فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 21
نمازِ استجارى اوروالدین کی قضا نمازیں
مراجعِ عظامِ تقلید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی اور آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (دام عزّہم العالی) کے فتوؤں کے مطابق۔
نوٹ: اس پینل میں مسائل کا ذکر (بلا اختلاف یا حوالہ کےساتھ )
جومسائل بغیر کسی مخالف رائے یا خاص حوالہ کے ذکر کئے گئے ہیں، وہ تینوں بزرگ مراجع کے مشترک فتاوی ہیں۔ اور جہاں کسی ایک مرجع کا فتویٰ دوسرے دو سے مختلف ہو، وہاں اسی نمبر کے تحت اس مرجع کےنام کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔
نمازِ استجارى (اجرت پر پڑھوائی جانے والی نماز )کے عمومی احکام
- اگر میّت کی کچھ عبادات، جیسے نماز یا روزے، قضا ہو گئے ہوں تو جائز ہے کہ کسی شخص کو اجرت دے کر ان کی طرف سے قضا ادا کروائی جائے۔ اسی طرح کوئی شخص بغیر اجرت کے بھی ان عبادات کو انجام دے سکتا ہے، اور اس کے انجام دینے سے مرنے والا بری الذمّہ ہو جاتا ہے۔
- وہ نماز جو میّت کی نیابت میں اجرت لے کر پڑھی جائے، اسے “نمازِ استیجاری” کہا جاتا ہے۔
- اگر میّت نے اپنی نمازوں کی قضا کے لئے اجیر رکھنے کی وصیت کی ہو تو اس کے ترکہ کے ایک تہائی حصے تک اس وصیت پر عمل کرنا واجب ہے، اور ایک تہائی سے زیادہ کے لئے ورثہ کی اجازت ضروری ہے۔
اجرت پر پڑھوائی جانے والی نماز کے احکام
- جو شخص کسی میّت کی نمازوں کے لئے اجیر بنا ہو، اس کے لئے نماز پڑھتے وقت میّت کی مکمل خصوصیات ذکر کرنا ضروری نہیں؛ بلکہ اجمالی طور پر نیت کر لینا کافی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو دو م مرنے والوں کی نمازوں کے لئے اجیر بنایا گیا ہو اور وہ نیت کرے کہ “میں اس پہلے والےکی نماز پڑھ رہا ہوں جس کے لئے مجھے اجیر بنایا گیا تھا” تو یہ کافی ہے۔
- اگر نمازِ استیجاری کے لئے کوئی خاص شرط (مثلاً جماعت کے ساتھ یا مسجد میں پڑھنا) نہ رکھی گئی ہو تو اجیر پر صرف یہ لازم ہے کہ نماز کو اس کے واجبات کے ساتھ صحیح طریقے سے ادا کرے۔
- میّت کی قضا نمازوں کے لئے مرد یا عورت ہونا شرط نہیں ہے؛ یعنی مرد عورت کی قضا نماز پڑھ سکتا ہے اور عورت مرد کی، خواہ اجرت کے ساتھ ہو یا تبرعاً۔
- نماز کو بلند آواز یا آہستہ پڑھنے میں نائب (اجیر) اپنی ذاتی شرعی ذمہ داری کے مطابق عمل کرے گا۔ لہٰذا اگر کوئی مرد کسی عورت کی قضا نماز پڑھ رہا ہو تو اسے فجر، مغرب اور عشاء کی نمازوں میں حمد و سورہ بلند آواز سے پڑھنا ہوگا۔
نائب (اجیر) کی شرائط اور ذمہ داریاں
جو شخص میّت کی قضا نماز کے لئے نائب بنتا ہے، اس میں درج ذیل شرائط کاہونا ضروری ہے:
- نماز کے مسائل کو اجتہاد یا صحیح تقلید کے ذریعے جانتا ہو۔
- قابلِ اعتماد ہو، تاکہ اطمینان ہو کہ نماز صحیح طریقے سے ادا کرے گا۔
- اس کے پاس کوئی ایسا عذر نہ ہو جو نماز کے صحیح انجام میں مانع ہو؛ مثلاً جو شخص بیٹھ کر نماز پڑھتا ہو وہ میّت کی نمازوں کے لئے اجیر نہیں بن سکتا۔
آیت اللہ سیستانی : نیابتی قضا نماز کے لئے سات شرائط ہیں:
- نائب اثنا عشری شیعہ ہو۔
- عاقل ہو۔
- احتیاط واجب کی بنا پر بالغ ہو۔
- عمل میں نیابت کی نیت رکھتا ہو۔
- عمل کے وقت منوب عنہ (جس کی طرف سے نماز پڑھ رہا ہے) کو اگرچہ اجمالی طور پر معین کرے۔
- اجیر رکھنے والے کو اطمینان ہو کہ نائب اصل عمل انجام دے گا۔
- نائب عمل کو صحیح طریقے سے انجام دے۔
والدین کی قضا نمازوں کے احکام
اصل وجوب اور مکلّف شخص
- بڑے بیٹے پر واجب ہے کہ اپنے والد کی فوت شدہ نمازوں کی قضا کرے، اور احتیاط کی بنا پر والدہ کی نمازوں کی بھی قضا کرے۔
آیت اللہ سیستانی: والدہ کی قضا نمازیں بڑے بیٹے پر واجب نہیں ہیں، اگرچہ مستحب احتیاط یہ ہے کہ وہ انہیں بھی ادا کرے یا ان کے لئے اجیر رکھے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی: بڑے بیٹے (یعنی وہ سب سے بڑا بیٹا جو والدین کی وفات کے وقت زندہ ہو) پر واجب ہے کہ وہ والد یا والدہ کی وہ نمازیں اور روزے قضا کرے جو ان سے ترک ہوئے ہوں اور جن کی قضا کی ان میں قدرت موجود تھی۔ بلکہ اگر نافرمانی کی وجہ سے ترک کئے ہوں تب بھی احتیاط مستحب یہ ہے کہ ان کی قضا کرے۔
- اگر والد یا والدہ نے پوری زندگی نماز نہ پڑھی ہو تب بھی احتیاط واجب کی بنا پر بڑے بیٹے پر ان کی قضا واجب ہے۔
- “بڑا بیٹا” اس بیٹے کو کہتے ہیں جو والد یا والدہ کی وفات کے وقت زندہ ہو، چاہے بالغ ہو یا نابالغ۔
آیت اللہ سیستانی: اگر کسی شخص کا بڑا بیٹا اس کی زندگی میں فوت ہو جائے تو والد کی وفات کے وقت زندہ رہنے والا دوسرا بیٹا “بڑا بیٹا” شمار ہوگا۔
- اگر میّت کی پہلی اولاد بیٹی ہو اور دوسرا بچہ بیٹا ہو تو والد کی قضا نمازیں، اور احتیاط کی بنا پر والدہ کی بھی، اسی بیٹے پر واجب ہوں گی۔
ذمہ داری کے ساقط یا منتقل ہونے کے احکام
- اگر کوئی دوسرا شخص (بڑے بیٹے کے علاوہ) والدین کی قضا نمازیں ادا کر دے تو بڑے بیٹے سے یہ ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے۔
- اگر بڑا بیٹا والدین کی وفات کے بعد خود فوت ہو جائے تو باقی اولاد پر والدین کی قضا نمازیں واجب نہیں ہوں گی۔
ذمہ داری کی مقدار اور ادائیگی کا طریقہ
- بڑے بیٹے پر صرف اتنی نمازوں کی قضا واجب ہے جن کےقضا ہونے کا اسے یقین ہو۔ اگر اسے معلوم نہ ہو کہ والدین کی کوئی نماز قضا ہوئی ہے یا نہیں، تو اس پر کچھ واجب نہیں، اور تحقیق و جستجو بھی لازم نہیں۔
- بڑے بیٹے پر واجب ہے کہ جس طرح ممکن ہو والدین کی قضا نمازیں ادا کرے، اور اگر انجام دینے سے عاجز ہو تو اس پر کوئی ذمہ داری نہیں۔
اگر کسی شخص کی اپنی قضا نمازیں بھی ہوں اور والدین کی قضا نمازیں بھی اس کے ذمے ہوں، تو وہ جس کو چاہے پہلے ادا کر سکتا ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

