حدیثِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 43

Hadith Of The Week - Volume 03 Issue 43
Last Updated: اکتوبر 27, 2026By Categories: حدیثِ ہفتہ0 Comments on حدیثِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 430 min readViews: 15

ہر سنی ہوئی بات بیان کرنا ضروری نہیں!

! ذرائع ابلاغ کی آگاہی کے بارے میں رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ کی رہنمائی

اس حدیث پر غور و فکر کی مناسبت: ۲۴ تا ۳۱ اکتوبر؛ عالمی ہفتۂ ذرائع ابلاغ و اطلاعاتی خواندگی 

تمہید

تاریخ کے مختلف ادوار میں دشمنوں نے لوگوں کی ذرائع ابلاغ کے بارے میں ناواقفیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جھوٹی داستانیں پھیلائی ہیں، تاکہ دینی رہنماؤں اور استعمار کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کی ساکھ کو نقصان پہنچائیں۔ آج سوشل میڈیا نے چند سیکنڈ میں معلومات پھیلانا ممکن بنا دیا ہے، چنانچہ یہی خطرہ ہماری روزمرہ زندگی کو بھی لاحق ہے۔ ایک جھوٹا پیغام، غیر مصدقہ خبر یا بے بنیاد الزام افراد، خاندانوں اور معاشروں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

چودہ سو سال سے بھی زیادہ پہلے رسولِ اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نہایت سادہ مگر انتہائی قیمتی تعلیم ارشاد فرمائی، جو آج بھی ہماری زندگی سے پوری طرح متعلق ہے:

رسول الله (صلى الله عليه وآله وسلم):

«كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِباً أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ»

کسی شخص کے جھوٹا شمار ہونے کے لئے  یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات آگے بیان کر دے۔

(بحار الانوار، جلد ۱۴، صفحہ ۴۹۴)

نوجوانوں اور جوانوں کے لئے  حدیث کے تربیتی پیغامات

1۔ ہر سنی ہوئی بات آگے بیان نہ کریں

غیر مصدقہ معلومات دہرانے سے آپ خود بھی غلط باتیں پھیلانے والوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔

عملی مشق: آج کسی ایک غیر مصدقہ واقعے کو آگے بیان کرنے سے گریز کریں۔ 

2۔ افواہیں پھیلانے والوں کی حوصلہ افزائی نہ کریں

غیبت اور افواہوں کو شوق سے سننا دوسروں کو مزید افواہیں پھیلانے کی ترغیب دے سکتا ہے۔

عملی مشق: جب کوئی افواہ پھیلانے لگے تو گفتگو کا موضوع بدل دیں۔ 

3۔ انٹرنیٹ پر نظر آنے والی ہر بات پر یقین نہ کریں

سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی ہر پوسٹ، ویڈیو یا پیغام ضروری نہیں کہ درست ہو۔

عملی مشق: کسی سوشل میڈیا دعوے کو ماننے سے پہلے اس کی صحت جانچیں۔

4۔ معلومات کی تصدیق کرنا سیکھیں

کسی بات کو حقیقت تسلیم کرنے سے پہلے اس کے ماخذ اور مضمون، دونوں کو پرکھیں۔

عملی مشق: کسی خبر کی صحت کسی معتبر ذریعے سے معلوم کریں۔ 

5۔ سچائی پر کبھی سمجھوتہ نہ کریں

سچ بولنا مقبولیت، ذاتی فائدے یا شرمندگی سے بچنے سے زیادہ اہم ہے۔

عملی مشق: ایک ہفتے تک ہر صورت حال میں، خواہ مشکل ہی کیوں نہ ہو، سچ بولیں۔ 

6۔ جو کچھ سنتے ہیں، اس کے انتخاب میں احتیاط کریں

جن لوگوں اور اکاؤنٹس کو آپ فالو کرتے ہیں وہ آپ تک پہنچنے والی معلومات کی نوعیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

عملی مشق: ایسے اکاؤنٹ کو اَن فالو کریں جو مسلسل افواہیں پھیلاتا ہو۔ 

7۔ کم بولیں، زیادہ غور کریں

کم اور سوچ سمجھ کر بولنے سے غلط یا نقصان دہ معلومات کی تکرار سے بچنا آسان ہوتا ہے۔

عملی مشق: اس ہفتے گزشتہ ہفتوں کی نسبت کم بولنے اور زیادہ غور کرنے کی کوشش کریں۔ 

8۔ شیئر کرنے سے پہلے چار سوال پوچھیں

کوئی بات آگے پہنچانے سے پہلے اس کا ماخذ، درست ہونے کی حیثیت، آپ سے اس کا تعلق اور دوسروں سے اس کی مناسبت جانچیں۔

عملی مشق: اگلی خبر شیئر کرنے سے پہلے یہ چاروں سوال خود سے پوچھیں۔ 

9۔ دوسروں کی عزت اور آبرو کی حفاظت کریں

کسی کی عزت و وقار کو تفریح یا مذاق کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔

عملی مشق: کسی کے بارے میں تحقیر آمیز مذاق یا افواہ پھیلانے سے گریز کریں۔ 

10۔ کہیے: "مجھے معلوم نہیں"

اپنی لاعلمی تسلیم کرنا غیر مصدقہ معلومات بیان کرنے سے بہتر ہے۔

عملی مشق: جس دعوے کی صحت جانچ نہ سکیں، اس کے متعلق کہیں: «مجھے معلوم نہیں»۔ 

11۔ غلط معلومات کی اصلاح کریں

اگر معلوم ہو جائے کہ آپ نے کوئی غلط بات نشر کی ہے تو ذمہ داری قبول کرکے اس کی تصحیح کریں۔

عملی مشق: پہلے بھیجے ہوئے کسی غلط پیغام کی اصلاح کریں۔ 

12۔ انٹرنیٹ کی افواہوں کا سلسلہ روکیں

غیر مصدقہ مواد آگے بھیجنے سے غلط بات سینکڑوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ آپ افواہ شروع کرنے والے نہ بھی ہوں، تب بھی اسے پھیلا کر دوسروں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

عملی مشق: کسی بھی پیغام کو فارورڈ یا دوبارہ شیئر کرنے سے پہلے اس کی صحت جانچیں۔ 

13۔ غصے میں کچھ شائع نہ کریں

غصہ ہمیں حقائق کی تحقیق کیے بغیر مواد شیئر کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔

عملی مشق: اگر کوئی پوسٹ آپ کو غصہ دلائے تو جواب دینے یا شیئر کرنے سے پہلے دس منٹ رکیں۔ 

والدین کے لئے  حدیث کے تربیتی پیغامات

1۔ بچوں کو سچائی کی قدر سکھائیں

بچوں کو سمجھنا چاہیے کہ سچ بولنا ذاتی فائدے یا مقبولیت سے بڑھ کر ہے۔

عملی مشق: آج بچوں سے سچائی کی اہمیت پر گفتگو کریں۔ 

2۔ بچوں کے غلطی تسلیم کرنے پر شفقت سے پیش آئیں

بچے جب سچائی کے ساتھ اپنی غلطی مانیں تو ان کی بات قبول کرنا اور معاف کرنا انہیں غلطی سے سیکھنے میں مدد دیتا ہے، نہ کہ حقیقت چھپانے میں۔

عملی مشق: بچہ اپنی غلطی تسلیم کرے تو سکون سے سنیں اور اصلاح میں مدد دیں۔ 

3۔ گھر کو غیبت اور تہمت سے پاک رکھیں

والدین گھر میں ایسا ماحول پیدا کریں جہاں افواہ بازی اور غیر مصدقہ الزام تراشی کی حوصلہ افزائی نہ ہو۔

عملی مشق: غیبت یا بے بنیاد الزام پر مبنی کسی گفتگو کو ختم کریں۔ 

4۔ خاندان میں «ٹھہرو اور تحقیق کرو» کا اصول اپنائیں

گھر کے افراد خاندانی گروپوں میں پیغامات فارورڈ کرنے سے پہلے ان کے ماخذ اور موضوع سے مناسبت کو جانچیں۔

عملی مشق: گھر والوں سے اتفاق کریں کہ پیغام شیئر کرنے سے پہلے اس کی صحت معلوم کریں گے۔ 

5۔ براہِ راست گفتگو کی ترغیب دیں

غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے  دوسروں کی سنی سنائی باتوں پر بھروسا کرنے کے بجائے متعلقہ شخص سے براہِ راست گفتگو بہتر ہے۔

عملی مشق: کسی غلط فہمی کو براہِ راست گفتگو سے دور کریں۔ 

6۔ خاموشی کی حکمت سکھائیں

والدین بچوں کو دکھائیں کہ ہر موضوع پر رائے دینا ضروری نہیں، بالخصوص جب معتبر اور کافی معلومات دستیاب نہ ہوں۔

عملی مشق: آج ایسے معاملے پر رائے دینے سے گریز کریں جس کے بارے میں آپ کم جانتے ہوں۔ 

7۔ افواہوں کی بنیاد پر فیصلے نہ کریں

خاندانی اور مالی فیصلے تصدیق شدہ حقائق پر ہونے چاہئیں، نہ کہ سنی سنائی باتوں یا بے بنیاد مشوروں پر۔

عملی مشق: کسی اہم مشورے پر عمل کرنے سے پہلے اس کی صحت معلوم کریں۔ 

8۔ اپنی غلطیاں مانیں اور درست کریں

غلط معلومات کی تصحیح بچوں کو دیانت داری کی اہمیت سکھاتی ہے۔

عملی مشق: اگر غلط خبر شیئر کی ہو تو اسی گروپ میں اس کی اصلاح بھیجیں۔ 

ائمۂ جماعت اور اساتذہ کے لئے  حدیث کے تربیتی پیغامات 

1۔ دینی روایات اور واقعات کی تحقیق کریں

دینی رہنماؤں اور اساتذہ کو روایات، واقعات اور غیر معمولی دعوے نقل کرنے سے پہلے ان کی صحت اور اعتبار کا اطمینان کرنا چاہیے۔

عملی مشق: اگلے خطبے یا درس سے پہلے کسی ایک روایت یا واقعے کی صحت جانچیں۔

2۔ دین کی ساکھ کی حفاظت کریں

غیر مصدقہ دینی دعوے، خصوصاً نوجوانوں میں، دینی تعلیمات پر عوامی اعتماد کمزور کر سکتے ہیں۔

عملی مشق: اپنی اگلی تقریر میں ہر قابلِ تحقیق دعوے کے شواہد جانچیں۔ 

3۔ سیاسی اور سماجی افواہیں پھیلانے سے بچیں

افراد یا عوامی معاملات کے بارے میں غیر مصدقہ دعوے پھیلانا لوگوں کی آبرو کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور سماجی کشیدگی بڑھا سکتا ہے۔

عملی مشق: کسی سیاسی یا سماجی دعوے کو اس وقت تک نہ دہرائیں جب تک اس کی صحت نہ جانچ سکیں۔ 

4۔ تصدیق اور ذمہ دارانہ گفتگو کا نمونہ بنیں

یہ تسلیم کرنا کہ کسی دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی، دوسروں کو دیانت اور محتاط ابلاغ کا درس دیتا ہے۔

عملی مشق: اگلے درس میں واضح کریں کہ معتبر حوالہ نہ ہونے کے باعث آپ فلاں دعویٰ کیوں نقل نہیں کریں گے۔ 

5۔ تنقیدی فکر کو فروغ دیں

طلبہ اور نمازیوں کو سیکھنا چاہیے کہ دعووں پر سوال اٹھائیں اور معلومات قبول کرنے سے پہلے شواہد دیکھیں۔

عملی مشق: سامعین سے پوچھیں  «اس دعوے کے حق میں کیا شواہد ہیں؟» اور «کیا اس کا ماخذ معتبر ہے؟» 

6۔ حقیقت اور ذاتی رائے میں فرق واضح کریں

لوگوں کو ثابت شدہ حقائق اور ذاتی آرا کے فرق سے واقف ہونا چاہیے۔

عملی مشق: سامعین سے کہیں کہ کسی خبر میں حقائق اور ذاتی آرا الگ الگ پہچانیں۔ 

7۔ معلومات جانچنے کا طریقہ سکھائیں

ذرائع کی تحقیق سیکھنے سے معاشرہ افواہوں اور جھوٹی خبروں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

عملی مشق: پانچ منٹ نکال کر طلبہ یا نمازیوں کو دکھائیں کہ کسی پیغام کی صحت کیسے پرکھی جاتی ہے۔ 

8۔ غلط معلومات کی ذمہ دارانہ اصلاح کریں

اصلاح اس انداز میں ہونی چاہیے کہ حقیقت واضح ہو، مگر اصل افواہ بلا ضرورت دوبارہ نہ پھیلے۔

عملی مشق: معاشرے میں رائج کسی غلط تصور کے بارے میں مختصر اور شواہد پر مبنی اصلاحی بیان شائع کریں۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔