موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 39
قرآن میں سیاحت؛ زمین کے مشاہدے سے انسان کی بیداری تک
سید ہاشم موسوی
مقدمہ
عالمی یومِ سیاحت کے موقع پر سفر کو محض جغرافیائی نقل و حرکت، آرام و تفریح کا ذریعہ یا اقتصادی ترقی کا وسیلہ سمجھنے کے بجائے، اسے انسان کے لئے دنیا اور خود اپنی ذات کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے کا ایک موقع بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ قرآنِ کریم کی نگاہ میں زمین میں سیر و سیاحت دراصل بصیرت اور بیداری کی ایک بنیادی دعوت ہے؛ ایسی دعوت جو انسان کو زمین کی وسعتوں میں اللہ کی نشانیوں، قوموں کے انجام اور انسانی زندگی پر حاکم قوانین کا مشاہدہ کرنے اور ان سے سبق حاصل کرنے کی طرف بلاتی ہے۔
اس نگاہ میں بیرونی دنیا، انسان کی اندرونی دنیا کو بیدار کرنے والا ایک آئینہ ہے۔ قرآنی مسافر صرف مختلف مقامات سے نہیں گزرتا، بلکہ غفلت، غرور اور عادت کی تہوں سے بھی عبور کرتا ہے اور ہر قدم کے ساتھ خدا، انسان اور اپنی ذمہ داری کے بارے میں ایک نئی معرفت کے قریب ہوتا جاتا ہے۔
اسی لئے قرآنی ثقافت میں سیاحت ایک طرف دیکھنے کا طریقہ ہے اور دوسری طرف بیدار ہونے کا راستہ؛ یہ بیک وقت جغرافیہ میں سفر بھی ہے اور معرفت و ذمہ داری کی طرف ایک باطنی حرکت بھی۔
قرآن میں سفر؛ دیکھنے اور غور کرنے کا حکم
قرآن کی آیات میں سفر محض ایک ضمنی نصیحت نہیں، بلکہ سکون و جمود سے نکل کر مشاہدے اور غور و فکر کے میدان میں قدم رکھنے کی دعوت ہے۔ تعبیر «سِيرُوا فِي الْأَرْضِ» انسان کو حرکت کرنے کا حکم دیتی ہے، لیکن یہ حرکت اسی وقت قرآنی بن جاتی ہے جب اس کے ساتھ نظر، غور اور تدبر بھی موجود ہو۔ قرآن فرماتا ہے:
«قل سیروا فی الارض فانظروا کیف بدأ الخلق»
“کہہ دیجیے: زمین میں سیر و گردش کرو اور دیکھو کہ اللہ نے آفرینش کا آغاز کس طرح کیا ہے۔”
(سورۂ عنکبوت، آیت 20)
یہ آیت بتاتی ہے کہ زمین، آفرینش کی معرفت حاصل کرنے کے لئے ایک درس گاہ ہے؛ ایسی درس گاہ جس کا سبق حرکت سے شروع ہوتا ہے اور غور و فکر کے ذریعے نتیجے تک پہنچتا ہے۔
قرآن کا دیکھنے پر زور صرف ظاہری مشاہدے تک محدود نہیں، بلکہ وہ دل کو بھی سمجھنے اور ادراک کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اسی لئے قرآن فرماتا ہے:
«أفلم یسیروا فی الارض فتکون لهم قلوب یعقلون بها…»
“کیا وہ زمین میں سیر و سفر نہیں کرتے تاکہ ان کے ایسے دل ہوں جن کے ذریعے وہ سمجھیں اور عقل سے کام لیں؟”
(سورۂ حج، آیت 46)
یہ آیت یاد دلاتی ہے کہ انسان کا اصل مسئلہ کبھی سفر کی کمی نہیں، بلکہ بیدار دل اور عبرت حاصل کرنے والی عقل کی کمی ہے۔ ممکن ہے کوئی شخص بہت سی مسافتیں طے کرے، لیکن کسی نشانی سے حقیقی طور پر نہ گزرے؛ اور ممکن ہے کوئی انسان صرف ایک نشانی دیکھ کر حقیقت کی طرف ایک نئی کھڑکی کھول لے۔
اس قرآنی حکم کے کئی مراحل ہیں: مانوس ماحول کے دائرے سے باہر نکلنا، آفاقی نشانیوں کو دیکھنا، گزشتہ اقوام کے انجام کو پڑھنا، ان مشاہدات کو اپنے باطن میں اتارنا، اور پھر ایک نئی نگاہ کے ساتھ واپس لوٹنا۔
مسافر اپنے سفر میں فطرت کی عظمت، تباہ شدہ تہذیبوں کے آثار، پہاڑوں کی ہیبت اور صحراؤں کی خاموشی کو دیکھتا ہے، اور انہی کے درمیان اپنی کمزوری اور فنا پذیری کا بھی احساس کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاحت تفریح سے بصیرت پر مبنی عبادت میں، دیکھنے سے جاننے میں، اور جاننے سے فروتنی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
پس اگر قرآن سفر کا حکم دیتا ہے تو اس لئے نہیں کہ انسان صرف اپنا مقام تبدیل کرے، بلکہ اس لئے کہ وہ کائنات میں اپنے حقیقی مقام کو پہچانے۔ یہ حکم ہر راستے کو ایک آیت، ہر ویرانے کو ایک نصیحت اور ہر افق کو خدا اور خود اپنی ذات کی معرفت کا آئینہ بنا دیتا ہے۔
مؤمن مسافر زمین کو توحید کی درس گاہ سمجھتا ہے اور اپنے قدموں کو غفلت سے یادِ خدا، پراکندگی سے توحید، اور محض تماشے سے بصیرت کی طرف بلند ہونے کی سیڑھیاں قرار دیتا ہے۔
زمین؛ توحید کی درس گاہ
قرآنِ کریم کی نگاہ میں زمین صرف رہائش اور انسان کی مادی ضروریات پوری کرنے کا مقام نہیں، بلکہ اللہ کی نشانیوں سے بھری ہوئی ایک کھلی کتاب اور خالق کی معرفت حاصل کرنے کی دائمی درس گاہ ہے۔
پہاڑ، سمندر، جنگلات، صحرا، ستاروں بھرا آسمان، جانداروں کا تنوع اور مختلف آب و ہوا؛ یہ سب اللہ کی حکمت، قدرت اور رحمت کی نشانیاں ہیں۔ سفر انسان کو روزمرہ زندگی کے محدود اور بار بار دہرائے جانے والے ماحول سے باہر نکالتا ہے اور اسے آفرینش کے کہیں وسیع تر مظاہر سے روبرو کرتا ہے۔
قرآن کا وہی حکم جس کا پہلے ذکر ہوا، یہاں زیادہ واضح معنی اختیار کرتا ہے: سفر انسان کو آفرینش کے مشاہدے اور اس کے آغاز اور نظام کو سمجھنے تک پہنچانا چاہیے۔ لہٰذا زمین میں حرکت اس وقت ارزش مند بنتی ہے جب انسان کو ظاہری مظاہر سے ان کے خالق کی حکمت تک لے جائے۔
یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی منطق میں “سیر” اور “نظر” ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ راستہ طے کرنا تب معرفتی قدر حاصل کرتا ہے جب اس کے ساتھ سوچ سمجھ کر مشاہدہ کرنا بھی موجود ہو؛ ایسا مشاہدہ جو انسان کو ظاہری صورتوں سے آگے لے جاکر حکمت، نظم اور معنی کے بارے میں سوال کرنے پر آمادہ کرے۔
کتنے ہی لوگ پہاڑ، سمندر اور آسمان دیکھتے ہیں، لیکن ان کے ظاہر سے آگے نہیں بڑھتے؛ اور کتنے ہی لوگ ایک پتے، بارش کے ایک قطرے یا طلوعِ آفتاب کو دیکھ کر خالق کی عظمت اور حکمت تک پہنچ جاتے ہیں۔
قرآن ایک اور مقام پر انسان کو فطری مظاہر کے ایک پورے سلسلے میں غور کرنے کی دعوت دیتا ہے:
«أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ وَإِلَى الْجِبَالِ
كَيْفَ نُصِبَتْ وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ»
“کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ اسے کس طرح پیدا کیا گیا؟ اور آسمان کی طرف کہ اسے کس طرح بلند کیا گیا؟ اور پہاڑوں کی طرف کہ انہیں کس طرح قائم کیا گیا؟ اور زمین کی طرف کہ اسے کس طرح بچھایا گیا؟”
(سورۂ غاشیہ، آیات 17–20)
ان آیات میں انسان کی نگاہ ایک جاندار سے آسمان، آسمان سے پہاڑوں اور پھر پہاڑوں سے زمین کی وسعت کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ گویا قرآن انسان کو یہ سکھانا چاہتا ہے کہ سفر میں وہ جزئیات بھی دیکھے اور پوری کائنات کو بھی؛ ایک مخلوق کی تخلیق کی باریکی کو بھی سمجھے اور پوری ہستی کے مربوط نظام کو بھی۔
مخلوقات کا تنوع متعدد مدبروں کی علامت نہیں، بلکہ ایک حکیمانہ نظام کی وحدت اور مربوط تدبیر کی نشانی ہے۔
سفر انسان کو اپنی محدود نگاہ کا بھی احساس دلاتا ہے۔ ممکن ہے کوئی شخص اپنے محدود ماحول میں اپنے طرزِ زندگی، آب و ہوا اور دستیاب سہولیات کو فطری اور ہمیشہ رہنے والی چیز سمجھے؛ لیکن جب وہ دوسرے علاقوں کا سفر کرتا ہے اور مختلف آب و ہوا، نباتات، حیوانات، زبانوں اور انسانی چہروں کو دیکھتا ہے تو اللہ کی تخلیق کی وسعت کو زیادہ بہتر سمجھنے لگتا ہے۔
قرآن اس تنوع کو اللہ کی نشانیوں میں شمار کرتا ہے:
«وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ»
“اور اس کی نشانیوں میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف بھی ہے۔”
(سورۂ روم، آیت 22)
اس بنا پر قرآنی منطق میں سیاحت ایک قسم کی توحیدی تعلیم بن سکتی ہے۔ اس نگاہ میں فطرت صرف تفریح یا تصویریں لینے کی جگہ نہیں، بلکہ ایک ایسی درس گاہ ہے جہاں انسان اللہ کی عظمت، آفرینش کے نظم، اپنی محتاجی اور کائنات کے اجزاء کی باہمی ہم آہنگی کو سیکھتا ہے۔
مضبوط پہاڑوں، وسیع سمندروں اور بے کنار آسمان کے سامنے انسان اپنی کمزوری اور محتاجی کو بہتر محسوس کرتا ہے اور غرور سے دور ہوتا ہے۔
تاہم ہر سفر لازماً معرفت تک نہیں پہنچاتا۔ اگر انسان صرف لذت، مصرف، خودنمائی یا زیادہ تصویریں جمع کرنے کے لئے سفر کرے تو ممکن ہے وہ ہزاروں الٰہی نشانیوں کے پاس سے گزر جائے، مگر ان کا پیغام نہ سمجھے۔
توحیدی سفر اس وقت وجود میں آتا ہے جب مسافر خود سے پوچھے:
اس وسیع کائنات کو کس قدرت نے وجود بخشا ہے؟
کس حکمت نے اتنے تنوع کو ایک منظم نظام میں یکجا کیا ہے؟
اور ان نعمتوں کے مقابلے میں میری کیا ذمہ داری ہے؟
یوں سفر محض تفریحی تجربے سے شعوری عبادت میں تبدیل ہوجاتا ہے؛ ایسی عبادت جو دیکھنے سے شروع ہوتی ہے، غور و فکر سے آگے بڑھتی ہے اور شکر، فروتنی اور احساسِ ذمہ داری پر منتج ہوتی ہے۔
زمین؛ تاریخ کی زندہ یادداشت اور عبرت کا آئینہ
زمین نے صرف فطرت کی نشانیاں ہی محفوظ نہیں کیں، بلکہ گزشتہ اقوام، تہذیبوں اور طاقتوں کی تلخ و شیریں یادیں بھی اپنے اندر محفوظ رکھی ہیں۔
محلات، قلعے، عبادت گاہیں، تباہ شدہ شہر، قدیم راستے اور گزشتہ معاشروں کے باقی ماندہ آثار انسانی تاریخ کی کتاب کے مختلف صفحات ہیں۔ قرآن انسان کو دعوت دیتا ہے کہ ان صفحات کو صرف تجسس کے لئے نہ پڑھے، بلکہ عبرت حاصل کرنے اور تاریخ پر حاکم قوانین کو سمجھنے کے لئے ان کا مطالعہ کرے۔
قرآن فرماتا ہے:
«قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ»
“تم سے پہلے بہت سی سنتیں اور واقعات گزر چکے ہیں؛ پس زمین میں سیر کرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔”
(سورۂ آل عمران، آیت 137)
لفظ «سُنَن» اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تاریخی واقعات بے قاعدہ اور منتشر حادثات نہیں، بلکہ اقوام اور معاشروں کی زندگی پر بھی کچھ اصول اور قوانین حاکم ہوتے ہیں۔
جس طرح طبیعی دنیا کے اپنے قوانین ہیں، اسی طرح معاشرتی زندگی کی بھی اپنی سنتیں ہیں۔ ظلم، فساد، غرور، امتیاز، لوگوں کے حقوق پامال کرنا اور حق کو جھٹلانا اپنے نتائج رکھتے ہیں؛ جس طرح ایمان، عدل، نعمت کا شکر، اجتماعی یکجہتی اور اصلاح پسندی اقوام کی عزت اور پائیداری کے اسباب بنتے ہیں۔
قرآن گزشتہ اقوام کے بارے میں فرماتا ہے:
«أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ كَانُوا أَشَدَّمِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا الْأَرْضَ وَعَمَرُوهَا أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا»
“کیا انہوں نے زمین میں سفر نہیں کیا تاکہ دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیسا ہوا؟ وہ ان سے کہیں زیادہ طاقتور تھے، انہوں نے زمین کو زیر و زبر کیا اور اسے ان لوگوں سے کہیں زیادہ آباد کیا تھا۔”
(سورۂ روم، آیت 9)
یہ آیت ایک نہایت اہم حقیقت بیان کرتی ہے: مادی ترقی، فوجی طاقت، شہروں کی آبادانی اور شاندار تہذیب کسی معاشرے کی بقا کی ضمانت نہیں۔
ممکن ہے کوئی تہذیب تعمیرات، زراعت، صنعت یا سیاسی طاقت میں اپنے عروج پر پہنچ جائے، لیکن اخلاقی فساد، معاشرتی ظلم اور حق کے مقابل سرکشی کی وجہ سے زوال پذیر ہوجائے۔
ان کی عمارتوں کا باقی رہ جانا اور ان کی طاقت کا مٹ جانا خود ایک واضح پیغام ہے: عمارتیں صدیوں باقی رہ سکتی ہیں، لیکن عدالت سے جدا طاقت ہمیشہ باقی نہیں رہتی۔
قومِ عاد اپنی جسمانی قوت اور شاندار عمارتوں پر مغرور ہوئی؛ قومِ ثمود پہاڑوں کو تراش کر مضبوط گھر بناتی تھی؛ فرعون سلطنت، لشکر اور سیاسی اقتدار کا مالک تھا؛ اور قومِ سبأ ایک آباد سرزمین اور فراوان نعمتوں سے بہرہ مند تھی۔
لیکن جب طاقت کے ساتھ تکبر، نعمت کے ساتھ ناشکری اور ترقی کے ساتھ فساد جمع ہوگیا تو ان کے وسائل بھی انہیں زوال سے نہ بچاسکے۔
قومِ سبأ کی داستان اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔ قرآن ایک زرخیز سرزمین، وسیع باغات اور فراوان رزق کا ذکر کرتا ہے اور پھر اس نعمت کے دوام کی بنیاد یوں بیان کرتا ہے:
«كُلُوا مِنْ رِزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ»
“اپنے پروردگار کے رزق میں سے کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو؛ تمہارے لئے پاکیزہ سرزمین اور بخشنے والا پروردگار ہے۔”
(سورۂ سبأ، آیت 15)
لیکن جب انہوں نے روگردانی کی تو ان کا آباد نظام بھی تباہی سے دوچار ہوگیا۔
اس داستان کا پیغام یہ ہے کہ امن، آبادانی اور خوش حالی صرف قدرتی وسائل اور فنی صلاحیتوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس بات پر بھی منحصر ہیں کہ انسان نعمتوں کو کس طرح استعمال کرتا ہے اور معاشرے کا اخلاقی و اجتماعی رویہ کیا ہے۔
قرآن انسان سے یہاں تک چاہتا ہے کہ وہ خاموش عمارتوں اور باقی ماندہ آثار کی طرف دیکھے اور ان کی بے زبان گفتگو سنے:
«فَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَشِيدٍ»
“کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ان کے ظلم کی وجہ سے ہلاک کردیا؛ ان کی دیواریں اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں، کتنے کنویں بے کار پڑے ہیں اور کتنے بلند و مضبوط محل ویران ہیں۔”
(سورۂ حج، آیت 45)
“بے استعمال کنواں” اور “بلند محل” دو معنی خیز تصویریں ہیں: ایک عوامی زندگی اور لوگوں کے پانی کی ضرورت کی علامت، اور دوسری حکمرانوں کی طاقت و شان کی علامت۔
جب ایک معاشرتی نظام بکھر جاتا ہے تو نہ صرف عام لوگوں کی زندگی کے وسائل بے کار ہوجاتے ہیں، بلکہ اہلِ اقتدار کے محلات بھی ویران ہوجاتے ہیں۔
یوں قرآن میں تاریخی سیاحت صرف ماضی کے آثار دیکھنے کا نام نہیں، بلکہ تاریخی شعور کو بیدار کرنے اور آج کے حالات کو کل کے انجام سے پرکھنے کی کوشش ہے۔
لہٰذا تاریخی آثار کا مشاہدہ اسی وقت قیمتی ہے جب انسان کی تاریخی عقل کو بیدار کرے۔ قرآنی مسافر کسی تباہ شدہ محل کے پاس صرف یہ نہیں پوچھتا کہ یہ کب تعمیر ہوا، اس کا طرزِ تعمیر کیا تھا اور اس میں کون رہتا تھا؛ بلکہ وہ یہ بھی سوچتا ہے:
اس طاقت کو کس چیز نے ختم کردیا؟
اس سرزمین کے لوگوں نے اپنی نعمتیں کیسے کھودیں؟
کیا انہی انحرافات کی علامات آج ہمارے معاشرے میں بھی موجود ہیں؟
زمین ایک سچی حافظہ ہے۔ وہ قوموں کی شان، حکمرانوں کے ظلم، محروموں کے دکھ اور تہذیبوں کے انجام کو اپنے اندر محفوظ رکھتی ہے۔
جو شخص اس حافظے کی زبان سمجھ لے، وہ ماضی کو مستقبل کی تعمیر کے لئے استعمال کرتا ہے۔ اس طرح قرآنی نگاہ میں تاریخی سیاحت ماضی میں رک جانا نہیں، بلکہ حال کی اصلاح اور مستقبل میں غلطیوں کے اعادے سے بچنے کا ایک راستہ ہے۔
ماضی سے عبرت؛ مستقبل کے لئے آمادگی
اسی تاریخی نگاہ سے سفر اور مستقبل کا تعلق واضح ہوتا ہے۔ قرآنی سفر صرف کھنڈرات دیکھنے اور ماضی کے قصے سننے کا نام نہیں، بلکہ قوموں کے انجام کو پڑھ کر آج کی اصلاح اور کل کی تعمیر کرنے کا ذریعہ ہے۔حکمِ قرآنی: «فَاعْتَبِرُوا یَا أُولِی الْأَبْصَارِ»
انسان کو بے عمل مشاہدے سے فعال عبرت کی طرف لے جاتا ہے؛ یعنی ماضی کو اس لئے دیکھنا کہ موجودہ خطرات کو پہچانا جائے اور مستقبل میں انہی غلطیوں کے اعادے سے بچا جاسکے۔
گزشتہ اقوام کے تجربات انسان کو اپنے زمانے میں ظلم، فساد، اسراف اور زوال کی علامات جلد پہچاننے میں مدد دیتے ہیں۔
تاریخ ایک ایسی تجربہ گاہ ہے جہاں بار بار دہرائے جانے والے نمونے واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں: تکبر اور برتری طلبی، نعمتوں میں غرق ہوجانا، حق کو جھٹلانا، ناانصافی، فساد، اور آخرکار ایسا زوال جو ایک پرانی بیماری کی طرح معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کردیتا ہے۔
قرآن عاد، ثمود، فرعون، قارون اور سبأ کے حالات بیان کرکے دراصل انسان کے سامنے خطرے کی علامتیں رکھتا ہے تاکہ وہ ان ہی راستوں پر نہ چلے۔
بصیرت رکھنے والا مسافر کھنڈرات کو صرف پتھر اور مٹی نہیں دیکھتا، بلکہ انہیں ایک ایسا آئینہ سمجھتا ہے جس میں وہ اپنے مستقبل کی ممکنہ تصویر دیکھ سکتا ہے۔
اس معنی میں تاریخی سفر مستقبل کے بحرانوں سے بچنے کی ایک تربیت ہے۔ مستقبل کے لئے تیاری نہ پیش گوئی ہے اور نہ فال گیری، بلکہ “عبرت” کے ذریعے روحانی اور اجتماعی قوتِ مدافعت پیدا کرنا ہے۔
جو فرد یا معاشرہ ماضی سے سبق حاصل کرے، وہ خطرات کو پہلے محسوس کرتا ہے، زوال سے پہلے اصلاح کرتا ہے اور اسراف و فساد کے جڑیں خراب کرنے سے پہلے علاج شروع کردیتا ہے۔
پس مؤمنانہ سفر ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک پل ہے: وہ ماضی کو پڑھتا ہے تاکہ مستقبل بنائے اور زمین پر چلتا ہے تاکہ تاریخ کے تلخ تجربات دوبارہ نہ دہرائے جائیں۔
قرآنی مسافر سفر سے صرف تحائف اور یادیں نہیں لاتا، بلکہ اپنے ساتھ بصیرت، تنبیہ اور روشن تر مستقبل کے لئے آمادگی بھی لاتا ہے۔
نتیجہ: بیدار مسافر کی واپسی
قرآن کی منطق میں سفر کی قدر کا انحصار صرف اس فاصلے پر نہیں جو طے کیا گیا، ان شہروں پر نہیں جو دیکھے گئے، اور ان تصویروں پر نہیں جو محفوظ کی گئیں؛ بلکہ اس حقیقی تبدیلی پر ہے جو مسافر کی سوچ، دل اور عمل میں پیدا ہوتی ہے۔
ممکن ہے کوئی شخص بہت سی سرزمینیں دیکھے، لیکن واپسی پر وہی انسان ہو جو سفر سے پہلے تھا؛ اور ممکن ہے کوئی شخص ایک مختصر سفر سے زیادہ گہری معرفت اور زندگی کے بارے میں نئی نگاہ کے ساتھ واپس آئے۔
قرآنی مسافر زیادہ گہرے ایمان کے ساتھ واپس آتا ہے؛ کیونکہ اس نے فطرت کے نظم، آفرینش کے تنوع اور زمین کی حیرت انگیز نشانیوں میں اللہ کے علم، قدرت اور حکمت کے آثار دیکھے ہیں۔
وہ فطرت کو محض خوبصورت مناظر کا مجموعہ نہیں سمجھتا، بلکہ اسے الٰہی آیات سے بھری ایک کتاب سمجھتا ہے۔ ایسا سفر انسان کی زندگی میں اللہ کی موجودگی کے احساس کو مضبوط کرتا اور اس کے اندر شکر گزاری کی روح کو زندہ کرتا ہے۔
وہ زیادہ پختہ عقل کے ساتھ واپس آتا ہے؛ کیونکہ سفر نے اسے اپنے مانوس اور محدود ماحول سے باہر نکال کر مختلف طرزِ زندگی، ثقافتوں، قوموں اور تاریخی تجربات سے آشنا کیا ہے۔
اس قرآنی تعلیم کی روشنی میں، جو سفر کو قلبی تعقل کا مقدمہ قرار دیتی ہے، مؤمن مسافر یہ سیکھتا ہے کہ اپنے مشاہدات کو تحلیل، موازنہ اور تشخیص میں تبدیل کرے، نہ کہ صرف دیکھے گئے مقامات کی تعداد میں اضافہ کرے۔
لہٰذا قرآنی سفر انسان کی تحلیل، موازنہ اور تشخیص کی صلاحیت کو بڑھانا چاہیے۔
گزشتہ تہذیبوں کے آثار کو دیکھ کر مسافر سمجھتا ہے کہ طاقت، دولت اور آبادانی عدل اور اخلاق کے بغیر پائیدار نہیں، اور جو معاشرہ ظلم، فساد اور ناشکری کا شکار ہوجائے وہ ظاہری وسائل کی فراوانی کے باوجود زوال کے راستے پر چل سکتا ہے۔
حقیقی مسافر زیادہ وسیع نگاہ کے ساتھ بھی واپس آتا ہے۔
سفر بہت سے تعصبات اور جلد بازی پر مبنی فیصلوں کو کم کرسکتا ہے۔ دوسری اقوام اور ثقافتوں سے مل کر انسان جان لیتا ہے کہ زندگی کی حقیقت صرف اس کے محدود تجربے تک منحصر نہیں اور دوسرے لوگوں کی خوبیوں، علوم اور تجربات سے بھی سیکھا جاسکتا ہے۔
قرآنی نگاہ میں زبانوں، رنگوں اور ثقافتوں کا اختلاف نزاع اور برتری کا سبب نہیں، بلکہ باہمی شناخت کا وسیلہ ہے:
«وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا»
“اور ہم نے تمہیں مختلف قومیں اور قبیلے بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔”
(سورۂ حجرات، آیت 13)
لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ قرآنی مسافر زیادہ احساسِ ذمہ داری کے ساتھ واپس آتا ہے۔
فطرت کی خوبصورتیوں کا مشاہدہ اس پر ماحول کے تحفظ کی ذمہ داری مزید بڑھا دیتا ہے؛ تباہ شدہ تہذیبوں کے آثار اسے ظلم و فساد کے بارے میں زیادہ حساس بناتے ہیں؛ اور دوسری اقوام کی زندگی سے آشنائی انسانوں کی عزت و کرامت کا احترام کرنے کی اس کی ذمہ داری کو بڑھاتی ہے۔
اگر سفر صرف انسان کی معلومات میں اضافہ کرے تو ابھی وہ اپنی آخری منزل تک نہیں پہنچا۔ اسے انسان کے طرزِ زندگی، اس کے مصرف، دوسروں کے ساتھ اس کے رویے اور معاشرے کے بارے میں اس کی نگاہ پر بھی اثر انداز ہونا چاہیے۔
پس حقیقی مسافر وہ نہیں جو صرف تحائف سے بھرا سوٹ کیس اور تصویروں سے بھرا ہوا فون لے کر واپس آئے، بلکہ وہ ہے جو زیادہ بیدار دل، روشن تر ذہن، زیادہ فروتن روح اور اپنی اور معاشرے کی اصلاح کے لئے زیادہ مضبوط ارادے کے ساتھ واپس آئے۔
قرآنی سیاحت میں آخری منزل صرف کوئی شہر، تاریخی عمارت یا قدرتی منظر نہیں؛ اصل منزل معرفت، عبرت اور ذمہ داری تک پہنچنا ہے۔
حقیقی سفر وہ ہے کہ انسان دنیا دیکھنے کے بعد خود کو زیادہ بہتر پہچانے؛ طاقتوں کے آثار دیکھنے کے بعد طاقت کے فریب میں مبتلا نہ ہو؛ نعمتوں کو دیکھنے کے بعد زیادہ شکر گزار ہوجائے؛ اور واپسی کے بعد وہی انسان نہ رہے جو سفر کے آغاز میں تھا۔
ایسا سفر انسان کو تماشے سے تفکر، تفکر سے عبرت، اور عبرت سے ذمہ داری تک پہنچاتا ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

