موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 33
توحید کے حصار سے احیائے امر کی ذمہ داری تک ۔
امام رضا علیہ السلام کی دو بنیادی تعلیمات کا باہمی ربط
سید ہاشم موسوی
مقدمہ
حضرت امام رضا علیہ السلام کے آستانۂ مقدس سے منقول روایتی خزانے میں دو نمایاں احادیث ایسی ہیں جو ہمیشہ محققین، خطباء اور مفکرین کی خصوصی توجہ کا مرکز رہی ہیں۔
پہلی حدیث سلسلۃ الذہب ہے، جو علمِ کلام اور اعتقادی معارف کے میدان میں ایک بنیادی روایت ہے۔ اس میں توحید کو اللہ تعالیٰ کے محفوظ قلعے کے طور پر بیان کیا گیا ہے اوراس قلعے میں داخل ہونے اور توحید کی سلامتی کی بنیادی شرط ولایت و امامت کے سامنے قبولیت اور فرمانبرداری کو قرار دیا گیا ہے۔
دوسری حدیث احیائے امر ہے، جو ثقافت، معاشرت اور دینی تبلیغ کے میدان میں ایک حکمتِ عملی پر مبنی روایت ہے۔ اس میں مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کی تجدیدِ حیات کا اہم ترین طریقہ اہل بیت کے علوم سیکھنا اور لوگوں کے سامنے ان کے کلام کی خوبیاں اور محاسن بیان کرنا بتایا گیا ہے۔اس کے باوجود تحقیقی ادب اور دینی حلقوں کےطرزِ فکر کا جائزہ بتاتا ہے کہ ان دونوں روایات کو عموماً ایک دوسرے سے جدا اور ان کے باہمی تعلق سے صرفِ نظر کرتے ہوئے زیرِ بحث لایا گیا ہے۔پہلی روایت کو علمِ کلام اور امامت کے اثبات کے مقام پر، جبکہ دوسری روایت کو تبلیغی مناسبتوں اور ثقافتی سرگرمیوں کی ترغیب کے مقام پر دیکھا گیا ہے۔
اس مضمون کا بنیادی سوال یہ ہے کہ حدیثِ سلسلۃ الذہب کی کلامی تعلیم اور حدیثِ احیائے امر کی ثقافتی حکمتِ عملی کے درمیان کس طرح ایک منظم تعلق قائم کیا جاسکتا ہے، اور یہ امتزاج عصرِ حاضر کے انسان اور معاشرے کے لئے کون سا نظری اور عملی نمونہ پیش کرتا ہے؟ کیا ان دونوں ارشادات کے درمیان اس سے زیادہ گہرا تعلق موجود نہیں؟
کیا حدیثِ احیائے امر کو حدیثِ سلسلۃ الذہب کا عملی اور اجتماعی تسلسل قرار نہیں دیا جاسکتا؟
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں احادیث ایک ہی مجموعۂ معارف کے دو حصے ہیں اور ان کے درمیان ایک طولی اور تحقق پذیر تعلق ہے:
سلسلۃ الذہب حقیقت اور منزلِ مقصود متعارف کراتی ہے، جبکہ حدیثِ احیائے امر معاشرے کو اس منزل تک پہنچانے کا راستہ دکھاتی ہے۔
پہلی حدیث نظامِ ہدایت میں امام کے مقام کے بارے میں گفتگو کرتی ہے، جبکہ دوسری حدیث اس ہدایت کو جاری رکھنے میں امام کے پیروکاروں کی ذمہ داری بیان کرتی ہے۔
توحید؛ وہ قلعہ جس میں داخل ہونا ضروری ہے
سنہ ۲۰۰ ہجری میں امام رضا علیہ السلام مدینہ سے مرو کی طرف سفر کر رہے تھے۔ جب آپ نیشاپور پہنچے تو محدثین اور علماء کا ایک گروہ آپ کی سواری کے گرد جمع ہوا اور درخواست کی کہ شہر سے روانہ ہونے سے پہلے انہیں کوئی حدیث بیان فرمائیں۔
امام نے حدیث کے راویوں کی زنجیر ایک ایک کرکے بیان فرمائی؛ اپنے بزرگوار والد امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جبرئیل تک، پھر خداوند متعال کی طرف سے فرمایا:
«كَلِمَةُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ حِصْنِي، فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِي أَمِنَ مِنْ عَذَابِي»
’’کلمۂ لا الٰہ الا اللہ میرا قلعہ ہے؛ پس جو میرے قلعے میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سے محفوظ ہوگیا۔‘‘
قافلہ چل پڑا، لیکن امام رضا علیہ السلام نے دوبارہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کی اور فرمایا:
«بِشُرُوطِهَا وَأَنَا مِنْ شُرُوطِهَا»
’’البتہ اس کی شرائط کے ساتھ، اوراس کی شرائط میں سے ایک شرط میں ہوں۔‘‘
(صدوق، التوحید، ۱۳۸۹ق، ص ۲۵)
لفظ ’’حصن‘‘ کا انتخاب بہت معنی خیز ہے۔ حصن محض کوئی نظریہ یا ذہنی قضیہ نہیں؛ بلکہ ایسا قلعہ ہے جس میں داخل ہونا ضروری ہے۔ممکن ہے کوئی شخص کسی قلعے کے بارے میں بہت زیادہ معلومات رکھتا ہو، اس کا نقشہ جانتا ہو اور اس کی مضبوط دیواروں کے بارے میں گفتگو کرتا ہو، لیکن جب تک وہ اس میں داخل نہ ہو،اس کی حفاظت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اسی طرح توحید بھی صرف یہ تسلیم کرنا نہیں کہ دنیا کا ایک خالق ہے۔ بہت سےوہ لوگ جو انبیاء کےمقابل کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کا انکار نہیں کرتے تھے۔ قرآن کریم مشرکین کے بارے میں فرماتا ہے:
وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ
اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور کہیں گے: اللہ نے۔
(سورۂ لقمان، ۳۱:۲۵)
ان کا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ وہ اللہ کو خالق نہیں مانتے تھے؛ مسئلہ یہ تھا کہ انہوں نے حاکمیت، اطاعت اور اپنی زندگی کی سمت اللہ تعالیٰ کے سپرد نہیں کی تھی۔ اس لئے نجات بخش توحید صرف ’’جاننے‘‘ اورحتیٰ کہ ’’کہنے‘‘ کا نام نہیں؛ بلکہ اللہ کی بندگی کے دائرے میں داخل ہونے اوراس کے تمام تقاضوں کو قبول کرنے کا نام ہے۔
توحید کی شرائط کیوں ہیں؟
امام رضا علیہ السلام توحید کو اللہ کا حصن قرار دینے کے فوراً بعد اس کی ’’شرائط‘‘ کا ذکر فرماتے ہیں۔
یہ تعبیر انسان کو توحید کو ایک آسان اور بے قیمت دعوے میں تبدیل کرنے سے روکتی ہے۔
’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو تخلیق،قانون سازی، حاکمیت اور ہدایت کی راہ متعین کرنے میں مستقل اختیار حاصل نہیں۔
اگر اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لئے کسی نبی کو منتخب کیا ہے تو اس نبی کو قبول کرنا توحید کی شرائط میں سے ہے۔
اور اگر نبی نے اللہ کے حکم سے اس راستے کو جاری رکھنے کے لئے امام اور حجت کا تعارف کرایا ہے تو اس امام کو قبول کرنا بھی اسی اطاعتِ خدا کے تسلسل میں آتا ہے۔
امامت؛ توحید کی حفاظت اور ہدایت کا راستہ
امام کی اطاعت کسی شخصی محبت کی بنیاد پر کسی شخصیت کی اطاعت نہیں؛ بلکہ ایسے رہنما کی ہدایت کو قبول کرنا ہے جس کی مشروعیت خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو۔
قرآن کریم فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ
اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے صاحبانِ امر کی اطاعت کرو۔
(سورۂ نساء، آیت59)
لہٰذا امامت توحید کی حریف نہیں، بلکہ توحید کو تحریف اور انحراف سے محفوظ رکھنے کا راستہ ہے۔
امام، توحید کو ایک عمومی اور مختلف تفسیروں کے قابل تصور سے نکال کر زندگی کے لئے ایک واضح پروگرام میں تبدیل کرتا ہے۔
امام کی ہدایت کے بغیر ممکن ہے ہر طاقت اور ہر تحریک اپنی تعبیر کو خدا کے نام پر پیش کرے اور حتیٰ کہ ظلم، دنیا طلبی اور اقتدار پرستی کو دین کا لباس پہنا دے۔ شاید امام رضا علیہ السلام کے امامت کو ’’شرط‘‘ قرار دینے کی تاکید کا راز بھی یہی ہے: سب اللہ کی بات کرتے ہیں، لیکن ہر راستہ اللہ تک نہیں پہنچاتا۔ منزلِ الٰہی تک پہنچنے کے لئے وہ راستہ اختیار کرنا ضروری ہے جسے خود خداوندِ متعال نے مقرر کیا ہے۔
اگر امام ہدایت کی شرط ہیں تو بعد کی نسلیں ان سے کیسے وابستہ ہوں گی؟
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر امام توحید کے حصن میں داخل ہونے کی شرائط میں سے ہیں تو وہ لوگ جو دوسرے زمانوں اور دوسری سرزمینوں میں رہتے ہیں، امام کو کیسے پہچانیں گے اور ان کے راستے پر کیسے چلیں گے؟
امام کا پیغام نیشاپور، مدینہ اور مرو سے گزر کر آنے والی نسلوں تک کیسے پہنچے گا؟
حدیثِ احیائے امر کو امام رضا علیہ السلام کی طرف سے اسی سوال کا جواب قرار دیا جاسکتا ہے۔
عبدالسلام بن صالح ہروی، معروف بہ اباصلت، امام رضا علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں:
«رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا أَحْيَا أَمْرَنَا»
’’اللہ اس بندے پر رحم کرے جو ہمارے امر کو زندہ کرے۔‘‘
اباصلت پوچھتے ہیں:
«كَيْفَ يُحْيِي أَمْرَكُمْ؟»
’’آپ کے امر کو کیسے زندہ کرے؟‘‘
حضرت فرماتے ہیں:
«يَتَعَلَّمُ عُلُومَنَا وَيُعَلِّمُهَا النَّاسَ، فَإِنَّ النَّاسَ لَوْ عَلِمُوا مَحَاسِنَ كَلَامِنَا لَاتَّبَعُونَا»
’’ہمارے علوم سیکھے اور انہیں لوگوں کو سکھائے؛ کیونکہ اگر لوگ ہمارے کلام کی خوبیاں جان لیں تو وہ ہماری ضرور پیروی کریں گے۔‘‘
(عیون اخبار الرضا، جلد ۱، صفحہ ۲۴۰)
یہ حدیث درحقیقت امام اور آنے والی نسلوں کے درمیان رابطے کی کڑی کو بیان کرتی ہے۔
امام سرچشمۂ ہدایت ہے؛ لیکن ان کے باشعور، امانت دار اور باصلاحیت پیروکاروں کو یہ ہدایت معاشرے تک پہنچانا چاہیے۔
اگر امام کے علوم نہ سیکھے جائیں، اگر انہیں صحیح طور پر نہ سمجھا جائے اور اگر مناسب زبان میں لوگوں تک نہ پہنچایا جائے تو ممکن ہے امام کا نام مشہور ہو، لیکن ان کا ’’امر‘‘ معاشرے میں مہجور اور فراموش شدہ رہے۔
روایت کے زرّین سلسلے سے ہدایت کی زندہ تسلسل تک
حدیثِ سلسلۃ الذہب ایک نورانی تسلسل سے ہمیں ملاتی ہے۔
حقیقت کا اعلان ،اللہ تعالیٰ سے شروع ہوتا ہے؛ جبرئیل اسے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچاتے ہیں؛ رسول اللہ اسے امیرالمؤمنین علیہ السلام تک پہنچاتے ہیں اور ہر امام اپنے بعد والے امام تک منتقل کرتا ہے، یہاں تک کہ یہی حقیقت امام رضا علیہ السلام کی زبانِ مبارک سے نیشاپور کے لوگوں کے کانوں تک پہنچتی ہے۔
یہ وحی کے سرچشمے سے امام تک حقیقت کی منتقلی کا بلا فصل تسلسل ہے۔
حدیثِ احیائے امر ہمارے سامنے ایک دوسرے سلسلے کو پیش کرتی ہے:
امام کے پیروکار، ان کے علوم کو سیکھتے ہیں؛ انہیں لوگوں کو سکھاتے ہیں؛ لوگ اہل بیت علیہم السلام کے کلام کی خوبیاں جانتے ہیں اور نتیجتاً ان کے راستے کو اختیار کرتے ہیں۔
لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ حدیثِ احیائے امر، حدیثِ سلسلۃ الذہب کا سماجی تسلسل ہے۔
روایت کی یہ سنہری زنجیر امام پرختم نہیں ہوتی؛ بلکہ علماء، مبلغین، مصنفین، اساتذہ، والدین اور اہل بیت علیہم السلام کے تمام باشعور پیروکاروں کے ذریعے ایک زندہ زنجیرِ ہدایت میں تبدیل ہونی چاہیے۔
البتہ امام کے بعد کوئی شخص عصمت اور ذاتی حجیت کے مقام پر نہیں آتا۔ پیروکاروں کی ذمہ داری یہ نہیں کہ امام کے کلام میں اپنی طرف سے کچھ اضافہ کریں یا اپنی ذاتی رائے کو امام کی طرف منسوب کریں؛ بلکہ ذمہ داری یہ ہے کہ امام کے معارف کو سیکھیں، سمجھیں اور امانت داری کے ساتھ دوسروں تک پہنچائیں۔
احیائے امر کا آغاز سیکھنے سے ہوتا ہے
حدیثِ احیائے امر میں امام کے الفاظ کی ترتیب بہت دقیق ہے۔ حضرت پہلے فرماتے ہیں:
«يَتَعَلَّمُ عُلُومَنَا» یعنی ’’ہمارے علوم سیکھے‘‘۔ اس کے بعد فرماتے ہیں: «وَيُعَلِّمُهَا النَّاسَ» ’’اور انہیں لوگوں کو سکھائے‘‘۔
دینی معارف کو ہمیشہ درپیش خطرات میں سے ایک خطرہ یہی ہے کہ انسان سیکھنے سے پہلے بولنا شروع کردے۔
کبھی لوگ دین اور اہل بیت علیہم السلام کے دفاع کی نیت سے غلط، کمزور یا تحریف شدہ مطالب نشر کردیتے ہیں۔
ایسا کام بظاہر دینی ہوسکتا ہے، لیکن یہ احیائے امر نہیں؛ کیونکہ احیائے امر ’’علومنا‘‘ کے ذریعے تحقق پاتا ہے، ہر اس بات کے ذریعے نہیں جو اہل بیت علیہم السلام کی طرف منسوب کردی جائے۔
مکتبِ امام رضا علیہ السلام کا مبلغ بولنے والا بننے سے پہلے طالبِ علم ہونا چاہیے؛ دوسروں کو مخاطب کرنے سے پہلے اسے خود قرآن، حدیث اور اہل علمِ شایستہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنا چاہیے۔
وہی شخص امام کے پیغام کو زندہ کرسکتا ہے جس نے پہلے اس پیغام کو اپنے عقل و جان کو زندہ کرنے کی اجازت دی ہو۔
لہٰذا احیائے امر محض ایک میڈیا سرگرمی نہیں؛ بلکہ ایک معرفتی اور تربیتی عمل ہے۔
انسان پہلے سیکھتا ہے، پھر سیکھی ہوئی چیز کے مطابق زندگی گزارتا ہے اور اس کے بعد اسے صداقت اور بصیرت کے ساتھ دوسروں تک پہنچاتا ہے۔
’’محاسنِ کلام‘‘ کیوں؟
امام رضا علیہ السلام یہ نہیں فرماتے کہ اگر لوگ صرف ہمارا نام، نسب یا فضائل سن لیں تو ہماری پیروی کریں گے؛ بلکہ فرماتے ہیں کہ اگر لوگ ’’ہمارے کلام کے محاسن‘‘ کو جان لیں تو ہماری پیروی کریں گے۔
یہ تعبیر ظاہر کرتی ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات اپنی ذات میں خوبصورتی اور کشش رکھتی ہیں۔
عقلانیت، عدل پسندی، انسانی کرامت، اعتدال، روحانیت، مظلوم کا دفاع، اخلاق، خاندان، اجتماعی ذمہ داری اور انسان کا اللہ کے ساتھ گہرا تعلق، سب اس مکتب کی خوبیوں میں شامل ہیں۔
اگر اس پورے نظام کو صحیح انداز میں متعارف کرایا جائے تو صحت مند فطرتیں اس سے اجنبیت محسوس نہیں کریں گی۔
دوسری طرف ’’محاسن کلامنا‘‘ پر زور مبلغ کے کندھوں پر ایک بڑی ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے۔
کسی حقیقت کی خوبصورتی غلط انداز میں پیش کیے جانے کے سبب چھپ سکتی ہے۔ ممکن ہے کوئی حکمت بھری بات نامناسب زبان، سخت رویے، کمزور دلیل یا تحقیر آمیز طریقے سے پیش کی جائے اور مخاطب مکتب کی خوبصورتی دیکھنے کے بجائے مقرر کی کمزوری سے دوچار ہوجائے۔
اہل بیت کے امر کو زندہ کرنا صرف ان کے اقوال نقل کرنا نہیں؛ بلکہ ان اقوال کی خوبصورتیوں کو آشکار کرنا ہے۔
اس کے لئے مواد میں امانت داری کے ساتھ ساتھ مخاطب کی شناخت، مناسب زبان کا انتخاب، زمانے کے سوالات کا جواب اور اچھے اخلاق بھی ضروری ہیں۔
امام کے مخاطب صرف شیعہ نہیں ہیں
حضرت فرماتے ہیں: «وَيُعَلِّمُهَا النَّاسَ» یعنی ہمارے علوم ’’لوگوں‘‘ کو سکھائے۔
حدیث میں ’’الناس‘‘ کی تعبیر اس کے دائرے کو ایک محدود گروہ سے آگے بڑھا دیتی ہے۔
اہل بیت علیہم السلام کے معارف صرف ان کے پیروکاروں کے داخلی اتحاد کو برقرار رکھنے کے لئے نہیں؛ بلکہ تمام انسانوں کے لئے پیغام ہیں۔ یہ بات خاص طور پر امام رضا علیہ السلام کی سیرت میں واضح ہے۔
آپ مختلف ادیان کے علماء، متکلمین، مختلف مکاتبِ فکر کے صاحبان اور مختلف سوال کرنے والوں سے گفتگو فرماتے تھے اور استدلال، اخلاق اور احترام کے ساتھ حقیقت کی وضاحت کرتے تھے۔
امام کا طریقہ جبر اور شور و غوغا نہیں تھا؛ بلکہ حقیقت کو اس انداز سے آشکار کرنا تھا کہ مخاطب کی عقل خود اس کے بارے میں فیصلہ کرسکے۔
حدیث کا یہ جملہ: «لَوْ عَلِمُوا مَحَاسِنَ كَلَامِنَا لَاتَّبَعُونَا»
یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ لوگوں کے اہل بیت سے دور ہونے کی ایک وجہ انہیں نہ جاننا یا ناقص اور تحریف شدہ روایات کے ذریعے جاننا ہے۔
لہٰذا احیائے امر کا مطلب جہالت کے محاصرے کو توڑنا اور اہل بیت کے مکتب کی صحیح تصویر لوگوں تک پہنچانا ہے۔
ممکن ہے امام کا نام زندہ ہو، لیکن ان کا امر مہجور رہے
کسی امام کے لئے مجلس منعقد کی جاسکتی ہے، ان کے فضائل بیان کیے جاسکتے ہیں، ان کی زیارت کی جاسکتی ہے اور ان کی شہادت پر گریہ کیا جاسکتا ہے؛ لیکن اسی وقت ان کی تعلیمات کو صحیح طور پر نہ سمجھا جائے اور زندگی میں نافذ نہ کیا جائے۔ اس صورت میں امام کا نام تو زندہ ہے، لیکن ان کا ’’امر‘‘ ابھی مکمل طور پر زندہ نہیں ہوا۔
احیائے امر اس وقت تحقق پاتا ہے جب محبت معرفت میں، معرفت پیروی میں، اور پیروی ذمہ داری میں تبدیل ہوجائے۔
زیارت انسان کو معرفت کے قریب لے جائے؛ معرفت اطاعت و پیروی تک پہنچائے؛ اور پیروی ہمیں معاشرے میں امام کے پیغام کے حاملین میں تبدیل کردے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ زیارت، عزاداری اور اظہارِ محبت کی اہمیت کم ہے۔ یہ اعمال شیعہ معاشرے کے عظیم ترین روحانی سرمایہ میں سے ہیں؛ لیکن امام رضا علیہ السلام کی مظلومیت پر آنسو اس وقت پختگی تک پہنچتے ہیں جب انسان کو آپ کی فکر کی غربت اور آپ کی تعلیمات کی مہجوریت کے بارے میں بھی حساس بنادیں۔
امام کے محب سے امام کے پیغام کے حامل تک
ان دونوں احادیث کا مجموعہ امام رضا علیہ السلام کے حقیقی پیروکار کی ایک جامع تصویر پیش کرتا ہے۔
حقیقی پیروکار صرف وہ شخص نہیں جو امام کی امامت پر اعتقاد رکھتا ہو؛ بلکہ وہ ہے جو امام کے ذریعے حصنِ توحید میں داخل ہونے کی کوشش کرے اور دوسروں کو بھی اس راستے سے آشنا کرے۔
حدیثِ سلسلۃ الذہب کہتی ہے کہ امام کی ہدایت قبول کئے بغیر توحید ناقص اور منحرف تعبیرات کے خطرے میں رہتی ہے۔
حدیثِ احیائے امر کہتی ہے کہ باشعور پیروکاروں کی کوشش کے بغیر یہ ہدایت لوگوں اور آنے والی نسلوں تک نہیں پہنچے گی
لہٰذا امام رضا علیہ السلام کے ساتھ ہمارے تعلق کے تین مراحل ہیں:
پہلا: امام کو خدا کی طرف سے مقرر کردہ حجت اور رہنما کی حیثیت سے پہچاننا۔
دوسرا: ان کے علوم اور ان کے مکتب کی خوبیاں سیکھنا۔
تیسرا: ان معارف کو علمی، سچے اور دلکش انداز میں لوگوں تک منتقل کرنا۔
اگر ہم محبت کے مرحلے ہی پر رک جائیں تو ہم نے امام کے ساتھ اپنے تعلق کی تمام صلاحیتوں کو فعال نہیں کیا۔
محبت حرکت کا نقطۂ آغاز ہے، اختتام نہیں۔
امام کا حقیقی محب ان کی فکر سیکھتا ہے، ان کی سیرت کو اپنی زندگی میں جاری کرتا ہے اور ان کے پیغام کو دوسروں تک پہنچاتا ہے۔
اختتامی کلام
حدیثِ سلسلۃ الذہب انسان کو حصنِ توحید میں داخل ہونے کی دعوت دیتی ہے اور امام کو اس دخول کی شرائط میں سے ایک قرار دیتی ہے۔
حدیثِ احیائے امر یہ بتاتی ہے کہ آنے والی نسلوں کے لئے اس حصن کا دروازہ کس طرح کھلا رکھا جائے: اہل بیت علیہم السلام کے علوم سیکھنا، انہیں لوگوں کو سکھانا اور ان کے کلام کی خوبصورتیوں کو آشکار کرنا۔
پہلی حدیث امام کی مرجعیت اور مقام کو بیان کرتی ہے، جبکہ دوسری حدیث امت کی ذمہ داری کو واضح کرتی ہے۔
ایک حدیث کہتی ہے کہ خالص توحید تک پہنچنے کے لئے امام کے راستے سے گزرنا ضروری ہے، اور دوسری کہتی ہے کہ اس راستے کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے امام کے پیغام کو سیکھنا اور دوسروں تک پہنچانا ضروری ہے۔
اس بنا پر امام رضا علیہ السلام کے امر کو زندہ کرنا دراصل معاشرے کی فکر، اخلاق اور زندگی میں توحید کے تسلسل کے سوا کچھ نہیں۔آپ علیہ السلام کی شہادت کی یاد منانا بھی صرف ماضی میں ایک امام کی مظلومیت کو یاد کرنا نہیں؛ بلکہ موجودہ زمانے میں ان کے راستے کو زندہ رکھنے کے لئے نئے سرے سے عہد کرنا ہے۔
امام رضا علیہ السلام نے نیشاپور میں توحید کے قلعے کا دروازہ دکھایا اور حدیثِ احیائے امر میں اپنے پیروکاروں کے ذمے یہ ذمہ داری رکھی کہ وہ اس راستے کو لوگوں کے لئے کھولیں۔
اب بنیادی سوال یہ نہیں کہ ہم امام ا رضا علیہ السلام سے کتنی محبت کرتے ہیں؛ بلکہ یہ ہے کہ ہم نے ان کے علوم سے کیا سیکھا ہے، ان کے راستے کی کتنی پیروی کی ہے، اور ان کے کلام کی خوبصورتیوں سے لوگوں کو آشنا کرنے کے لئے ہم نے کیا کیا ہے؟
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

