تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 20

Religious Outreach Experiences - Volume 03 Issue 20
Last Updated: مئی 14, 2026By Categories: تبلیغی تجربے0 Comments on تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 200 min readViews: 118

حلال رزق – جب اللہ گھڑی کو "امتحان” کے وقت سے جوڑ دیتا ہے

میں آٹھویں جماعت میں تھا۔ وہ دن تھے جب میں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا، اور میرے خیال میں “بڑا ہونے” کی علامت چھوٹی چھوٹی چیزیں تھیں، جیسے اپنی ایک کلائی پر گھڑی  کاہونا۔وغیرہ
اُس زمانے میں ڈیجیٹل گھڑیاں نئی نئی فیشن میں آئی تھیں، اور میرے لیے وہ  شان و شوکت،  اور مرد ہونے کی علامت تھیں۔

لیکن ہمارے گھر کا ماحول کچھ اور تھا۔ والد کے اچانک انتقال کے بعد، میری والدہ صبر کے ساتھ اور میرے بھائی غیرت و محنت کے ساتھ گھر کا نظام چلا رہے تھے۔
اگرچہ میں ابھی نوجوان تھا، مگر اتنا ضرور سمجھتا تھا کہ اپنی خواہشات کا بوجھ،  اُن کے تھکے ہوئے کاندھوں پرنہیں ڈالنا چاہیے۔
اسی لیے میں نے گھڑی کی خواہش کو اپنے دل کے سب سے گہرے حصے میں چھپا دیا تھا۔

ایک دن وقفے کے بعد جب اسکول کا صحن خالی ہو رہا تھا، گرد و غبار کے درمیان ایک چمک نے میری توجہ کھینچ لی۔
میں قریب گیا… اور میری سانس رک گئی۔

زمین پر ایک ڈیجیٹل گھڑی پڑی تھی — بالکل وہی ماڈل جس کا میں راتوں کو خواب دیکھتا تھا۔

میں نے اسے اٹھایا۔
اس کے پلاسٹک کے پٹے کو اپنے ہاتھ  سے چھونےلگا  اور اس کی اسکرین پر چمکتے ہوئے نمبرز دیکھنے لگا،  جس کے سبب میرے دل کی دھڑکن تیز  ہونے لگی تھی ۔ ایسے میں نوجوانی کی ایک شرارتی آواز میرے کان میں سرگوشی کرنے لگی:

"اس اسکول میں بارہ سو طالب علم ہیں! تم اس کے مالک کو کہاں تلاش کرو گے؟”
یقیناً وہ اب تک مایوس ہوچکا ہوگا…
یہ اللہ کی طرف سے تمہارے لیے تحفہ ہے، کیونکہ تم نے کبھی کسی کو اپنی خواہشات سے پریشان نہیں کیا!”

لیکن دل کے کسی کونے میں کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔
جو تربیت میری رگوں میں دوڑ رہی تھی، وہ اس خودساختہ منطق کے خلاف کھڑی تھی۔
میرا دل بے چین تھا۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے گھڑی میرے ہاتھ پر بوجھ بن گئی ہو — وزن کی وجہ سے نہیں، بلکہ “حق الناس” کی وجہ سے۔

عقل اور وسوسے کی اس کشمکش کے دوران میری نظر ایک استاد پر پڑی۔
ایسا محسوس ہوا جیسے اللہ نے میری مدد کے لیے ایک فرشتہ بھیج دیا ہو۔

میں نے پوری بات بتائی۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ گھڑی دفتر میں جمع کرا دو تاکہ اگلے دن اسمبلی میں اعلان کردیا جائے۔

وسوسہ اب بھی پیچھا نہیں چھوڑ رہا تھا، اندر سے آواز آئی :

"کم از کم کل صبح تک تو پہن لو… پھر واپس کردینا!”

لیکن مجھے خوف تھا کہ اگر ایک بار “اسے اپنا سمجھنے” کا ذائقہ چکھ لیا، تو شاید پھر دل الگ نہ کرسکوں۔

میں دفتر کی طرف دوڑا، گھڑی ناظم کے میز پر رکھی، اور ایک گہری راحت بھری سانس لی۔
ایسا لگا جیسے میں نے اپنے کندھوں سے کئی ٹن وزنی بوجھ اتار دیا ہو۔

اس دن شام کو ہمارا گھر غیر معمولی طور پر زیادہ گرمجوش اور خوشگوار تھا۔
میری بہن مہمان بن کر آئی ہوئی تھی۔

کھانے کے بعد اُس نے مجھے بلایا۔
اُس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، اور اُس نے ایک ہاتھ اپنی پشت کے پیچھے چھپا رکھا تھا۔

وہ بولی: “بتاؤ، میں تمہارے لیے کیا لائی ہوں؟” میں نے خوشی سے کہا: “کہانی کی کتاب؟” وہ ہنس کر بولی : “نہیں… دوبارہ اندازہ لگاؤ!” پھر اُس نے اپنا ہاتھ آگے کیا… اور میرے لیے وقت جیسے رک گیا۔ میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ میری زبان خاموش ہوگئی۔

میری بہن کے ہاتھوں میں ایک ڈیجیٹل گھڑی چمک رہی تھی – بالکل اُسی رنگ کی، اُسی ماڈل کی، اور اُسی خصوصیات کے ساتھ… جو چند گھنٹے پہلے میں اسکول کے دفتر میں جمع کرا آیا تھا۔ اُس دن میں سمجھا کہ  اس دنیا کا حساب بہت دقیق ہے۔

اگر انسان اللہ کی رضا کے لیے “حرام” یا “مشکوک” چیز سے  اپنا ہاتھ کھینچ لے، تو اللہ وہی چیز ایسے راستے سے واپس عطا کرتا ہے جس کا انسان گمان بھی نہیں کرتا — مگر پاکیزگی، عزت اور مٹھاس کے ساتھ۔

وہ گھڑی میرے لیے صرف وقت دیکھنے کا ذریعہ نہیں تھی۔
وہ ایک قطب نما تھی، جس نے مجھے زندگی کا صحیح راستہ دکھایا:

“اپنی خواہشات تک پہنچنے کے لیے کبھی غلط راستہ اختیار نہ کرو؛
کیونکہ خواہشات کا اصل مالک، اُنہیں صحیح وقت پر خود تم تک پہنچا دیتا ہے۔”

اس کہانی کے چند اہم اسباق

 امانت داری، سکون دیتی ہے

صحیح راستہ شاید لمبا محسوس ہو، لیکن اس کی منزل سکون اور برکت سے بھری ہوتی ہے۔

جو چیز اللہ کے لیے چھوڑدی جائے، اس سے بہتر واپس ملتی ہے

اگر انسان اللہ کی رضا اور اپنی روح کی پاکیزگی کی خاطر کسی فوری مگر ناجائز یا مشکوک فائدے سے گزر جائے، تو اللہ اُسی خواہش کو زیادہ عزت اور پاکیزگی کے ساتھ واپس عطا کرتا ہے۔

خواہشات کے اصل مالک کی وقت بندی کمال  کی ہوتی ہے

اپنی خواہشات تک پہنچنے کے لیے غلط شارٹ کٹس یا اخلاقی اصول توڑنے کی ضرورت نہیں۔
حلال رزق اپنے مقررہ وقت پر، ایسے راستوں سے پہنچتا ہے جن کا ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا۔

اور یوں کہا جاسکتا ہے:

"خواہشات کا اصل مالک، اُنہیں صحیح وقت پر ہمارے ہاتھوں تک پہنچاتا ہے۔”

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔