فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 13
نماز ِمسافر (حصہ چار)
مراجعِ عظامِ تقلید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی اور آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (دام عزّہم العالی) کے فتوؤں کے مطابق۔
ضروری وضاحت: یہاں پر لکھے ہوئے فتوے، ان تین معزز مراجع کے درمیان مشترک فتوے ہیں۔ اور جس مسئلے میں کسی مرجع کا فتویٰ باقی مراجع سے مختلف ہو، تو اسے اس مرجع کے نام کے ساتھ الگ لکھا گیا ہے۔
حدِّ ترخّص تک پہنچنا
1۔ وہ مسافر جو اپنے وطن سے نکلتا ہے اور شرعی مسافت طے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس کی نماز اُس وقت سے قصر ہو جاتی ہے جب وہ ایک معیّن حد تک پہنچ جائے۔ اسی طرح واپسی پر جب وہ اس حد تک پہنچے تو اسے نماز پوری پڑھنی چاہیے۔ اس حد کو "حدِّ ترخّص” کہا جاتا ہے۔ البتہ مستحب احتیاط یہ ہے کہ حدِّ ترخّص اور شہر میں داخل ہونے کے درمیان، نماز کو قصر اور تمام دونوں طرح پڑھا جائے۔
2۔ حدِّ ترخّص کی پہچان کا معیار یہ ہے کہ انسان شہر کے آخری گھر سے اتنا دور ہو جائے کہ شہر کی معمول کی اذان (بغیر لاؤڈ اسپیکر کے) سنائی نہ دے، چاہے وہ شہر کی عمارتیں دیکھ سکے یا نہ دیکھ سکے۔
آیت اللہ سیستانی : حدِّ ترخّص وہ مقام ہے جہاں شہر کے لوگ—حتیٰ کہ اس کے مضافات کے رہنے والے بھی—مسافر کو اس کے دور ہونے کی وجہ سے نہ دیکھ سکیں، اور اس کی علامت یہ ہے کہ وہ خود بھی شہر اور اس کے اطراف کے لوگوں کو نہ دیکھ سکے۔
3۔ حدِّ ترخّص کا معیار وہ اذان ہے جو کسی بلند اور متعارف مقام (جیسے پرانی مساجد کے مینار) سے، شہر کے آخری حصے میں دی جاتی ہو۔
4۔ اگر کوئی مسافر ایسے مقام کی طرف جا رہا ہو جہاں وہ دس دن قیام کا ارادہ رکھتا ہے، تو اس مقام کے حدِّ ترخّص تک پہنچنے سے پہلے اس کی نماز قصر ہوگی۔ اور حدِّ ترخّص اور مقامِ اقامت کے درمیان، احتیاطِ واجب کی بنا پر اسے قصر اور تمام دونوں نمازیں پڑھنی چاہئیں۔
وہ صورتیں جن میں شک ہو کہ حدِّ ترخّص تک پہنچا ہے یا نہیں
1۔ اگر کوئی شخص اپنے وطن سے شرعی مسافت طے کرنے کے ارادے سے سفر کرے اور اسے شک ہو کہ وہ حدِّ ترخّص تک پہنچا ہے یا نہیں، تو اسے یہ فرض کرلینا چاہیے کہ وہ ابھی حدِّ ترخّص تک نہیں پہنچا، لہٰذا نماز پوری پڑھے۔ لیکن اگر یہی شک واپسی کے سفر میں ہو، تو اسے نماز قصر پڑھنی چاہیے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی : اگر کسی کو شک ہو کہ وہ حدِّ ترخّص تک پہنچا ہے یا نہیں، یا اسے معلوم نہ ہو کہ جو آواز وہ سن رہا ہے وہ اذان ہے یا کوئی اور آواز، تو اسے نماز پوری پڑھنی چاہیے۔ لیکن اگر اسے یقین ہو کہ وہ اذان کی آواز ہے، مگر اس کے الفاظ واضح نہ ہوں، تو احتیاط یہ ہے کہ وہ قصر بھی پڑھے اور پوری بھی پڑھے۔
2۔ اگر کوئی شخص سفر پر جاتے ہوئے، حدِّ ترخّص تک پہنچنے سے پہلے، یہ سمجھ کر کہ وہ پہنچ چکا ہے، نماز قصر پڑھ لے اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ غلطی پر تھا، تو اسے نماز دوبارہ پڑھنی ہوگی۔ واپسی پر بھی اگر اسی طرح وہ نماز پوری پڑھ لے اور بعد میں معلوم ہو کہ اس نے غلطی کی تھی، تو یہی حکم ہوگا (یعنی وہ نماز قصر ادا کرے)۔
3۔ اگر کوئی شخص حدِّ ترخّص سے گزر جانے کے بعد، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ ابھی نہیں پہنچا، نماز پوری پڑھ لے، اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ درحقیقت حدِّ ترخّص سے گزر چکا تھا، تو اسے نماز دوبارہ قصر والی پڑھنی ہوگی۔
اسی طرح واپسی کے سفر میں اگر اس نے غلطی سے نماز قصر پڑھی ہو، تو یہی حکم ہوگا (یعنی وہ پوری نماز دوبارہ پڑھے)۔
وہ امور جو سفر کی حالت کو ختم کر دیتے ہیں
درج ذیل میں سے کسی ایک صورت کے پائے جانے پر سفر ختم ہو جاتا ہے اور نماز پوری پڑھی جائے گی:
- وطن سے ہوتے ہوئےگزرنا
- کسی مقام پرکم از کم دس دن قیام کا ارادہ کرنا یا اس کا یقین ہونا
- کسی جگہ تیس دن تک تردد (شک) کی حالت میں رہنا، بغیر دس دن قیام کے ارادے کے
وطن سے ہوتے ہوئےگزرنا
1۔ اگر کوئی شخص شرعی مسافت طے کرنے کے ارادے سے سفر کر رہا ہو اور راستے میں اپنے وطن میں داخل ہو جائے، تو اس کا سفر ختم ہو جاتا ہے اور وہاں نماز توری پڑھنی ہوگی۔
اس کے بعد اگر وہ دوبارہ سفر جاری رکھے تو:
- اگر باقی فاصلہ کم از کم آٹھ فرسخ بنتا ہو → نو اس کی نماز قصر ہوگی
- اگر اس سے کم ہو →تو اس کی نماز پوری ہوگی
2۔ صرف وطن سے گزر جانا (چاہے ٹھہرے بغیر) بھی سفر کے ختم ہونے کے لیے کافی ہے۔
3۔ عرف کے اعتبار سے وطن وہ جگہ ہے جہاں انسان رہتا ہو اور اس کی مستقل سکونت ہو—چاہے وہ شہر ہو، گاؤں ہو یا کوئی اور جگہ۔
4۔ وطن کی دو قسمیں ہیں:
- اصلی وطن
- اختیاری وطن
(ان دونوں کی وضاحت اگلے حصے میں بیان کی جائےگی)
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

