تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 17
بیداری کی آخری گونج
مدینہ کی گلیاں اب بھی تنہائی کی خوشبو سے مہک رہی تھیں۔ آلِ محمدؐ کے سچے سورج کے غروب کو کچھ عرصہ گزر چکا تھا، مگر اُن کے غم کا بوجھ اس قدر شہر کے سینے پر چھایا ہوا تھا کہ گویا سانس لینا بھی دشوار ہو گیا ہو۔ ابو بصیر، عصا کے سہارے اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ امامؑ کے گھر کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اُن کے ذہن میں بس ایک خیال تھا: اہلِ خانہ کو تسلی دینا اور اُس پاکیزہ حقیقت کی کوئی سرگوشی سننا ، جو اب زیر خاک ، آرام فرما ہوچکی تھی۔
جب ابو بصیر گھر میں داخل ہوئے تو اُن کی ملاقات اُمِّ حمیدہ سے ہوئی، جو باوقار خاتون اور امام کاظمؑ کی معزز والدہ تھیں۔ گھر کا ماحول گہرے سکوت میں ڈوبا ہوا تھا—ایسا سکوت جو اچانک اُمِّ حمیدہ کے دبے ہوئے غم کے پھٹ پڑنے سے ٹوٹ گیا۔ اُن کی سسکیوں میں ایسی سوزش تھی کہ ابو بصیر بھی بے اختیار روپڑے؛ گویا اُن آنسوؤں میں کوئی ان کہی حقیقت پوشیدہ تھی۔
اُمِّ حمیدہ نے آنسو پونچھتے ہوئے ابو بصیر کی طرف رخ کیا اور ایک ایسے لہجے میں فرمایا جو کسی ابدی یاد کی خبر دے رہا تھا:
"اے ابو بصیر! کاش تم یہاں ہوتے… کاش تم اُن آخری لمحوں میں امامؑ کی آواز کی روحانی لرزش سنتے اور وہ منظر دیکھتے جس کی مثال تاریخ کبھی نہ دے سکے گی۔”
ابو بصیر ہمہ تن گوش ہو گئے۔ اُمِّ حمیدہ نے بات جاری رکھی:
"جب اُن کی مبارک جان آخری لمحوں میں تھی، تو اچانک اُنہوں نے آنکھیں کھولیں—گویا کوئی نامکمل ذمہ داری تھی جسے آخری لمحوں میں پورا کرنا تھا۔ پھر فرمایا: میرے تمام رشتہ داروں اور قرابتداروں کو جمع کرو۔”
یہ سن کر اہلِ خانہ میں ہلچل مچ گئی۔ سب جلدی سے آئے اور امامؑ کے بستر کے اردگرد جمع ہو گئے۔ مکمل خاموشی چھا گئی۔ امامؑ نے ایک گہری اور اثر انگیز نگاہ سے سب کو دیکھا۔ سب کو گمان تھا کہ شاید مال یا گھریلو امور کے بارے میں کوئی وصیت فرمائیں گے، لیکن اُس حساس لمحے میں امام جعفر صادقؑ نے "تشیع کی سرحد” واضح کر دی اور فرمایا:
"إِنَّ شَفَاعَتَنَا لَا تَنَالُ مُسْتَخِفًّا بِالصَّلَاةِ؛”
"بے شک ہماری شفاعت اُس شخص کو نہیں پہنچے گی جو نماز کو ہلکا سمجھے۔”
یہ کلمات ہدایت کے آخری تیر تھے—ایسا پیغام جس نے واضح کر دیا کہ اہلِ بیتؑ سے نسبی قربت بھی، اگر دین کے ستون (نماز) کی پاسداری نہ ہو، تو نجات کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
اس تبلیغی تجربے سے حاصل ہونے والے چند اسباق
1۔ پیغام میں ترجیح کا تعین (وقت کی پہچان):
ایک کامیاب مبلغ جانتا ہے کہ حساس ترین لمحات (جیسے آخری وقت یا رخصتی) میں غیر ضروری باتوں کی گنجائش نہیں ہوتی؛ بلکہ سب سے اہم اصول (نماز) کو اسی سنہرے وقت میں بیان کرنا چاہیے تاکہ وہ دلوں میں نقش ہو جائے۔
2۔ شفاعت کی حدود کو واضح کرنا:
عامیانہ تصور کے برعکس کہ شفاعت عمل میں کوتاہی کا جواز ہے، اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اہلِ بیتؑ کی شفاعت اصولوں کے تحت ہے۔ ایک مبلغ کو چاہیے کہ وہ اعتدال کے ساتھ یہ واضح کرے کہ اس فضل سے فائدہ اٹھانے کی شرط "فرائض کی پاسداری” ہے۔
3۔ اپنے قرابت داروں سے تبلیغ کا آغاز:
امامؑ نے اس اہم پیغام کے لئے سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں کو جمع کیا۔ یہ ثقافتی و دینی کارکنوں کے لئے ایک بڑا درس ہے کہ اصلاح اور نصیحت کا آغاز اپنے گھر اور قریبی افراد سے ہونا چاہیے تاکہ دوسروں کے لئے ایک عملی نمونہ قائم ہو۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

