موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 19

Topic of the Week - Volume 03 Issue 19
Last Updated: مئی 14, 2026By Categories: موضوعِ ہفتہ0 Comments on موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 190 min readViews: 18

ہستی کا نقطۂ آغاز:  دَحْوُ الْأرْض کے تکوینی و تشریعی پہلوؤں کا جائزہ

سید ہاشم موسوی

تمہید

اسلامی تقویم کی معنوی مناسبتوں کے درمیان ہمیں ایک ایسا مفہوم ملتا ہے جو تخلیق کے مادی پہلو اور ارادۂ الٰہی کے درمیان گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اس مفہوم کو اسلامی متون میں دحو الارض کہا جاتا ہے، جو زمین کی تشکیل کے آغاز سے متعلق ایک عظیم کائناتی واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ظاہری طور پر یہ واقعہ زمین پر حیات کے آغاز کی علامت ہے، لیکن اس کی گہرائی میں ایک تربیتی اور الہامی پیغام موجود ہے۔ دَحْوُ الْأرْض صرف ماضی کا ایک واقعہ نہیں بلکہ حال کے ئےایک نمونہ ہے—انتشار سے نکل کر استحکام تک پہنچنے اور ایک بامقصد زندگی شروع کرنے کا نمونہ۔

دَحْوُ الْأرْض کا مطلب کیا ہے؟

لفظ دحو لغت میں “پھیلانا”، “بچھانا” اور “آمادہ کرنا” کے معنی میں آتا ہے۔ یہ اصطلاح سورہ نازعات کی آیت 30 سے لی گئی ہے، جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«وَالأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا»
"اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا”

مفسرین کے مطابق اس سے مراد زمین کا پھیلایا جانا اور انسان کے لئےقابلِ سکونت بنایا جانا ہے۔
روایات میں آیا ہے کہ 25 ذوالقعدہ کے دن زمین کا پہلا خشک حصہ، جو مکمل طور پر پانی میں ڈوبا ہوا تھا، کعبہ کے مقام پر ظاہر ہوا، اور پھر دیگر خشکیوں کا پھیلاؤ اسی سے ہوا۔

دَحْوُ الْأرْض درحقیقت الٰہی ارادہ اور طبیعی عمل کا ملاپ ہے—یعنی اللہ کی یہ مشیت کہ انسان زمین پر آباد ہو، اور زمین کی ساختی تبدیلیاں۔

زمین کی تیاری کا الٰہی عمل اور کعبہ کی مرکزیت

دَحْوُ الْأرْض کا مطلب ہے زمین کی خشکی کا ایک مرکزی نقطے—یعنی کعبہ—سے پھیلنا اور انسان کے ئےقابلِ رہائش بننا۔

روایات میں کعبہ کو نہ صرف عبادت کا قبلہ بلکہ خشکی کے ظاہر ہونے کا پہلا مقام بھی قرار دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ:

  • کائنات کی ساخت
  • اور ہدایت کا محور

آپس میں گہرے طور پر مربوط ہیں۔

یعنی زمین صرف پھیلائی نہیں گئی بلکہ مقصد کے ساتھ پھیلائی گئی—ایسی زمین جو عبادت، رشد اور کمال کی راہ ہو۔

دَحْوُ الْأرْض کی حیثیت اور اس کا فلسفہ

اسلامی روایات میں دَحْوُ الْأرْض کو سال کے چار انتہائی اہم دنوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے، اور اس دن کے ئےروزہ، عبادت اور دعا کی سفارش کی گئی ہے۔ مگر کیوں؟:

الف) بامقصد حیات کا آغاز

دَحْوُ الْأرْض انسانی زندگی کے آغاز کی علامت ہے؛ یعنی وہ لمحہ جب زمین ایک غیر مستحکم حالت سے نکل کر انسان کے ئےقابلِ سکونت بن گئی۔ لیکن یہ موجودگی صرف بقا اور مادی زندگی کے ئےنہیں، بلکہ ایک بلند تر مقصد کے ئےہے: خدا کی معرفت حاصل کرنا اور کمال کے راستے پر چلنا۔

قرآن کریم کے مطابق، انسان کی تخلیق بے مقصد نہیں بلکہ ایک واضح ہدف—عبودیت اور معرفتِ الٰہی—کے ساتھ ہے۔

اس زاویے سے، دَحْوُ الْأرْض کو انسان کے امتحان اور رشد کے آغاز کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے؛ ایک ایسی جگہ جہاں زمین انسان کی تربیت کا مدرسہ بن جاتی ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز—چاہے وہ فطرت ہو یا انسانی تعلقات—انسان کی روحانی صلاحیتوں کے فروغ کا ذریعہ ہے۔

لہٰذا دَحْوُ الْأرْض ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہم صرف “زندہ رہنے” کے ئےنہیں آئے، بلکہ “بہتر بننے اور خدا تک پہنچنے” کے ئےآئے ہیں۔

ب) زمین اور ہدایت کا تعلق

جب زمین کا پھیلاؤ کعبہ سے منسلک کیا جاتا ہے تو یہ ایک گہرا پیغام دیتا ہے کہ زمین کی معنویت ابتدا ہی سے توحید کے محور سے جڑی ہوئی ہے۔

کعبہ صرف ایک عبادت گاہ نہیں، بلکہ انسانی زندگی میں خدا کی مرکزیت کی علامت ہے۔ یہ حقیقت کہ زمین کا پہلا خشک حصہ خانۂ خدا کے پاس ظاہر ہوا، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسانی زندگی کو ابتدا ہی سے الٰہی ہدایت کے دائرے میں ہونا چاہیے۔

یہ تعلق ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مادی زندگی اور روحانی ہدایت کے درمیان جدائی ایک وہم ہے۔ زمین، جو انسان کے ئےپھیلائی گئی، دراصل توحیدی زندگی کے ئےتیار کی گئی ہے—ایسی زندگی جس میں کام، علم، خاندان اور معاشرہ سب خدا کے قرب کے ئےمعنی رکھتے ہیں۔

اسی ئےکعبہ، بطور قبلہ، نہ صرف نماز کی سمت بلکہ پوری زندگی کی سمت متعین کرتا ہے۔

ج) تدبیرِ الٰہی کی یاد دہانی

دَحْوُ الْأرْض تخلیق میں نظم، حکمت اور تدبیرِ الٰہی کی واضح نشانی ہے۔ زمین اچانک یا اتفاقی طور پر اپنی موجودہ حالت تک نہیں پہنچی، بلکہ ایک منظم اور مرحلہ وار عمل کے ذریعے حیات کے ئےتیار کی گئی۔

یہ حقیقت ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات اندھے اتفاق کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک حکیمانہ اور بامقصد ارادے کا مظہر ہے۔

اس تدبیر پر غور کرنے کے اہم تربیتی اثرات ہیں۔ جب انسان جان لیتا ہے کہ دنیا حکمت کے تحت چل رہی ہے، تو اس کا زندگی کے واقعات کو دیکھنے کا انداز بدل جاتا ہے:

  • وہ مشکلات کو بے معنی نہیں سمجھتا
  • اور کامیابیوں کو محض اتفاق نہیں مانتا

بلکہ ہر چیز کو “نظامِ الٰہی” کے دائرے میں دیکھتا ہے۔

لہٰذا دَحْوُ الْأرْض صرف زمین کے آغاز کی یاد دہانی نہیں بلکہ ہماری زندگی میں خدا کی دائمی تدبیر کی موجودگی کی یاد دہانی ہے—ایسی موجودگی جو انسان کو سکون، امید اور سمت عطا کرتی ہے۔

آج کی زندگی میں دَحْوُ الْأرْض کی معرفت کا کردار

اگر دَحْوُ الْأرْض کو صرف ایک تاریخی واقعہ سمجھا جائے تو اس کا اثر محدود رہے گا، لیکن اگر اسے ایک نمونہ (pattern) کے طور پر دیکھا جائے تو یہ زندگی میں انقلاب لا سکتا ہے۔

الف) دحو الارض؛ بیداری (یقظہ) کا نمونہ

ابتدا میں زمین ایسی حالت میں تھی کہ اس پر زندگی ممکن نہیں تھی۔ دَحْوُ الْأرْض اس بے ثباتی سے نکل کر حیات کے ئےآمادگی تک پہنچنے کا عمل تھا—یعنی ایک منتشر حالت سے ایک مستحکم زمین کا بننا۔

انسان کی زندگی بھی اسی طرح ہو سکتی ہے۔ کبھی وہ غفلت، عادتوں اور بے مقصد روزمرہ میں اس طرح ڈوب جاتا ہے کہ نہ اس کے پاس واضح سمت ہوتی ہے اور نہ فیصلوں میں استحکام۔

یہیں “یقظہ” یعنی بیداری، دَحْوُ الْأرْض کی طرح، ایک بنیادی تبدیلی کا آغاز بنتی ہے۔

دَحْوُ الْأرْض ہمیں سکھاتا ہے کہ بیداری کا مطلب ہے:
اندرونی انتشار سے نکلنا
شعور کی ایک مضبوط زمین تک پہنچنا

یہی بیداری روحانی سفر کا پہلا قدم ہے۔

ب) ایک چھوٹے نقطے سے آغاز

دَحْوُ الْأرْض کا ایک نہایت لطیف پیغام یہ ہے کہ زمین کی عظیم وسعت ایک چھوٹے نقطے سے شروع ہوئی۔

یہ حقیقت ہمیں ایک بنیادی اصول سکھاتی ہے:
کوئی بڑی تبدیلی اچانک نہیں آتی
بلکہ ایک “آغاز” سے شروع ہوتی ہے

بہت سے لوگ اس ئےتبدیلی شروع نہیں کرتے کیونکہ وہ سب کچھ ایک ساتھ بدلنا چاہتے ہیں۔

لیکن دَحْوُ الْأرْض ہمیں بتاتا ہے:
بس ایک درست نقطہ چن لو
اور وہیں سے آغاز کرو

ایک باحضور نماز، ایک سچی توبہ، ایک گناہ چھوڑنے کا فیصلہ، یا ایک چھوٹی سی تبدیلی—یہ سب وہ “آغاز” بن سکتے ہیں جو آہستہ آہستہ انسان کی پوری زندگی بدل دیتے ہیں اور اس کے اندرونی دَحْوُ الْأرْض کو حقیقت بنا دیتے ہیں۔

ج) تبدیلی کی امید

دَحْوُ الْأرْض کا ایک نہایت امید افزا پیغام یہ ہے کہ ایک غیر مستحکم اور ناموزوں حالت بھی ایک بہترین اور زندگی کے قابل حالت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

زمین، جو کبھی پانی میں ڈوبی ہوئی اور غیر مستحکم تھی، آج انسانی تہذیب کی بنیاد بن چکی ہے۔

یہ حقیقت آج کے انسان کے لئے، جو کبھی زندگی کی پیچیدگیوں اور دباؤ میں خود کو بند گلی میں محسوس کرتا ہے، ایک واضح پیغام رکھتی ہے:
کوئی حالت آخری نہیں

یہاں تک کہ اگر انسان اندر سے ٹوٹ پھوٹ یا الجھن کا شکار ہو، تب بھی اس کے ئے“اندرونی دحو الارض” ممکن ہے—یعنی استحکام، معنی اور رشد کی طرف واپسی۔

یہ سوچ انسان میں امید اور حرکت پیدا کرتی ہے اور اسے مایوسی سے نکالتی ہے۔

دَحْوُ الْأرْض درحقیقت ایک دعوت ہے:
✨ اس یقین کی دعوت کہ “تبدیلی ممکن ہے”
✨ اور “آغاز ہمیشہ ممکن ہے” 

  یومِ دَحْوُ الْأرْض کے  اعمال

  • روزہ اور عبادت:

روزِ دَحْوُ الْأرْض سال کے اُن چار خاص دنوں میں سے ہے جن میں روزہ رکھنا غیر معمولی اور بے مثال فضیلت رکھتا ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ اس دن کا روزہ ستر سال کے روزوں کے برابر اجر رکھتا ہے، اور ایک دوسری روایت کے مطابق یہ ستر سال کے گناہوں کا کفارہ شمار ہوتا ہے۔

مزید یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص اس دن روزہ رکھے اور اس کی رات عبادت و بندگی میں گزارے تو اس کے ئےسو سال کی عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ اس دن کی عظمت یہاں تک ہے کہ آسمان و زمین کے درمیان تمام مخلوقات روزہ دار کے ئےمغفرت کی دعا کرتی ہیں۔

دَحْوُ الْأرْض وہ دن ہے جس میں اللہ کی رحمت خاص اور وسیع انداز میں نازل ہوتی ہے، اسی ئےیہ عبادت، دعا اور ذکرِ الٰہی کے اجتماعات کے ئےایک نہایت قیمتی اور نادر موقع ہے۔

محمد بن عبداللہ صیقل روایت کرتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام 25 ذیقعدہ کے دن ہمارے درمیان تشریف لائے اور فرمایا:

«صوموا؛ فإِنّی أصبَحتُ صائِماً. قُلنا جُعِلنا فِداک، أی یومٍ هُوَ؟ فقالَ یومٌ نُشِرَت فیهِ الرَّحمَةُ، ودُحیت فیهِ الأَرضُ ونُصِبَت فیهِ الکعبَةُ وَهَبَطَ فیهِ آدَمُ علیه السلام»

"آج روزہ رکھو، کیونکہ میں بھی روزے سے ہوں۔ ہم نے عرض کیا: ہم آپ پر قربان جائیں! یہ کون سا دن ہے؟

فرمایا: یہ وہ دن ہے جس میں رحمت پھیلائی گئی، زمین کو پھیلایا گیا (دحو الارض)، کعبہ قائم کیا گیا، اور آدم علیہ السلام زمین پر نازل ہوئے۔” (اقبال الاعمال، ج ۱، ص ۳۱۰)

  • غسل
  • نماز

اس دن کے ئےشیعہ کتب میں ایک مخصوص نماز ذکر ہوئی ہے، جس کا طریقہ یہ ہے:

دو رکعت نماز، سورج طلوع ہونے کے بعد سے لے کر زوال سے پہلے تک

ہر رکعت میں سورۂ حمد کے بعد پانچ مرتبہ سورہ الشمس پڑھی جائے

سلام کے بعد کہا جائے:

«لا حَوْلَ وَ لا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ الْعَلِی الْعَظِیمِ»

"کوئی حرکت اور قوت نہیں مگر اللہ بلند و عظیم کے ذریعے”

پھر دعا کی جائے:

«یا مُقِیلَ الْعَثَرَاتِ أَقِلْنِی عَثْرَتِی یا مُجِیبَ الدَّعَوَاتِ أَجِبْ دَعْوَتِی یا سَامِعَ الْأَصْوَاتِ اسْمَعْ صَوْتِی وَارْحَمْنِی وَ تَجَاوَزْ عَنْ سَیئَاتِی وَ مَا عِنْدِی یا ذَاالْجَلالِ وَالْإِکرَامِ»

"اے لغزشوں کو معاف کرنے والے! میری لغزش کو معاف کر دے۔

اے دعا قبول کرنے والے! میری دعا قبول فرما۔

اے آوازوں کو سننے والے! میری آواز سن اور مجھ پر رحم فرما،

اور میری برائیوں اور میرے حال سے درگزر فرما،

اے جلال اور کرم والے!"

  • زیارت

میرداماد نے اپنی کتاب «رسالة اربعة ایام» میں لکھا ہے کہ اس دن امام رضا علیہ السلام کی زیارت

سب سے افضل مستحب اعمال میں سے ہے اور نہایت مؤکد ہے۔

  • مخصوص دعا

اس دن کی مخصوص دعا شیخ طوسی کی کتاب مصباح المتهجد میں نقل ہوئی ہے اور اس کے پڑھنے کی بہت تاکید کی گئی ہے۔

خلاصۂ کلام

دَحْوُ الْأرْض صرف تخلیق کے آغاز میں زمین کے پھیلاؤ کی یاد نہیں، بلکہ ایک زندہ علامت ہے ایک گہری حقیقت کی جو انسانی زندگی میں جاری ہے:

  • اللہ نے حکمت کے ساتھ زمین کو حیات کے ئےتیار کیا
  • اور انسان کو رشد، آگاہی اور کمال کے سفر کے ئےپیدا کیا

یہ دونوں ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں:

"بستر” اور "راستہ” اگر زمین بے قرار پانیوں سے نکل کر استحکام اور زندگی کے قابل بنی، تو یہ انسان کے ئےایک واضح پیغام ہے: بے چین دل بھی سکون پا سکتا ہے۔  منتشر ذہن بھی یکسوئی حاصل کر سکتا ہے

جیسے کائنات نے تکامل کا سفر طے کیا، ویسے ہی انسان بھی کمال کا سفر طے کر سکتا ہے۔

دوسری طرف، دَحْوُ الْأرْض ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہر بڑی تبدیلی ایک “نقطہ آغاز” سے شروع ہوتی ہے۔

زمین کا پھیلاؤ ایک نقطے سے شروع ہوا، اور ہماری زندگی کی تبدیلی بھی ایک فیصلے کے لمحے سے شروع ہو سکتی ہے—وہ لمحہ جب انسان غفلت سے نکل کر اپنے راستے کو از سر نو متعین کرتا ہے اور خدا کی طرف لوٹتا ہے۔

آخری پیغام: دَحْوُ الْأرْض صرف ایک تقویمی دن نہیں، بلکہ ایک ہمیشہ کی دعوت ہے:

دوبارہ آغاز کی دعوت

دل کی زمین کو آباد کرنے کی دعوت

بیداری، معنی اور کمال کے راستے پر چلنے کی دعوت

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔