موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 26

Topic of the Week - Volume 03 Issue 26
Last Updated: جون 26, 2026By Categories: موضوعِ ہفتہ0 Comments on موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 260 min readViews: 11

عاشورا اور اسلام کی حفاظت؛ اقتصادی  جرائم اور عقیدتی تحریف  جیسےخطروں کا مقابلہ

سید  ہاشم  موسوی

مقدمہ

محرم محض تاریخ کا ایک ورق نہیں، اور عاشورا کوئی وقتی سانحہ نہیں؛ عاشورا ایک دائمی مدرسہ ہے جہاں انسان سیکھتا ہے کہ کس طرح آرمان کے ساتھ جینا اور خوب صورتی کے ساتھ مرنا ہے۔

سنہ ۶۱ ہجری کے واقعات اور اس مکتب کی تعلیمات کا دقیق مطالعہ ہمیں اس کے بانی، یعنی امام حسینؑ، کی گہری بصیرت اور بلند مقاصد تک پہنچاتا ہے؛ وہ سرخ  مقصد جو آپؑ اور آپؑ کے باوفا اصحاب کی جانوں کے برابر قیمتی تھے۔

لیکن ان  مقاصد کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ تاریخ میں انسانوں نے زندگی کو کس زاویے سے دیکھا ہے؛ کیونکہ عاشورا کی تحریک اور تاریخ کی دیگر تحریکوں کے درمیان بنیادی فرق اسی “فلسفۂ زندگی” کے زاویۂ نگاہ میں پوشیدہ ہے۔

انسانی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کے بارے میں انسانوں کا نقطۂ نظر عموماً تین قسموں سے باہر نہیں رہا:

پہلا نقطۂ نظر: لذت کو اصل سمجھنا

یہ نظریہ ان لوگوں کا ہے جن کے نزدیک زندگی کا تمام مقصد لذت، آسائش، تفریح اور مادی فائدہ ہے۔ ان کا غیر تحریری نعرہ یہ ہے: “بس مجھے مزہ آنا چاہیے۔”

قرآن کریم ایسے طرزِ فکر کے وجود کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی مذمت فرماتا ہے:

ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ

انہیں چھوڑ دو کہ کھائیں، فائدہ اٹھائیں اور آرزوئیں انہیں غافل رکھیں؛ عنقریب وہ جان لیں گے۔

(سورۂ حجر، آیت ۳)

یقیناً اسلام خوشی اور اللہ کی جائز نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا مخالف نہیں؛ اصل مشکل وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں وقتی لذتیں زندگی کا آخری مقصد بن جائیں۔

دوسرا نقطۂ نظر: کامیابی کو اصل سمجھنا

یہ سوچ ان لوگوں کی ہے جو سطحی لذتوں سے ایک قدم آگے بڑھ کر بڑی کامیابیوں، شہرت، طاقت، سماجی مقام اور دولت کے حصول کے خواہاں ہوتے ہیں۔ اس گروہ کا نعرہ ہے: “بس میں کامیاب ہو جاؤں۔

یہ لوگ پہلے گروہ سے زیادہ متحرک ضرور ہیں، لیکن ان کی زندگی کا محور اب بھی “خود” ہے، اور وہ ہر چیز کو ذاتی مفاد کے دائرے میں دیکھتے ہیں۔

تیسرا نقطۂ نظر: ذمّے داری اور عظیم مقصد کو اصل سمجھنا

تیسرا گروہ رسالت شناس انسانوں کا ہے؛ وہ ذاتی مفادات اور خود غرضیوں کی سرحدوں سے گزر کر ایک بڑی حقیقت، یعنی ایک الٰہی اور انسانی مشن کے لیے جیتے ہیں۔ ان کا حماسی نعرہ یہ ہے:

“مجھے اپنا فرض ادا کرنے دو، چاہے اس کی قیمت میری جان ہی کیوں نہ ہو۔”

عاشورا کا عظیم حماسہ اسی تیسرے گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔ امام حسینؑ نے اسلام کی تاریخ کی عظیم ترین دینی اور سیاسی شخصیات میں سے ایک ہونے کے ناتے اپنی پاکیزہ جان اسی مقدس آرمان پر قربان کی۔

آپؑ کی تحریک کی عظمت بھی اسی آرمان کی عظمت کے مطابق ہے؛ وہ آرمان جو عاشورا کے بارے میں شیعہ فکر کا خلاصہ ہے، اور اسے ایک جملے میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

اسلام کو انحراف اور نابودی کے خطرے سے بچانا۔

نوخیز اسلام کو درپیش سب سے بڑا خطرہ

جب ہم امام حسینؑ کے سب سے بلند مقصد کو “اسلام کو نابودی کے خطرے سے محفوظ رکھنا” قرار دیتے ہیں، تو ہر محقق کے ذہن میں پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ:

“اس زمانے میں اسلام کو سب سے بڑے خطرات کون سے لاحق تھے؟”

اس سوال کا بہترین جواب خود امام حسینؑ کے کلام اور اپنے زمانے کے حالات کی آپؑ کی تشریح میں موجود ہے۔ کربلا کے راستے میں مشہور شاعر فرزدق سے ملاقات کے موقع پر امامؑ نے اموی حکومت کے خطرات اور مفاسد کو یوں بیان فرمایا:

يا فَرَزْدَقُ انَّ هؤُلاءِ قَوْمٌ لَزِمُوا طاعَةَ الشَّیْطانِ، وَ تَرَکُوا طاعَةَ الرَّحْمانِ، وَ أَظْهَرُوا الْفَسادَ فِی الْأَرْضِ، وَ ابْطَلُوا الْحُدُودَ، وَ شَرِبُوا الْخُمُورَ، وَ اسْتَأْثَرُوا فِی أَمْوالِ الْفُقَراءِ وَ الْمَساکینَ، وَ أَنَا أَوْلی‌ مَنْ قامَ بِنُصْرَةِ دینِ اللَّهِ

اے فرزدق! یہ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے شیطان کی اطاعت کو لازم پکڑ لیا ہے اور خدائے رحمان کی اطاعت کو چھوڑ دیا ہے؛ زمین میں فساد کو ظاہر کر دیا ہے، حدودِ الٰہی کو معطل کر دیا ہے، شراب نوشی اختیار کر لی ہے، اور فقرا و مساکین کے اموال کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ رکھاہے۔ ایسے حالات میں، میں سب سے زیادہ حق دار ہوں کہ دینِ خدا کی نصرت کے لیے قیام کروں۔

(تذکرة الخواص، ص ۲۱۷-۲۱۸)

یہ کلام سید الشہداءؑ کی طرف سے اس زمانے کی سب سے واضح تصویر ہے۔ اسی بنیاد پر آپؑ نے مدینہ میں بھی یزید جیسے فاسد حاکم کی ولایت کو قبول کرنا دین کی موت کے برابر قرار دیا اور فرمایا:

وَعَلَى الإِسْلَامِ السَّلَامُ إِذْ قَدْ بُلِيَتِ الأُمَّةُ بِرَاعٍ مِثْلِ يَزِيد

جب امت یزید جیسے حاکم میں مبتلا ہو جائے تو اسلام کو الوداع کہنا چاہیے۔

لہٰذا سطحی تصور کے برخلاف، اسلام کو سب سے بڑا خطرہ عوام کی طرف سے نہیں بلکہ اسلامی معاشرے کے حکمرانوں کی طرف سے لاحق تھا۔ ان خطرات کے اہم عنوانات یہ تھے:

  1. شیطان کی ولایت اور اطاعت کو قبول کرنا
  2. خدائے رحمان کی اطاعت کو ترک کرنا
  3. معاشرے میں فساد کو پھیلانا اور نمایاں کرنا
  4. الٰہی احکام اور حدود کو معطل کرنا
  5. عمومی اموال پر قبضہ کر کے انہیں اپنے مفاد میں استعمال کرنا

الٰہی احکام کی معطلی کا روشن ترین مظہر

ان تمام خطرات میں “عوامی نگرانی کی معطلی” اور “نخبگان کو خاموشی پر مجبور کرنا” الٰہی احکام سے معاشرے کے دور ہو جانے کی سب سے نمایاں علامت تھی۔ یہی بنیادی انحراف تھا جس نے امام حسینؑ کو اس کے مقابل کھڑا ہونے پر آمادہ کیا، یہاں تک کہ آپؑ نے اس راہ میں اپنی جان قربان کر دی۔

عوامی نگرانی کی معطلی درحقیقت “امر بالمعروف اور نہی عن المنکر” جیسے ترقی پسند اور حیاتی اصول کو گوشہ نشین کرنے کے مترادف تھی۔

اس فریضے کی اہمیت اتنی عظیم ہے کہ امیرالمؤمنین علیؑ تمام نیک اعمال، حتیٰ جہاد فی سبیل اللہ، کا اس کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وَما أَعْمالُ الْبِرِّ كُلُّها وَالْجِهادُ في سَبيلِ اللهِ عِنْدَ الْأَمْرِ بِالْمَعْروفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ إِلّا كَنَفْثَةٍ في بَحْرٍ لُجِّيٍّ

تمام نیک اعمال اور حتیٰ اللہ کی راہ میں جہاد بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مقابل ایسے ہیں جیسے ایک گہرے سمندر کے مقابل تھوک کا ایک قطرہ۔

قرآن کریم بھی سورۂ مائدہ کی آیات ۷۸ اور ۷۹ میں بنی اسرائیل کے زوال کی جڑ اسی فریضے کے ترک کرنے کو قرار دیتا ہے:

لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ… كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوه

بنی اسرائیل کے کافر لعنت کیے گئے… کیونکہ وہ ایک دوسرے کو ان برائیوں سے نہیں روکتے تھے جو وہ انجام دیتے تھے۔

رسول اکرم ﷺ نے بھی پہلے ہی اس اصول کے ترک کرنے کے نتائج سے خبردار فرمایا تھا کہ جب یہ فریضہ معطل ہو جائے گا تو بدترین لوگ معاشرے پر مسلط ہو جائیں گے، اور پھر نیک لوگوں کی دعا بھی قبول نہیں ہو گی۔

امام حسینؑ میدان میں آئے تاکہ اس کٹے ہوئے حیاتی شریان کو دوبارہ معاشرے کے دل سے جوڑ دیں۔ اسی لیے آپؑ نے اپنی تحریک کے منشور میں صاف اعلان فرمایا:

أُرِيدُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَ أَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ

“میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں۔”

بنی امیہ کے طریقے: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو معطل کرنا

بنی امیہ نے کبھی اس حیاتی اصول کو سرکاری اعلانات یا کھلے حکومتی احکامات کے ذریعے معطل نہیں کیا؛ کیونکہ کسی دینی فریضے کو رسمی طور پر ختم کرنا عوام کے شدید ردعمل کا سبب بن سکتا تھا۔

انہوں نے یہ ناپاک مقصد مختلف طبقوں کی کمزوریوں اور قوتوں کو سامنے رکھتے ہوئے پیچیدہ پالیسیوں کے ذریعے نافذ کیا۔ اموی نظام نے اس راستے میں دو بڑی حکمت عملیاں اختیار کیں:

۱. خواص میں اقتصادی رانت اور حرام خوری کو فروغ دینا

بنی امیہ نے معاشرے کے بااثر اقتصادی طبقے اور دولت مند افراد کو بڑی بڑی مالی رعایتوں، رانتوں اور مادی آسودگی کے ذریعے خاموش کر دیا۔

خواص نے سمجھ لیا کہ ان کے مالی مفادات اور دولت کا تحفظ اسی میں ہے کہ وہ حکومت کے فساد، عمومی اموال کی لوٹ مار اور دین کے اصلاحی احکام کے خاتمے سے چشم پوشی کریں۔

یہ تلخ حقیقت امام حسینؑ کے عاشورا کے دن کے کلام میں صاف ظاہر ہوتی ہے۔ جب عمر بن سعد کا لشکر امامؑ سے جنگ کے لیے تیار ہوا اور آپؑ کو گھیر لیا، تو امامؑ نے قدم آگے بڑھایا تاکہ انہیں خاموش ہو کر حق کی بات سننے کی دعوت دیں؛ لیکن کوفہ کے لشکر نے شور و غوغا سے امامؑ کی آواز سننے سے انکار کر دیا۔

اس موقع پر امامؑ نے ایک تاریخی جملے میں ان کی سنگ دلی اور حق قبول نہ کرنے کی اصل جڑ بیان کرتے ہوئے فرمایا:

فَقَدْ مُلِئَتْ بُطُونُكُمْ مِنَ الْحَرَامِ، وَ طُبِعَ عَلَى قُلُوبِكُمْ

تمہارے پیٹ حرام سے بھر چکے ہیں اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔

یہ تجزیہ اسی بات کی تکمیل تھا جو آپؑ نے پہلے فرزدق سے فرمایا تھا:

وَاسْتَأْثَرُوا فِي أَمْوَالِ الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ

انہوں نے فقرا اور مساکین کے اموال کو اپنے لیے مخصوص کر لیا ہے۔

اموی اس غاصبانہ طرزِ فکر کو ظاہر کرنے سے بھی نہیں شرماتے تھے۔ چنانچہ معاویہ سے نقل ہوا ہے کہ وہ کہا کرتا تھا:

الأرض لله وأنا خليفة الله، فما أخذتُ فلي وما تركتُ للناس فبفضلي

زمین اللہ کی ہے اور میں اللہ کا خلیفہ ہوں؛ جو کچھ میں لے لوں وہ میرا ہے، اور جو لوگوں کے لیے چھوڑ دوں وہ میری مہربانی ہے۔

(انساب الأشراف، بلاذری، ص ۱۱۰۹)

اس سلطنتی سوچ نے بیت المال کو “عوامی امانت” سے بدل کر “حکومت کے ذاتی خزانے” میں تبدیل کر دیا۔

تاریخی منابع میں آیا ہے کہ حجاز، شام اور عراق کی وسیع زمینیں اموی خاندان کے قبضے میں آ گئیں، اور گورنر مختصر مدت میں افسانوی دولت کے مالک بن گئے؛ ایک ایسی طبقاتی خلیج جس نے عام مسلمانوں کو فقر و محرومی میں رکھا۔

یہ وہی خطرہ تھا جس کے بارے میں امام علیؑ نے برسوں پہلے خبردار کرتے ہوئے فرمایا تھا:

إِذَا بَلَغَ بَنُو أَبِي الْعَاصِ ثَلَاثِينَ رَجُلًا جَعَلُوا مَالَ اللَّهِ دُوَلًا بَيْنَهُمْ

جب بنی ابی العاص اقتدار تک پہنچیں گے تو مالِ خدا کو آپس میں گردش دینے لگیں گے۔

(المستدرك على الصحيحين، ص ۸۷۰)

یوں معاشرے کے خواص کا ایک حصہ، جو حکومت کے دسترخوان سے وابستہ تھا، جہالت کی وجہ سے نہیں بلکہ شدید اقتصادی وابستگی کی وجہ سے خاموش ہو گیا؛ کیونکہ امر بالمعروف کا احیا ان کی ناجائز آمدنی کے خاتمے کے برابر تھا۔

۲. دینی تعلیمات کی تحریف اور  دین خدا کو اپنی دنیا کا آلۂ کار بنالینا

بنی امیہ نے معاشرے کے فکری، مذہبی اور علمی نخبگان کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک اور حکمت عملی اختیار کی۔ انہوں نے دینی مفاہیم کو مسخ کرنے اور اسلامی معیاروں کو الٹ دینے کا راستہ اپنایا۔

یہ ساختاری تحریف دراصل عوام کے ذہن میں حق و باطل کو پہچاننے کے معیار کو تباہ کرنے کے برابر تھی۔ اموی اچھی طرح جانتے تھے کہ حکومت صرف تلوار کے زور پر قائم نہیں رہ سکتی؛ عوام کے ذہنوں کو بھی تسخیر کرنا ضروری ہے۔ اسی لیے انہوں نے اپنے ظلم اور فساد کو دینی رنگ دے دیا۔

ان کی سب سے اہم تحریفوں میں سے ایک “قضا و قدر” کے مفہوم کا غلط استعمال اور “جبرگرائی” کے افراطی نظریے کی ترویج تھی۔

حکومتی نظام یہ تاثر دیتا تھا کہ:

  • بنی امیہ کی حکومت خدا کی حتمی مشیت اور تقدیر ہے۔
  • حکمرانوں کی دولت اللہ کی رضا اور عنایت کی علامت ہے۔
  • عوام کی غربت اور محرومی تکوینی تقدیر کا حصہ ہے۔
  • لہٰذا حاکم کے خلاف کوئی بھی اعتراض، خدا کی مشیت کے خلاف اعتراض ہے۔

حالانکہ قرآن کریم انسان کی ذمہ داری اور ارادے کو بنیادی اصل قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے:

إِنَّ اللَّهَ لا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ

بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔

(سورۂ رعد، آیت ۱۱)

اور فرماتا ہے:

وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى

اور انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔

(سورۂ نجم، آیت ۳۹)

یعنی معاشرے کا ظلم اور پسماندگی انسانوں کے اپنے انتخاب اور عمل کا نتیجہ ہے، نہ کہ پروردگار کی طرف سے مسلط کی گئی تقدیر۔

اس عقیدتی تحریف کی نمایاں مثال کوفہ میں عبیداللہ بن زیاد اور حضرت زینبؑ کے درمیان گفتگو ہے۔ ابن زیاد نے غرور سے پوچھا:

كيف رأيتِ صنعَ الله بأخيك؟

تم نے اپنے بھائی کے ساتھ خدا کے عمل کو کیسا دیکھا؟

وہ چالاکی سے اپنے جرم کو خدا کی طرف منسوب کرنا چاہتا تھا۔

لیکن عقیلہ بنی ہاشمؑ نے اپنے فیصلہ کن جواب سے اس کی سازش کو ناکام بنا دیا اور فرمایا:

ما رأيتُ إلا جميلاً

میں نے زیبائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔

پھر آپؑ نے واضح کیا کہ یہ واقعہ ظالموں کا جرم تھا، اور وہ بہت جلد عدلِ الٰہی کی عدالت میں جواب دہ ہوں گے۔

اسی طرح کا رویہ یزید بن معاویہ نے بھی اختیار کیا۔ وہ بھی امامؑ کی شہادت کو تقدیرِ الٰہی سے جوڑنا چاہتا تھا تاکہ اپنی ذاتی ذمہ داری کو چھپا سکے۔

نتیجہ

بنی امیہ نے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے ایک دوہرا منصوبہ آگے بڑھایا:

ایک طرف انہوں نے حرام خوری اور اقتصادی رانت کو فروغ دے کر خواص کی زبانِ تنقید اور اصلاح کو خشک کر دیا؛ اور دوسری طرف اصیل دینی مفاہیم کو تحریف کر کے عوام سے حق و باطل کی پہچان کی صلاحیت چھین لی۔

ان دونوں رجحانات کا لازمی نتیجہ عوامی نگرانی، یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، کی مکمل معطلی تھا۔

عاشورا کا عظیم حماسہ ان دونوں تباہ کن منصوبوں کے خلاف ایک ہمہ گیر قیام تھا۔ امام حسینؑ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی قدر کو زندہ کر کے ایک طرف اہل بیتؑ کی فکری مرجعیت اور ہدایت گری کو دوبارہ قائم کیا، اور دوسری طرف نبوی اسلام کے اصیل معیاروں کو تحریف کے گہرے غبار سے باہر نکالا۔

اسی لیے عاشورا کبھی ایک سادہ فوجی جنگ کا دن نہیں تھا؛ بلکہ اسلام کی حقیقی روح کی حفاظت اور صیانت کے لیے تاریخ کی سب سے عظیم، سب سے پائدار اور سب سے اصلاحی تحریک  کا دن ہے۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔