فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 18
نماز ِمسافر (نواں حصہ)
مراجعِ عظامِ تقلید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی اور آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (دام عزّہم العالی) کے فتوؤں کے مطابق۔
نوٹ: اس پینل میں مسائل کا ذکر (بلا اختلاف یا حوالہ کےساتھ )
جومسائل بغیر کسی مخالف رائے یا خاص حوالہ کے ذکر کئے گئے ہیں، وہ تینوں بزرگ مراجع کے مشترک فتاوی ہیں۔ اور جہاں کسی ایک مرجع کا فتویٰ دوسرے دو سے مختلف ہو، وہاں اسی نمبر کے تحت اس مرجع کےنام کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔
دس دن کے قیام کا ارادہ بدل لینا اور اس کا نماز پر اثر
- اگر کوئی مسافر پہلی چار رکعت والی نماز ادا کرنے سے پہلے دس دن قیام کے ارادے کو تبدیل کر لے یا شک میں پڑ جائے، تو اس کا حکم مسافر ہی کا ہوگا اور اسے نماز قصر پڑھنی ہوگی۔
لیکن اگر وہ ایک چار رکعت والی نماز مکمل ادا کر چکا ہو، تو اس کے بعد جب تک وہ اس جگہ پر رہے گا، اس کی نماز پوری ہوگی، چاہے وہ اپنے ارادہ کیوں نہ تبدیل کر لے۔ - دو رکعت والی نماز (جیسے فجر) یا تین رکعت والی نماز (جیسے مغرب) پڑھنے کا اس حکم پر کوئی اثر نہیں ہے، یعنی وہ مسافر کی حیثیت سے ہو یا مقیم بنکر ہو، نماز فجر اور مغرب کی رکعتوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔
چار رکعت والی نماز کے دوران(قیام کی) نیت کاتبدیل کرنا
اگر کوئی شخص پہلی چار رکعت والی نماز پڑھتے ہوئے دس دن قیام کے ارادے کو تبدیل کر لے:
- تیسری رکعت سے پہلے: نماز کو قصر (دو رکعت) کر کے مکمل کرے۔
- تیسری رکعت میں (رکوع سے پہلے): واجب احتیاط کی بنا پر نماز کو قصرکے طور پر مکمل کرے اور دوبارہ قصر ہی کا اعادہ کرے۔
- تیسری رکعت کے رکوع میں داخل ہونے کے بعد: نماز باطل ہو جائے گی اور اسے دوبارہ قصر کی صورت میں پڑھنا ہوگا۔
آیت اللہ سیستانی: اگر کوئی شخص تیسری رکعت میں داخل ہو چکا ہو لیکن ابھی رکوع میں نہ گیا ہو، تو اسے چاہیے کہ بیٹھ جائے اور نماز کو قصر (دو رکعت) کی صورت میں مکمل کرے۔
اور اگر وہ تیسری رکعت کے رکوع میں جا چکا ہو، تو وہ چاہے تو نماز کو توڑ سکتا ہے یا مکمل بھی کر سکتا ہے، لیکن بہرحال اسے اس نماز کو دوبارہ قصر کی صورت میں پڑھنا ہوگا۔
آیت اللہ مکارم شیرازی: اگر وہ تیسری رکعت کے رکوع میں داخل ہو چکا ہو، تو اس کی نماز باطل ہے، اور جب تک وہ اس مقام پر ہے، اسے نماز قصر ہی پڑھنی ہوگی۔
دس دن کے قیام کا ارادہ بدل لیناکا روزے پر اثر
اگر کوئی شخص دس دن کے قیام کا ارادےکے ساتھ روزہ رکھے لیکن پہلی چار رکعت والی نماز پڑھنے سے پہلے اپنے ارادے کو بدل لے:
- اگر یہ (ارادے کی تبدیلی) ظہر (زوال) کے بعد ہو تو روزہ صحیح ہے۔
- اگر زوال سے پہلے ہو تو روزہ باطل ہو جائے گا۔
آیت اللہ سیستانی: اگر یہ ارادے کی تبدیلی (دس دن کے قیام کا ارادہ بدل لینا) ظہر (زوال) کے بعد ہو، لیکن اس نے ابھی تک ایک چار رکعت والی نماز نہیں پڑھی ہو، تو احتیاط واجب کی بنا پر اسے چاہئے کہ اس دن کا روزہ پورا کرے اور بعد میں اس کی قضا بھی کرے۔ اور اسے اپنی نمازیں قصر کی صورت میں پڑھنی ہوں گی، اور آئندہ دنوں میں بھی وہ روزہ نہیں رکھ سکتا۔
آیت اللہ مکارم شیرازی: اگر یہ ارادے کی تبدیلی ، زوال کے بعدہو، لیکن اس نے چار رکعت والی نماز نہیں پڑھی ہو، تو اس کا روزہ صحیح نہیں ہے، اور نمازیں بھی اسے قصر پڑھنی ہوں گی۔
اپنی رہائش سے باہر نکلنا اور حکم کا باقی رہنا
اگر کوئی شخص اپنے رہائشی علاقے سے چار فرسخ سے کم فاصلے تک باہر نکل جائے (چاہے ایک یا چند دن کے لئے) ، تو اس سے اصل دس دن کے قیام کی نیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
اور اگر اس کا ارادہ ہو کہ وہ اس فاصلے تک جا کر دوبارہ اسی رہائشی علاقے پر واپس آجائے گا تو ایسی صورت میں:
- جانے اور آنے کے سفر میں، نیز جہاں گیا تھا اور واپس اپنے رہائشی علاقے میں وہ اپنی نماز وں کوپوری ادا کرے گا۔
دس دن کے قیام کا ارادہ کئےبغیر طویل قیام کا حکم
اگر مسافر شرعی مسافت طے کرنے کے بعد کسی جگہ ۳۰ دن تک شک کی حالت میں ٹھہرا رہے، تو:
- اکتیسویں دن سے جب تک وہاں رہے گا، اسے نماز پوری پڑھنی ہوگی۔
اسی طرح اگر کوئی شخص بار بار کم مدت (دس دن سے کم) کے قیام کو بڑھاتا رہے یہاں تک کہ ایک مہینہ مکمل ہو جائے:
- تو اس کا حکم بھی یہی ہوگا، اور تیس دن کے بعد نماز پوری ہوگی۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

