فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 27
خمس
مراجعِ عظامِ تقلید شهید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی اور آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (دام عزّہم العالی) کے فتوؤں کے مطابق۔
نوٹ: اس پینل میں مسائل کا ذکر (بلا اختلاف یا حوالہ کےساتھ )
جومسائل بغیر کسی مخالف رائے یا خاص حوالہ کے ذکر کئے گئے ہیں، وہ تینوں بزرگ مراجع کے مشترک فتاوی ہیں۔ اور جہاں کسی ایک مرجع کا فتویٰ دوسرے دو سے مختلف ہو، وہاں اسی نمبر کے تحت اس مرجع کےنام کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔
ہبہ، انعام اور عیدی کا خمس
ہبہ،انعام اور تحفہ پر خمس واجب نہیں، اگرچہ احتیاطِ مستحب یہ ہے کہ اگر وہ سالانہ اخراجات سے زائد بچ جائے تو اس کا خمس ادا کیا جائے۔
آیت اللہ سیستانی: تجارت، صنعت، حرفت یا کسی بھی دھندے کے ذریعے حاصل ہونے والے منافع اور آمدنی، اسی طرح وہ رقم جو انسان کو بغیرکمائے حاصل ہو، جیسے تحفہ، وصیت، یا وہ مال جو اسے بخشا جائے یا مدد کے طور پر دیا جائے، اگر سالانہ اخراجات سے زائد بچ جائیں تو ان پر خمس واجب ہے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی: احتیاطِ واجب کی بنا پر، تحفہ، ہبہ اور اس جیسی چیزیں اگر خمس کے سال کے آخر تک باقی رہ جائیں تو ان پر خمس واجب ہے۔
نفقہ کا خمس
سوال 1: کیا وہ نفقہ جو انسان کسی رشتہ دار، مثلاً والد یا بھائی، سے دریافت کرتا ہے، تحفہ شمار ہوتا ہے؟
جواب: ہبہ اور تحفہ کا عنوان نفقہ دینے والے کی نیت پر موقوف ہے۔
سوال 2: اگر نفقہ دینے والے نے اپنے اموال کا خمس ادا نہ کیا ہو، تو کیا نفقہ لینے والے پر اس مال کا خمس ادا کرنا واجب ہے جو وہ وصول کرتا ہے؟
جواب: جب تک نفقہ لینے والے کو یقین نہ ہو کہ جو مال اسے دیا جا رہا ہے وہ خمس سے متعلق ہے، اس پر اس کا خمس ادا کرنا واجب نہیں۔
میراث اور مہر کا خمس
- میراث اور اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم پر خمس واجب نہیں، اگرچہ اس کی قیمت بڑھ گئی ہو؛ مگر یہ کہ اسے تجارت اور قیمت بڑھنے کی نیت سے محفوظ رکھا گیا ہو۔
- عورت کے مہر پر خمس واجب نہیں۔ مہر پر خمس واجب نہ ہونے میں کوئی فرق نہیں کہ مہر فوری ہو یا مؤخر، نقد رقم ہو یا کوئی چیز۔
بینک قرض یا ادھار کا خمس
قرض کی اس مقدار پر خمس واجب ہے جس کی قسطیں خمس کے سال کے اختتام تک کاروباری یا سالانہ آمدنی سے ادا کی گئی ہوں۔
بیمہ کا خمس
وہ رقم جو بیمہ کمپنیاں نقصان کے ازالے کے لیے بیمہ شدہ شخص کو ادا کرتی ہیں، اس پر خمس واجب نہیں۔
آیت اللہ سیستانی: وہ رقم جو بیمہ کمپنی سے حاصل ہوتی ہے،اگر خمس کے سال کے آخر تک زندگی کے اخراجات میں استعمال نہ ہو اور باقی رہ جائے، تو اس پر خمس واجب ہے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی: وہ رقم جو بیمہ کمپنی زرعی محصولات کو پہنچنے والے نقصان کے بدلے ادا کرتی ہے، اگر خمس کے سال کے آخر تک اس میں سے کچھ باقی رہ جائے تو اس پر خمس واجب ہے۔
بچت شدہ اموال کا خمس
سوال: کیا اس رقم پر خمس واجب ہے جو گھر یا دیگر ضروریاتِ زندگی خریدنے کے لیے تدریجاً بچائی جاتی ہے؟
جواب: اگر کسی شخص کی مالی حالت کے مطابق ضروریاتِ زندگی خریدنا سالانہ آمدنی کی بچت پر موقوف ہو، اور وہ ارادہ رکھتا ہو کہ اس بچی ہوئی رقم کو قریب مستقبل، مثلاً دو یا تین ماہ بعد، ضروریاتِ زندگی خریدنے میں صرف کرے گا، تو اس پر خمس واجب نہیں۔
آیت اللہ سیستانی: سالانہ آمدنی میں سے جو کچھ خمس کے سال کے آخر تک باقی رہ جائے، اس پر خمس واجب ہے، اگرچہ اسے گھر خریدنے یا گھریلو سامان خریدنے کے لیے الگ رکھا گیا ہو۔
آیت اللہ مکارم شیرازی: اگر عرفاً گھرکی ضروریات خریدنا اس تدریجی بچت کے بغیر ممکن نہ ہو، تو حاکمِ شرع کی اجازت سے، یا استفتاءات میں بیان شدہ موارد کے مطابق، عمل کیا جا سکتا ہے۔
گھریلو سامان کا خمس
وہ گھریلو سامان جس کے استعمال کے باوجود اس کی اصل باقی رہتی ہے، جیسے قالین وغیرہ، اس پر خمس واجب نہیں۔
لیکن روزمرہ استعمال کی چیزیں، جیسے چاول، تیل وغیرہ، اگر ان میں سے کچھ بچ جائے اور خمس کے سال کے آخر تک باقی رہے، تو اس پر خمس واجب ہے۔
دستگردان اور مصالحہ
سوال: جن لوگوں پر خمس واجب ہے لیکن انہوں نے اب تک ادا نہیں کیا، اور اس وقت اسے ادا کرنے کی توانائی نہیں رکھتے یا ان کے لیے بہت دشوار ہے، ان کا حکم کیا ہے؟
جواب: صرف خمس ادا کرنے کی ناتوانی یا دشواری، ذمہ داری سے بری ہونے یا تکلیف کے ساقط ہونے کا سبب نہیں بنتی؛ بلکہ ممکنہ حد تک اس کی ادائیگی واجب ہے۔
ایسے افراد ولیِّ امرِ خمس یا ان کے وکیل کے ساتھ اپنے خمس کے قرض کا دستگردان کر سکتے ہیں، پھر اپنی مالی استطاعت کے مطابق مقدار اور وقت کے لحاظ سے اسے تدریجاً ادا کر سکتے ہیں۔
آیت اللہ مکارم شیرازی:اگر خمس کو یک مشت ادا کرنا عسر و حرج کا سبب ہو، تو دفتر کی اجازت سے اسے قسطوں میں ادا کیا جا سکتا ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

