فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 19
نمازِ مسافر (دسواں حصہ)
مراجعِ عظامِ تقلید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی اور آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (دام عزّہم العالی) کے فتوؤں کے مطابق۔
نوٹ: اس پینل میں مسائل کا ذکر (بلا اختلاف یا حوالہ کےساتھ )
جومسائل بغیر کسی مخالف رائے یا خاص حوالہ کے ذکر کئے گئے ہیں، وہ تینوں بزرگ مراجع کے مشترک فتاوی ہیں۔ اور جہاں کسی ایک مرجع کا فتویٰ دوسرے دو سے مختلف ہو، وہاں اسی نمبر کے تحت اس مرجع کےنام کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔
سفر میں نوافل (مستحب نمازوں) کا حکم
۱- جس سفر میں واجب نماز قصر (دو رکعتی) ہو، وہاں ظہر اور عصر کی نوافل پڑھنا جائز نہیں (حتیٰ کہ رجاءً کی نیت کے ساتھ بھی نہیں)۔
2۔ نمازِ عشاء کی نافلہ (وُتیرہ) کو سفر میں رجاءً (ثواب کی امید سے پڑھا جا سکتا ہے۔
آیت اللہ سید علی سیستانی:سفر میں ظہر اور عصر کی نوافل ساقط ہو جاتی ہیں، اسی طرح عشاء کی نافلہ بھی ساقط ہے، لیکن اسے رجاءً پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی: روزانہ کی نوافل سفر میں ساقط ہو جاتی ہیں، عشاء کی نافلہ بھی ساقط ہے، لیکن اسے رجاءً انجام دینا جائز ہے۔
3۔ جو نوافل مسافر سے ساقط ہو جاتی ہیں، اگر وہ شخص دس دن قیام کا ارادہ کرے تو وہ دوبارہ مستحب ہو جاتی ہیں؛ اسی طرح وہ مستحب روزےبھی رکھ سکتا ہے۔
4۔ ان مقامات میں، جہاں قصر اور تمام کا اختیار ہے، اگر واجب نماز پوری پڑھی جائے تو نوافل بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔
5۔ نمازِ شب، نمازِ صبح اور نمازِ مغرب کی نوافل سفر میں ساقط نہیں ہوتیں اور بدستور مستحب ہیں۔
6۔ دیگر مستحب نمازیں (جیسے نمازِ جعفر طیار، نمازِ امام زمانؑ، اور مناسبت والی نمازیں جیسے جمعہ کی نماز) بھی سفر میں مشروع اور برقرار رہتی ہیں۔
قصر کی جگہ پوری نماز پڑھنے کا حکم ( جان بوجھ کر یا مسئلہ نہ جاننے کی صورت میں)
1۔اگر مسافر کو معلوم ہو کہ اس کی ذمہ داری قصر ہے، لیکن پھر بھی وہ پوری نماز پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے۔
اسے دوبارہ (وقت کے اندر یا بعد میں) قصر کی صورت میں ادا کرنا ہوگا۔
2۔ اگر اسے قصر کا حکم معلوم ہی نہ تھا (جاہل قاصر رہاہو) تو مسئلے کا علم حاصل ہونے کے بعد نہ اس پر دوبارہ پڑھنا واجب ہے اورنہ اس کی قضا ضروری ہے۔
3۔ لیکن اگر اس نے اس حکم کے سیکھنے میں کوتاہی کی (جاہل مقصررہا ہو) تو ایسی صورت میں وہ گناہ گار ہے اور اگر ابھی وقت باقی ہے تو وہ دوبارہ قصر کے طور پر نماز ادا کرے اور اگر وقت کے گزر جانے کے بعد متوجہ ہوا ہے تو اس پر قضا واجب ہے۔
سفر میں قصرکےمسئلے کوبھول جانے کا حکم
1۔ اگر مسافر بھول جائے کہ اسے قصر پڑھنا ہے (یا بھول جائے کہ وہ سفر میں ہے) اور وہ پوری نماز پڑھ لے:
- اب اگر وقت کے اندر یاد آجائے تو وہ نماز قصر دوبارہ پڑھے ، ورنہ اس نماز کی قضا واجب ہوگی۔
- اوراگر وقت کے گزرجانے بعد یاد آئےتو ایسی صورت میں اس کی نماز صحیح ہے اور قضا بھی نہیں ہے۔
وہ مقامات،جہاں مسافرکوقصر اور تمام کا اختیار ہے
1۔ چار مقدس مقامات میں:مکہ، مدینہ، مسجد کوفہ اور(حرم ) حائرِ حسینی (علیہ السلام)، مسافر کو اختیار ہے کہ چار رکعتی نمازکو قصر کے طور پر پڑھے یا پوری پڑھے۔ اگرچہ پوری پڑھنا افضل ہے (اور قصر احتیاط مستحب ہے)۔
2۔ مکہ اور مدینہ میں یہ حکم پورے شہر پر لاگو ہوتا ہے، اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ مسجد الحرام اور مسجد النبی تک محدود رکھا جائے۔
3۔ کوفہ میں یہ حکم صرف مسجد کوفہ تک محدود ہے، پورے شہر میں یہ حکم احتیاط واجب کی بنا پر جاری نہیں۔
آیت اللہ سید علی سیستانی: مکہ، مدینہ اور کوفہ میں یہ اختیار صرف مسجدوں تک محدود نہیں بلکہ پورے شہر میں ہے، اگرچہ احتیاطاً قصر پڑھنا بہتر ہے۔
4۔ حائرِ حسینی میں: یہ حکم گنبد کے نیچے اور قبر کے قریب محدود علاقے تک ہے، اور صحن و رواق شامل نہیں (احتیاطاً)۔
آیت اللہ سید علی سیستانی: یہ اختیار قبر کے اردگرد تقریباً 25 ذراع (تقریباً 11.5 میٹر)کے دائرے تک ہے،جس میں بعض رواق شامل ہیں جبکہ باقی حصہ خارج ہے۔
آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی: چاروں مقامات میں (مسجد الحرام، مسجد النبی، مسجد کوفہ، حرم امام حسینؑ، مسافر کو اختیار ہے کہ نماز قصر پڑھے یا پوری، اور پوری نماز افضل ہے، چاہے یہ توسیعات قدیم ہوں یا جدید۔
5۔ اگر ان مقامات میں نماز قضا ہو جائے، اورکہیں اور ان قضا نمازوں کو پڑھاجائے، تو انہیں قصر کی صورت میں پڑھنا ضروری ہے۔
(اقویٰ قول کے مطابق) اوراگر انہی مقدس مقامات میں ہی ان قضا نمازوں کو پڑھنا چاہے تو احتیاط واجب کے مطابق پھر بھی قصر کی صورت میں ہی پڑھی جائے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

