فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 24

Fatwa Panel of the Week - Volume 03 Issue 24
Last Updated: جون 11, 2026By Categories: فتویٰ پینل0 Comments on فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 240 min readViews: 6

نمازِ جماعت – تیسرا حصہ

مراجعِ عظامِ تقلید شهید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی اور آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (دام عزّہم العالی) کے فتوؤں کے مطابق۔

نوٹ: اس پینل میں مسائل کا ذکر (بلا اختلاف یا حوالہ کےساتھ )
جومسائل بغیر کسی مخالف رائے یا خاص حوالہ کے ذکر کئے گئے ہیں، وہ تینوں بزرگ مراجع کے مشترک فتاوی ہیں۔ اور جہاں کسی ایک مرجع کا فتویٰ دوسرے دو سے مختلف ہو، وہاں اسی نمبر کے تحت  اس  مرجع کےنام کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔

نماز  کے اذکارمیں مقتدی کا امام جماعت کی پیروی کرنا

الف) تکبیرۃ الاحرام

  1. مقتدی کو چاہیے کہ تکبیرۃ الاحرام امام جماعت سے پہلے نہ کہے، بلکہ احتیاطِ واجب کی بنا پر انتظار کرے یہاں تک کہ امام اپنی تکبیر مکمل کر لے۔

آیت اللہ سیستانی: احتیاطِ مستحب یہ ہے کہ مقتدی اس وقت تک تکبیر نہ کہے جب تک امام کی تکبیر مکمل نہ ہو جائے۔

  1. جب امام تکبیر شروع کر دے، اگر پہلی صف کے نمازی تکبیر کہنے کے لیے تیار ہوں اور ان کی تکبیر میں زیادہ تاخیر نہ ہو، تو بعد والی صفوں کے افراد بھی تکبیر کہہ سکتے ہیں۔ 

ب) سورۂ حمد اور سورہ کی قرائت

  1. مقتدی کو نماز کے تمام اذکار خود پڑھنے چاہئیں، سوائے سورۂ حمد اور سورہ کے، جو پہلی اور دوسری رکعت میں امام کی ذمہ داری ہیں۔ البتہ اگر مقتدی تیسری یا چوتھی رکعت میں جماعت کے ساتھ شامل ہو تو اسے حمد اور سورہ خود پڑھنا ہوگا۔
  2. نمازِ فجر اور نمازِ مغرب و عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں:
  • اگر مقتدی امام کی قرائت کی آواز سن رہا ہو، اگرچہ الفاظ واضح طور پر سمجھ میں نہ آئیں، تو اسے حمد اور سورہ نہیں پڑھنا چاہیے۔
  • اگر الفاظ کا کچھ حصہ سنائی دے تب بھی احتیاطِ واجب کی بنا پر سوروں کو نہ پڑھے۔
  • اگر امام کی آواز نہ سنائی دے تو مستحب ہے کہ حمد اور سورہ آہستہ پڑھے، اور اگر بھول کر بلند آواز سے پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں۔

آیت اللہ مکارم شیرازی: اگر مقتدی نمازِ فجر، مغرب یا عشاء میں امام کی قرائت کی آواز سن لے تو اسے حمد اور سورہ ترک کر دینا چاہیے، اور اگر آواز نہ سن سکے تو حمد اور سورہ پڑھ سکتا ہے، لیکن آہستہ آواز میں پڑھے۔

  1. نمازِ ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں احتیاطِ واجب کی بنا پر مقتدی کو حمد اور سورہ نہیں پڑھنا چاہیے، بلکہ مستحب ہے کہ ان کی جگہ ذکر کہے۔ 

ج) اذکار میں آگے یا پیچھے ہونا

  1. تکبیرۃ الاحرام کے علاوہ اگر مقتدی نماز کے دوسرے اذکار امام سے پہلے یا بعد میں کہے تو نماز صحیح ہے، اگرچہ احتیاطِ مستحب یہ ہے کہ جہاں امام کے ذکر کا وقت معلوم ہو وہاں مقتدی امام سے پہلے ذکر نہ کہے۔ 

نماز کے افعال میں مقتدی کا  امام کی پیروی کرنا

کلی قاعدہ

  1. مقتدی کو نماز کے افعال امام کے ساتھ یا اس کے تھوڑا بعد انجام دینے چاہئیں۔ اگر جان بوجھ کر امام سے آگے نکل جائے یا اتنا پیچھے رہ جائے کہ عرفاً امام کی پیروی شمار نہ ہو، تو اس کی نماز جماعت سے نہیں ہوگی بلکہ نماز فرادیٰ شمار ہوگی۔ 

رکوع کے احکام

  1. اگر مقتدی سہواً امام سے پہلے رکوع میں چلا جائے:
  • اسے رکوع سے اٹھ کر دوبارہ امام کے ساتھ رکوع میں جانا چاہیے، اس صورت میں جماعت صحیح ہے۔
  • اگر واپس نہ لوٹے تو اس کی نماز فرادیٰ کے طور پر صحیح ہوگی۔
  1. اگر مقتدی سہواً امام سے پہلے رکوع سے سر اٹھا لے:
  • اگر امام ابھی رکوع میں ہو تو مقتدی کو دوبارہ رکوع میں جانا چاہیے، اور اس اضافی رکوع سے نماز باطل نہیں ہوگی۔
  • لیکن اگر وہ رکوع کی طرف لوٹے اور امام کے رکوع تک پہنچنے سے پہلے امام رکوع سے اٹھ جائے تو نماز باطل ہو جائے گی۔ 

سجدے کے احکام

  1. اگر مقتدی سہواً امام سے پہلے سجدے میں چلا جائے تو اسے سر اٹھا کر امام کے ساتھ دوبارہ سجدہ کرنا چاہیے، اور جماعت صحیح ہوگی۔
  2. اگر مقتدی سہواً امام سے پہلے سجدے سے سر اٹھا لے اور دیکھے کہ امام ابھی سجدے میں ہے، تو دوبارہ سجدے میں واپس جائے۔ اگر امام کے سجدے تک نہ پہنچ سکے تب بھی نماز صحیح ہے، لیکن اگر یہی صورت ایک رکعت کے دونوں سجدوں میں پیش آئے تو نماز باطل ہو جائے گی۔
  3. اگر مقتدی سہواً رکوع یا سجدے سے امام سے پہلے اٹھ جائے اور پھر واپس نہ لوٹے ، بھول جانے کے سبب یا  اس خیال سے کہ وہ  امام تک نہیں پہنچ سکے گا، تو اس کی نماز صحیح ہے۔

آیت اللہ سیستانی: اگر مقتدی سہواً امام سے پہلے رکوع سے سر اٹھا لے اور امام ابھی رکوع میں ہو تو احتیاط کی بنا پر دوبارہ رکوع میں واپس جائے اور امام کے ساتھ سر اٹھائے۔ اس صورت میں اضافی رکوع نماز کو باطل نہیں کرتا۔ لیکن اگر جان بوجھ کر واپس نہ لوٹے تو احتیاط کی بنا پر جماعت باطل ہو جائے گی، اگرچہ نماز صحیح رہے گی۔ اور اگر وہ رکوع میں واپس جائے لیکن امام کے رکوع تک پہنچنے سے پہلے امام سر اٹھا لے تو احتیاط کی بنا پر نماز باطل ہے۔ 

اقتدا یا امام جماعت کو معین کرنے میں غلطی کے  احکام

  1. اگر مقتدی امام جماعت کی شناخت میں غلطی کرے؛ مثلاً وہ یہ سمجھ کر اقتدا کرے کہ امام "علی” ہیں، لیکن بعد میں معلوم ہو کہ امام "احمد” تھے:
  • اگر احمد میں امامت کی تمام شرائط، خصوصاً عدالت، موجود ہوں اور مقتدی کی نیت کسی مخصوص شخص کی اقتدا پر منحصر نہ ہو تو جماعت صحیح ہے۔
  • لیکن اگر مقتدی کی نیت خاص اسی شخص کی اقتدا کرنے کی ہو تو جماعت باطل ہوگی۔
  • ایسی صورت میں اگر نماز کو باطل کرنے والا کوئی کام انجام نہ دیا ہو، مثلاً کوئی اضافی رکن شامل نہ کیا ہو، تو نماز فرادیٰ کے طور پر صحیح ہوگی۔ 

امام جماعت کی سہوی غلطیوں میں مقتدی کا وظیفہ

بے محل قنوت

  1. اگر امام جماعت کسی ایسی رکعت میں سہواً قنوت پڑھ لے جس میں قنوت نہیں ہوتا، تو مقتدی قنوت نہ پڑھے۔ تاہم اسے امام سے پہلے رکوع میں نہیں جانا چاہیے، بلکہ انتظار کرے یہاں تک کہ امام قنوت مکمل کر لے، پھر نماز کو امام کے ساتھ جاری رکھے۔ 

بے محل تشہد

  1. اگر امام جماعت کسی ایسی رکعت میں سہواً تشہد پڑھ لے جس میں تشہد نہیں ہوتا، تو مقتدی تشہد نہ پڑھے، لیکن امام سے پہلے کھڑا بھی نہ ہو، بلکہ انتظار کرے یہاں تک کہ امام تشہد مکمل کر لے، پھر نماز کو امام کے ساتھ جاری رکھے۔
اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔