماز کے بعد اسے شک ہو جائے یا یقین ہو جائے کہ امام عادل نہیں تھا، تو اس کی سابقہ نمازیں صحیح شمار ہوں گی۔
- اگر کسی شخص کی امامِ جمعہ کے طور پر تقرری مقتدی کے لیے اس کی عدالت پر اطمینان کا سبب بن جائے تو اقتدا کی صحت کے لیے یہی کافی ہے۔
نمازِ جمعہ کا وقت
- نمازِ جمعہ کا وقت زوالِ آفتاب (ظہر کے آغاز) سے شروع ہوتا ہے، اور واجب احتیاط یہ ہے کہ اسے ظہر کے ابتدائی عرفی وقت سے زیادہ مؤخر نہ کیا جائے۔
- امامِ جمعہ خطبے ظہر سے پہلے بھی دے سکتا ہے۔
آیت اللہ سیستانی: اذانِ ظہر سے پہلے خطبے پڑھنا محلِ اشکال ہے، اگرچہ خطبے وقتِ ظہر کے آغاز پر ختم ہوں۔ واجب احتیاط کی بنا پر ایسی نمازِ جمعہ کافی نہیں جس کے خطبے اذانِ ظہر سے پہلے شروع ہوئے ہوں، اگرچہ صرف پہلا خطبہ ہی وقت سے پہلے پڑھا گیا ہو۔
آیت اللہ مکارم شیرازی: خطبے اذان کے بعد پڑھے جانے چاہئیں اور یہ نماز کے دو رکعتوں کے قائم مقام ہیں (اگرچہ ہر اعتبار سے نہیں)۔ نیز دیگر مسلمانوں کے نزدیک بھی یہی مناسب صورت ہے تاکہ یہ گمان نہ ہو کہ نماز وقت سے پہلے پڑھی جا رہی ہے۔ اگر کسی مجبوری کی بنا پر خطبے وقت سے پہلے شروع کیے جائیں تو لازم ہے کہ ان کا واجب حصہ وقت داخل ہونے کے بعد دوبارہ دہرایا جائے۔ البتہ حتی الامکان خطبے وقت سے پہلے پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
امامِ جمعہ کی ذمہ داریاں
- واجب ہے کہ امامِ جمعہ خود کھڑے ہو کر خطبے دے۔ اگر وہ کھڑے ہو کر خطبہ نہ دے سکے تو کسی دوسرے شخص کو خطبے اور نمازِ جمعہ کی ذمہ داری سونپ دی جائے۔
- واجب ہے کہ امامِ جمعہ پہلے اور دوسرے خطبے کے درمیان مختصر وقت کے لیے بیٹھے۔
- خطیبِ جمعہ کے لیے جائز نہیں کہ خطبے آہستہ آواز میں پڑھے، بلکہ واجب احتیاط کی بنا پر اتنی بلند آواز میں پڑھے کہ کم از کم نمازِ جمعہ کے لیے مطلوب افراد (چار مقتدی) سن سکیں۔ مستحب احتیاط یہ ہے کہ وعظ و نصیحت اور تقویٰ کی تلقین کے وقت اپنی آواز، خواہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے ہی ہو، تمام حاضرین تک پہنچائے۔
- پہلے خطبے میں واجب ہے کہ:
- اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے۔
- رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجے۔
- لوگوں کو تقویٰ کی نصیحت کرے۔
- قرآنِ کریم کی ایک مختصر سورت پڑھے۔
دوسرے خطبے میں بھی:
- اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے۔
- رسول اکرم ﷺ پر درود بھیجے۔
واجب احتیاط کی بنا پر:
- تقویٰ کی نصیحت کرے۔
- قرآن کی ایک مختصر سورت پڑھے۔
مستحب احتیاط یہ ہے کہ:
- اہل بیتؑ پر بھی درود بھیجے۔
- تمام مؤمنین کے لیے مغفرت کی دعا کرے۔
آیت اللہ سیستانی: حمدِ الٰہی اور رسول اکرم ﷺ و ائمہ معصومینؑ پر صلوات واجب احتیاط کی بنا پر عربی میں ہونی چاہیے۔ البتہ دیگر حصے، جیسے تقویٰ کی نصیحت وغیرہ، عربی میں ہونا ضروری نہیں۔ لیکن اگر حاضرین کی اکثریت عربی نہیں سمجھتی تو لازم احتیاط یہ ہے کہ تقویٰ کی نصیحت ان کی زبان میں کی جائے۔
نمازیوں کی ذمہ داریاں
- احتیاط کی بنا پر نمازیوں کو چاہیے کہ امامِ جمعہ کے خطبوں کو غور سے سنیں، خاموش رہیں اور گفتگو سے پرہیز کریں۔
آیت اللہ سیستانی: خطبے کے دوران گفتگو کرنا مکروہ ہے، لیکن اگر گفتگو خطبہ سننے میں رکاوٹ بنے تو واجب احتیاط کی بنا پر جائز نہیں۔
- مستحب احتیاط یہ ہے کہ خطبوں کے دوران مقتدی امامِ جمعہ کی طرف متوجہ رہیں اور نماز میں جائز مقدار سے زیادہ قبلہ سے رخ نہ پھیر یں۔
آیت اللہ مکارم شیرازی: مقتدیوں کو چاہیے کہ خطبوں کے دوران قبلہ رخ بیٹھیں، خطبے سنیں اور نماز گزار جیسی کیفیت اختیار کریں۔ اگرچہ گفتگو نماز کو باطل نہیں کرتی، لیکن احتیاط کے خلاف ہے۔ اسی طرح خطبوں کے دوران تکبیریں یا نعرے لگانا بھی نماز کو باطل نہیں کرتا۔
- اگر کوئی شخص خطبوں میں حاضر نہ ہو سکے اور صرف نماز کے وقت پہنچ کر امامِ جمعہ کی اقتدا کرے تو اس کی نماز صحیح اور نمازِ ظہر کے لیے کافی ہوگی۔ حتیٰ کہ اگر وہ آخری رکعت کے رکوع سے کچھ پہلے پہنچ جائے تو بھی نمازِ جمعہ کی نیت سے اقتدا کر سکتا ہے، اپنی دوسری رکعت نمازِ جمعہ کے طریقے کے مطابق ادا کرے گا اور یہی نمازِ ظہر کے لیے کافی ہوگی۔
نمازِ جمعہ سے متعلق متفرق مسائل
- نمازِ جمعہ اسلامی شعائر اور مسلمانوں کے اتحاد کی علامت ہے، لہٰذا ہر وہ کام جو مؤمنین کے درمیان اختلاف اور صفوں میں تفرقہ پیدا کرے، جائز نہیں۔
- جو شخص نمازِ جمعہ میں شرکت نہ کرے، وہ اول وقت میں نمازِ ظہر ادا کر سکتا ہے اور اس کے لیے نمازِ جمعہ کے ختم ہونے تک انتظار کرنا ضروری نہیں۔
- نمازِ جمعہ کے قریب کسی اور مقام پر اسی وقت نمازِ ظہر کی جماعت قائم کرنا بذاتِ خود اشکال نہیں رکھتا، لیکن چونکہ اس سے مؤمنین کی صفوں میں تفرقہ، نمازِ جمعہ کی بے قدری یا امامِ جمعہ کی توہین کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے، اس لیے مناسب نہیں کہ ایسی جماعت قائم کی جائے۔ بلکہ اگر اس سے کوئی مفسدہ یا حرام امر لازم آتا ہو تو اس سے اجتناب کرنا واجب ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

