موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 18

Topic of the Week - Volume 03 Issue 18
Last Updated: مئی 1, 2026By Categories: موضوعِ ہفتہ0 Comments on موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 180 min readViews: 108

ہمارے زمانے میں اہلِ بیت کے امر کا  احیاء ؛ سیکھنے سے لے کر با مقصد زندگی گزارنے تک

سید ہاشم موسوی

تمہید

امامِ رؤوف حضرت علی بن موسیٰ الرضا (علیہ السلام) کی نورانی ولادت کے آغاز پر، ہم اس مبارک موقع کو امام مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی خدمت میں اور تمام شیعیانِ اہلِ بیت کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے، آپؑ کی ایک نہایت اہم اور حکمت‌آمیز تعلیم پر غور کرتے ہیں۔

اس ہفتے کے مقالے کا موضوع احیائے امر ہے؛ ایک ایسا حکم جو محض اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ہر دور میں شیعوں کی فردی زندگی اور اجتماعی تحریک کا ایک جامع منشور ہے۔ ہم خداوند متعال سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس نورانی تعلیم پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

یہ حدیثِ شریف کتاب "عیون اخبار الرضا” میں عبدالسلام بن صالح ہروی (اباصلت) سے یوں نقل ہوئی ہے:

"رَحِمَ اللهُ عَبداً أحیی أمرَنا؛ فَقُلتُ لَه: وَ کَیفَ یُحیی أمرُکُم؟ قَال: یَتَعَلَّم عُلُومَنا وَ یُعَلِّمُها النَّاسَ، فَإنَّ النَّاسَ لَو عَلِمُوا مَحَاسِنَ کَلامِنا لَاتَّبَعُونَا”

"خدا اس بندے پر رحم کرے جو ہمارے امر کو زندہ کرے۔ میں نے عرض کیا: آپ کے امر کو کیسے زندہ کرے؟ فرمایا: ہمارے علوم کو سیکھے اور لوگوں کو سکھائے؛ کیونکہ اگر لوگ ہمارے کلام کی خوبصورتیوں کو جان لیں تو ضرور ہماری پیروی کریں گے۔”

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے بھی  (کسی معصوم سے منقول) حدیث کے سیکھنے، اور اس  سے دوسروں تک پہنچانے کی اہمیت پر ہمیشہ زور دیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کا یہ مشہور فرمان خود اس موضوع کی اہمیت کو واضح کرتا ہے:

"نَضَّرَ اللهُ عَبْداً سَمِعَ مَقَالَتِی فَوَعَاهَا وَ بَلَّغَهَا مَنْ لَمْ یَسمَعها فَکَم مِن حَامِلِ فِقْهٍ غَیرَ فَقِیهٍ وَ کَم مِن حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْه”

"اللہ تعالیٰ اس بندے کو تر و تازہ، شاداب اور باحیات رکھے جو میری بات اور میرے کلام کو سنے، پھر اسے محفوظ رکھے اور اسے اُس شخص تک پہنچائے جس نے اسے نہیں سنا۔ کیونکہ بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو فقہ (علمِ دین) کو اٹھائے ہوتے ہیں لیکن خود فقیہ نہیں ہوتے، اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو فقہ کو اس شخص تک پہنچاتے ہیں جو اُن سے زیادہ فقیہ ہوتا ہے۔”

( بحار الأنوار، جلد ۲، صفحہ ۲۴۸، حدیث ۱۹–۲۲)

احیائے امر کی اہمیت: یہ حدیث دراصل امامؑ کی اپنے شیعوں سے سب سے اہم توقع کو ظاہر کرتی ہے، کیونکہ اس کے آخر میں فرمایا:

"اگر لوگ ہمارے کلام کی خوبصورتیوں کو جان لیں تو یقیناً ہماری پیروی کریں گے۔”

یعنی احیائے امر باقی تمام دینی اہداف (تقویٰ، اخلاق، سیاست وغیرہ) کی بنیاد ہے؛ کیونکہ جب تک معرفت نہ ہو، تحریک بھی نہیں ہوتی۔

1۔ احیائے امر کا مفہوم اور اس کی جدید تعبیر:

ماضی میں احیائے امر اہلِ بیت (علیہم السلام) زیادہ تر روایات کی نقل، مجالس کے انعقاد اور فضائل کے بیان تک محدود تھا، لیکن آج اس کا دائرہ بہت وسیع ہو چکا ہے۔

آج احیائے امر کا مطلب ہے:

  • اہلِ بیت کے معارف کو عصرِ حاضر کی زبان میں بیان کرنا
  • جدید سوالات (شناخت، زندگی کا مقصد، اخلاق، عدالت) کا جواب دینا
  • ڈیجیٹل دنیا میں مؤثر موجودگی
  • اور سب سے اہم: معارف کو طرزِ زندگی میں بدل دینا

2۔ سیکھنے کی ذمہ داری، سکھانے سے پہلے:

اس حدیث میں ایک نہایت اہم نکتہ یہ ہے کہ تعلم، تعلیم سے پہلے ہے۔

یہ اصول ہمیں بتاتا ہے کہ گہری سمجھ کے بغیر پیغام پہنچانا نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔ اہلِ بیت (علیہم السلام) کے معارف صرف الفاظ نہیں بلکہ فکر، تدبر اور اندرونی ادراک کا تقاضا کرتے ہیں۔

آج کے دور میں، جہاں معلومات کی بہتات اور حکمت کی کمی ہے، یہ بات اور زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔

لہٰذا ہر شیعہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے ایک سنجیدہ طالبِ علم بنے، پھر مبلغ۔

3۔ کلامِ اہلِ بیت کی خوبصورتی (محاسن کلام):

امامؑ فرماتے ہیں:

"فَإِنَّ النَّاسَ لَوْ عَلِمُوا مَحَاسِنَ كَلَامِنَا لَاتَّبَعُونَا”

      ” اگر لوگ ہمارے کلام کی خوبصورتیوں کو جان لیں تو ضرور ہماری پیروی کریں گے۔”

اہلِ بیت کے کلام کی خوبصورتیوں میں شامل ہیں:

  • عقلی گہرائی (فطرت اور عقل سے ہم آہنگی): اہلِ بیت (علیہم السلام) کے کلام کی خوبصورتی دراصل وہ حقائق ہیں جنہیں ہر بیدار ضمیر انسان سراہتا ہے؛ ایسے حقائق جیسے عدل، شفقت، عقل مندی اور عزتِ نفس۔

·        اخلاقی لطافت (جذباتی کشش): اہلِ بیت (علیہم السلام) کی تعلیمات اپنی مضبوطی کے باوجود محبت اور شفقت سے بھرپور ہیں۔ یہ انسان کی روح کی گہرائیوں میں نفوذ کر کے مخاطب کو جبر کے ذریعے نہیں بلکہ محبت اور اخلاقی حسن کی کشش کے ذریعے کمال کی طرف بلاتی ہیں۔

·        جامعیت (زندگی کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ): ان کی سیرت اور اقوال ایک مکمل نظام کی مانند ہیں جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، عبادی، اجتماعی، سیاسی اور معاشی—پرمحیط ہیں اور ہر میدان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

·        الہام بخشی (امید اور حرکت پیدا کرنا):

اہلِ بیت (علیہم السلام) کا کلام روشن افقوں اور الٰہی وعدوں کو پیش کر کے انسان کے دل سے مایوسی کو دور کرتا ہے، اور اس میں تازگی، امید اور تحریک پیدا کر کے اسے حرکت، تبدیلی اور ایک بہتر دنیا کی تعمیر کی طرف آمادہ کرتا ہے۔

سوال: جبکہ اہلِ بیت (علیہم السلام) کا کلام اپنی ذات میں حسن رکھتا ہے اور انسانی فطرت کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہے، تو پھر آج کے بعض مخاطبین ان معارف سے اس طرح متاثر کیوں نہیں ہوتے جیسے ہونا چاہیے؟ کیا یہ خلا پیغام میں نقص کی وجہ سے ہے یا اس کے پیش کرنے کے انداز میں؟

جواب: اس سوال کا جواب خود امام علی بن موسی الرضا کے اسی کلام میں پوشیدہ ہے، جہاں آپ نے فرمایا:

"لَو عَلِمُوا الناس مَحَاسِنَ کَلَامِنَا”
"اگر لوگ ہمارے کلام کی خوبصورتیوں کو جان لیتے…”

یہ جملہ چند اہم  نکات کو واضح کرتا ہے:

الف) پیغام میں کمال مطلق  کا ہونا: مسئلہ ہرگز  ان کے پیغام میں نہیں ہے۔ اس لئے کہ اہلِ بیت (علیہم السلام) کے معارف، وحی سے جڑے ہوئے ہیں، اور وہ انسانی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اگر انہیں درست طریقے سے پیش کیا جائے تو کوئی بھی روح ان کی سچائی اور خوبصورتی کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی۔

ب) بیان  کے اندازکی رکاوٹ: اصل مسئلہ ذریعہ اور اندازِ پیشکش میں ہے۔ ہم کبھی اہلِ بیت کے زندہ اور متحرک کلام کو عصرِ حاضر کی زبان، فنِ بیان اور جدید ذرائع کے ساتھ دلوں تک پہنچانے کے بجائے اسے پرانے، خشک اور غیر مانوس انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ جب ایک خوبصورت پیغام کو نامناسب انداز میں پیش کیا جائے تو اس کی خوبصورتی پوشیدہ رہ جاتی ہے۔

ج) زبانِ فطرت کی طرف واپسی: امام (علیہ السلام) کی توقع یہ ہے کہ ہم فطری زبان کی طرف واپس آئیں—وہ زبان جو براہِ راست عقل اور دل سے بات کرتی ہو۔
ہمیں حقیقت کو بدلنے یا سجاوٹ دینے کی ضرورت نہیں، بلکہ ہمیں بھاری الفاظ اور پرانے طریقوں کی گرد ہٹا کر اس کی اصل خوبصورتی کو نمایاں کرنا ہے تاکہ دل خود بخود اس کی طرف مائل ہو جائیں۔ لہٰذا، بعض لوگوں کے لیے معارف کا غیر پرکشش ہونا اس بات کی علامت نہیں کہ ان میں کشش نہیں، بلکہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ ہم پیغام کی درست ترسیل اور مؤثر بیان میں کامیاب نہیں ہوئے۔

4۔ معارف کو روزمرہ زندگی میں عملی بنانا:

اگر اہلِ بیت (علیہم السلام) کے علوم صرف کتابوں میں باقی رہ جائیں تو یہ حقیقی احیاء نہیں ہے۔
اصل احیاء تب ہوتا ہے جب یہ علم، عمل میں تبدیل ہو جائے—یعنی "جاننا” → "ہوجانا”۔

ان تعلیمات کا مقصد خشک قوانین دینا نہیں بلکہ ایک ایسا مکمل نظامِ زندگی فراہم کرنا ہے جو توازن، سکون اور انسانی کرامت پیدا کرے۔

جب ہم معاشرتی برائیوں (جیسے ٹریفک میں غصہ، غیبت، ناانصافی یا بے حسی) کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی جڑ خود سے دوری اور شفقت کی کمی ہے—اور اہلِ بیت (علیہم السلام) کی تعلیمات انہی کمزوریوں کو ہدف بناتی ہیں:

1) مخالف پارٹی  کے ساتھ اپنے رویے میں تبدیلی ( حسنِ  سلوک سے کام لینا)

آج کے اکثر معاشرتی تنازعات،  مختلف آراء کو برداشت نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتےہیں۔ چنانچہ  امام جعفر صادق فرماتے ہیں:
"لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے کام لینا،نصف عقل ہے۔"

اگر مدارا کی ثقافت کو ٹکراؤ کی جگہ دے دی جائے، تو ہم یہ پتہ  چل جائے گاکہ اختلافِ رائے دشمنی کے مترادف نہیں ہوتا۔
یہ طرزِ فکر سوشل میڈیا کے ماحول اور روزمرہ گفتگو کی کشیدگی کو نمایاں طور پر کم کر دیتا ہے اور نقصان دہ دو قطبی تقسیم کے پیدا ہونے سے روکتا ہے۔

2) رسالۂ حقوق  (معاشرتی اخلاق کے لئے مشعل راہ )

امام زین العابدین علیہ السلام کا رسالۂ حقوق ایک مکمل اخلاقی دستور ہے جو انسان کو دوسروں کے حقوق کا شعور دیتا ہے۔

یہ سوچ انسان کو خودغرضی سے نکال کر دوسروں کی فکر کرنے والا بناتی ہے۔

3)وسیع شفقت (انسان، حیوان اور ماحولیات سب پر )

شاید یہ بات عجیب محسوس ہو، لیکن جانوروں کے ساتھ مہربانی کرنا یا ماحولیات کے حقوق کا خیال رکھنا دراصل انسانوں  کی شفقت پر مبنی تربیت کے  کا نتیجہ ہے، جس کے سبب وہ ہر چیز کےساتھ مہربان بننے کی کوشش کرتا ہے۔

اہلِ بیت (علیہم السلام) سے بہت سی روایات منقول ہیں جو ہمیں جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک، انہیں تکلیف نہ دینے، اور حتیٰ کہ پودوں کے حقوق کا بھی خیال رکھنے (مثلاً بلاوجہ درخت نہ کاٹنے) کی تلقین کرتی ہیں۔

جو شخص اس مخلوق کے ساتھ، جو اپنی شکایت زبان سے بیان نہیں کر سکتی (جیسے جانور یا فطرت)، شفقت کرنا سیکھ لیتا ہے، اس کے لیے یہ بہت بعید ہے کہ وہ اپنے جیسے انسانوں کے ساتھ بے رحمی کرے۔ یہ تعلیمات درحقیقت انسان کے اندر شفقت کی صلاحیت کو مضبوط کرتی ہیں اور معاشرتی سخت دلی کا علاج بنتی ہیں۔

جب ایک معاشرہ یہ سیکھ لے کہ دوسروں کی عزت و کرامت کا خیال رکھنا دراصل اپنی ہی عزت کا احترام ہے، تو بد اخلاقی کی جگہ سکون اور باہمی ہم آہنگی لے لیتی ہے۔

خلاصۂ کلام :

امام رضا (علیہ السلام) کی مندرجہ  بالاحدیث، ہمیں ایک مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے:

  • سیکھو (گہرا علم حاصل کرو)
  • خوبصورت انداز میں پیش کرو (بیان کرنے کا ہنرسیکھو )
  • اسے اپنی زندگی میں نافذ کرو(عملی مظاہرہ کرو)
  • اور دوسروں تک پہنچاؤ(نور پھیلا ؤ)

اگر یہ چاروں مراحل آپس میں جڑ جائیں تو احیائے امر ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک زندہ تحریک بن جائے گا۔

اور شاید یہی سب سے بڑا تحفہ ہے جو اس امامِ رؤوف کی ولادت کے موقع پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔