دلچسپ اورپر کشش واقعہ – جلد 03 شمارہ 18
وہ انسان جس نے علم کو نور میں بدل دیا
ایک زمانے کی بات ہے، ایران کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا؛ خاموش، باریک بین اور ہمیشہ تلاش میں۔ اس کا نام مرتضیٰ مطہری تھا۔
جب دوسرے بچے کھیلتے تھے، وہ اپنی کتابوں کے ساتھ بیٹھا رہتا؛ اس کی آنکھیں علم کی سطروں کو یوں پڑھتی تھیں جیسے وہ کسی بڑی حقیقت کی طرف جانے والے راستے تلاش کررہی ہوں۔ وہ دوسروں کو متاثر کرنے کے لئے نہیں پڑھتا تھا۔ وہ اس لئے پڑھتا تھا کیونکہ اس کے اندر اک شعلہ تھا، جو بھڑک رہا تھا—ایک سوال جو اسے چین سے رہنے نہیں دیتا تھا:
حقیقت کیا ہے، اور اسے کیسے جیا جائے؟
کئی سال گزر گئے، اور وہ لڑکا ایک مرد بن گیا—لیکن عام انسان نہیں۔ وہ ایک استاد، مفکر اور رہنما بن گیا۔ بڑے شہر تہران میں طلبہ اس کےارد گرد جمع ہوتے تھے، اس لئے نہیں کہ وہ بلند آواز میں بولتا تھا، بلکہ اس لئے کہ وہ واضح انداز میں بات کرتا تھا۔ اس کے الفاظ سادہ تھے، مگر وزن اور گہرائی والےتھے۔ وہ دین کو پیچیدہ نہیں بناتا تھا، بلکہ اسے کھول کر سمجھاتا تھا۔
وہ کہا کرتا تھا:
"اسلام کوئی بوجھ نہیں جو تمہارے کندھوں پر رکھا جائے، بلکہ ایک نور ہے جو تمہارے اندر رکھا گیا ہے۔”
اور لوگ اس نور کو محسوس کرتے تھے۔
لیکن اس کا راستہ آسان نہ تھا۔ حقیقت کا راستہ کم ہی ہموار ہوتا ہے۔ ایسے لمحات بھی آئے جب سچ کہنا تنہا کھڑے ہونے کے برابر تھا۔ ایسے وقت بھی آئے جب اس کی سوچ طاقتور لوگوں کو چیلنج کرتی، آرام طلب لوگوں کو بے چین کرتی اور سوئے ہوئے لوگوں کو جگا دیتی۔ اس کے باوجود وہ پیچھے نہ ہٹا۔ کیونکہ اس کے نزدیک علم ایسی چیز نہیں تھا جو کتابوں کی الماریوں میں خاموش پڑا رہے۔ علم تو وہ ہوتا ہے،جو انسانوں کو حرکت دیتاہے ، دلوں کو بدل کے رکھدیتا ہےاور ایک ایسا معاشرہ تعمیر کرتاہے، جو عدل اور ایمان پر قائم ہو۔
پھر انقلاب کے دن آ گئے۔ فضا کشمکش، امید اور خوف سے بھری ہوئی تھی۔ بہت سے لوگ بول رہے تھے، بہت سے نعرے لگا رہے تھے، لیکن بہت کم ایسے تھے جن کے پاس رہنمائی کے لئے بصیرت اور وضاحت کی دولت ہو۔ اور وہ ایک بار پھر کھڑا ہوا—ایک سیاستدان کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے مفکر کے طور پر جو ایک تحریک کو سمت دے رہا تھا۔
لیکن حقیقت کے دشمن ہمیشہ گھات میں ہوتے ہیں۔ ایک رات، تاریکی کے اندر، وہ اس کے پاس پہنچ گئے۔ اور یوں، ایک ایسا انسان جس نے اپنی پوری زندگی روشنی پھیلانے میں گزار دی تھی، اس انقلاب آفرین انسان کو دنیا سے لاٹھا لیا گیا۔ وہ شہید ہو گیا—اس حقیقت کی گواہی دیتے ہوئے جس کے لئےوہ جیتا رہا۔
مگر پھر ایک عجیب بات ہوئی۔ وہ ختم نہیں ہوا۔ اس کی آواز اس کی کتابوں میں زندہ رہی۔ اس کے خیالات ان ذہنوں میں باقی رہے جنہیں اس نے پروان چڑھایا تھا۔ اس کی جرأت ان لوگوں میں گونجتی رہی جنہوں نے اس کا راستہ جاری رکھا۔
کیونکہ حقیقی رہنما دفن ہونے سے نہیں مرتے۔ وہ ہر اس دل میں زندہ رہتے ہیں جسے وہ بیدار کر جاتے ہیں۔
اور یوں وہی سوال دوبارہ لوٹ آتا ہے—وہی جو کبھی اس بچے کے دل میں بھڑکتا تھا:
حقیقت کیا ہے، اور کیا تم اس کے لئے جینے کو تیار ہو… چاہے اس کی قیمت سب کچھ ہی کیوں نہ لٹاکر چکائی جائے؟
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

