اداریہ – جلد 03 شمارہ 26

Editorial - volume 03 Issue 26
Last Updated: جون 26, 2026By Categories: اداریہ0 Comments on اداریہ – جلد 03 شمارہ 260 min readViews: 9

توبہ سے استقامت تک: ایک پُرآشوب زمانے میں محرم سےملنے والے  سبق

تمہید

اس ہفتے کے آغاز کے ساتھ ہی یہ مناسبتیں ہمیں دعوت دیتی ہیں کہ تاریخ کو محض یادِ ماضی یا جذباتی وابستگی کے طور پر نہیں، بلکہ ایک رہنما کے طور پر پڑھیں۔ اسلام میں ماضی کو یاد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے کردار کی اصلاح کرے، اپنے ضمیر کو مضبوط بنائے، اور عبادت کو زندگی کے اجتماعی اور سماجی میدان میں لے آئے۔

۹ محرم:  تاسوعا

تاسوعا،  عاشورا سے ایک رات پہلے کی رات ہے؛ وہ آخری رات جس کے بعد امام حسینؑ اور ان کے وفادار ساتھی کربلا میں شہید ہوئے۔ انسانی تاریخ کے سینےمیں یہ رات وفاداری، غم اور عظیم قربانی سے پہلے آخری روشن انتخاب کی رات ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

حُسَيْنٌ مِنِّي، وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ

"حسینؑ مجھ سے ہیں اور میں حسینؑ سے ہوں۔ اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسینؑ سے محبت کرے۔ حسینؑ میری اولاد میں سے ایک عظیم فرزند اور اپنی قوم کے پیشوا ہیں۔"

آج کا پیغام:

تاسوعا آج کے مسلمانوں سے پوچھتا ہے: جب حق کا ساتھ دینا مہنگا پڑ جائے، تو کیا ہم آرام طلبی کا راستہ اختیار کریں گے یا اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہیں گے؟

۱۰ محرم: امام حسینؑ  اور آپ کے جملہ رفقاءکی شہادت (عاشورا)

عاشورا صرف وہ دن نہیں جب امام حسینؑ اور ان کے ساتھی شہید ہوئے، بلکہ یہ حق، عدل اور ایمان کے دفاع میں قربانی اور ایثار کی دائمی علامت ہے۔ روایت ہے کہ عاشورا کے دن جب بھی امام حسینؑ کا کوئی وفادار ساتھی شہید ہوتا تو آپؑ یہ آیت تلاوت فرماتے:

مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا

"مؤمنوں میں ایسے مرد موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا۔ ان میں سے بعض اپنا عہد پورا کر چکے ہیں اور بعض انتظار میں ہیں، اور انہوں نے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔"

یہ آیت شرافت، وفاداری اور انسانیت کے ان اعلیٰ ترین اصولوں کی عکاسی کرتی ہے جو امام حسینؑ کی ذات میں جلوہ گر تھے۔

آج کا پیغام:

حق کی راہ میں آنے والی مشکلات ہمیں کمزور نہیں بلکہ مزید ثابت قدم بنانی چاہئیں۔

۱۱ محرم: حضرت آدمؑ کی رحلت

حضرت آدمؑ کی زندگی خطا، توبہ اور اللہ کی طرف رجوع کا سبق دیتی ہے۔

آج کا پیغام:

 ایسی دنیا میں جہاں لوگ خود کو گویا ہمیشہ زندہ سمجھتے ہیں، آدمؑ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ حسابِ آخرت کی تیاری کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ نرمی اختیار کریں۔

۱۱ محرم: اہلِ بیتِ کربلا کی اسیری

کربلا کے دلخراش سانحے کے بعد امام حسینؑ کے اہلِ بیتؑ اور امام زین العابدینؑ کو قیدی بنا کر کوفہ لے جایا گیا۔

آج کا پیغام:

وقار اور عزتِ نفس کی حفاظت کریں، خصوصاً اس وقت جب طاقت اپنے آپ کو فاتح سمجھ رہی ہو۔

۱۱ محرم: قافلۂ اسیران کا کربلا سے روانہ ہونا

یزید نے اس قافلے کو ذلت پہنچانے اور کربلا کی حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش کی، لیکن اللہ کا فیصلہ کچھ اور تھا۔

یہی قافلہ امام حسینؑ کی مظلومیت اور یزید کی گمراہی کا سب سے بڑا گواہ بن گیا۔

آج کا پیغام:

کمزوروں کی حفاظت کریں، ظلم کو سچائی کے ساتھ ثبت کریں، اور مظلوموں کو تاریخ کے صفحات سے مٹنے نہ دیں۔

۱۱ محرم: رحلتِ علامہ حلیؒ

علامہ حلیؒ شیعہ فقہ اور کلام کے عظیم علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی علمی خدمات آج بھی اسلامی تحقیق کا اہم سرمایہ ہیں۔

آج کا پیغام:

علماء کی میراث کو پڑھ کر، سمجھ کر اور اس پر عمل کر کے ان کا احترام کریں۔

۱۲ محرم: اہلِ بیتؑ کا کوفہ میں داخلہ

قافلۂ اسیران جب کوفہ پہنچا تو ان کی مظلومیت اس طاقت کے خلاف ایک خاموش احتجاج بن گئی جو خود کو حق پر سمجھتی تھی۔

آج کا پیغام:

جسمانی قید انسان کے اثر کو ختم نہیں کر سکتی، لیکن روح کی غلامی سب سے بڑی مصیبت ہے۔

۱۲ محرم: شہادتِ امام زین العابدینؑ

امام سجادؑ صبر، توکل اور دعا کے ذریعے ظلم کے خلاف جدوجہد کی روشن مثال ہیں۔

صحیفۂ سجادیہ ان کے عرفان اور توحیدی معرفت کا زندہ شاہکار ہے۔

آج کا پیغام:

مشکلات میں دعا کو اپنا ہتھیار بنائیں اور اللہ سے آسانی طلب کریں۔

۱۳ محرم: شہدائے کربلا کی تدفین

اس دن قبیلۂ بنی اسد نے شہدائے کربلا کے پاکیزہ اجساد کو دفن کیا۔

یزیدی لشکر نے ان مقدس ہستیوں کی بے حرمتی میں کوئی کسر نہ چھوڑی، لیکن اللہ نے کربلا کو ہمیشہ کے لیے عزت اور تقدس عطا فرمایا۔

آج کا پیغام:

شہدائے کربلا کی زندگیوں کا مطالعہ کریں اور ان صفات کو اپنائیں جنہوں نے انہیں امام حسینؑ کے لشکر کا حصہ بنایا: ایمان، وفاداری، اخلاص، شجاعت اور استقامت۔

۱۳ محرم: اسیران کا ابن زیاد کے دربار میں حاضر ہونا

حضرت زینبؑ اور امام سجادؑ نے ابن زیاد کے دربار میں نہایت فصاحت، شجاعت اور وقار کے ساتھ حق کا دفاع کیا اور بنی امیہ کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا۔

آج کا پیغام:

استبداد خود کو طاقتور ظاہر کر سکتا ہے، لیکن سچائی زنجیروں میں بھی بول سکتی ہے۔ طاقت کے مظاہرے کو اخلاقی حقانیت نہ سمجھیں۔

28 جون: شہادتِ آیت اللہ ڈاکٹر محمد بہشتیؒ

آیت اللہ سید محمد بہشتیؒ صرف ایک سیاست دان نہیں تھے بلکہ ایک عالم، فلسفی، مفکر اور عارف تھے۔

انہوں نے ایمان اور عقلانیت کو ساتھ لے کر چلنے کا عملی نمونہ پیش کیا، اسی لیے اسلام اور انسانیت کے دشمن ان کے اثر کو برداشت نہ کر سکے اور انہیں شہید کر دیا۔

آج کا پیغام:

شہید بہشتیؒ کی طرح ایمان اور عقلانیت دونوں کو ساتھ لے کر چلیں۔ یہ ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں، جو ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔