اداریہ – جلد 03 شمارہ 13
سختی کے وقت ایمان: اُحد، بقیع اور خندق سے سبق
مقدمہ
اسلامی تقویم میں ایک اور اہم ہفتے کی مناسبتیں ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ اسلام میں تاریخ صرف یاد رکھنے کے لیے نہیں، بلکہ اس پر عمل کرنے کے لیے ہے۔ ہر مناسبت ہمیں ایمان کو مضبوط بنانے، شعور بڑھانے اور معاشرے کی بہتر خدمت کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
7شوال: غزوۂ اُحد اور حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؑ کی شہادت (3 ہجری)
غزوۂ اُحد مدینہ کے قریب پیش آیا، جہاں مسلمانوں کو ابتدائی کامیابی کے بعد نافرمانی کی وجہ سے ایک سخت آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ شہداء میں رسول اکرم ﷺ کے محبوب چچا حضرت حمزہؑ بھی شامل تھے۔
اُحد ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مؤمن معاشرے بھی اُس وقت مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں جب ان میں نظم و اتحاد کمزور ہو جائے۔ قرآن کریم فرماتا ہے:
"وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ… حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ…”
"اور اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا… یہاں تک کہ تم نے کمزوری دکھائی اور آپس میں اختلاف کیا…”(آل عمران: 152)
آج کا پیغام: اتحاد اور نظم و ضبط ہر مسلم معاشرے کی کامیابی کی بنیادی شرط ہیں۔
8 شوال: جنت البقیع کی مسماری (یوم انہدام) (سنہ 1344 ہجری 1926 عیسوی)
اس دن مدینہ کے قبرستان بقیع میں موجود عظیم شخصیات، خصوصاً اہلِ بیتؑ کی قبور کو وہابیوں نے منہدم کر دیا۔ یہ واقعہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے گہرے غم کا سبب بنا اور آج بھی ایک اجتماعی درد کے طور پر باقی ہے۔
یہ واقعہ اسلامی ورثے کی حفاظت اور مقدس تاریخ کے احترام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے:
"ذَلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ"
"یہ (اللہ کا حکم) ہے، اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے، یہ دلوں کے تقویٰ میں سے ہے۔” (الحج: 32)
آج کا پیغام: اسلامی شعائر کا احترام اور ان کی حفاظت، حقیقی تقویٰ کی علامت ہے۔
10 شوال: غزوۂ خندق کا آغاز (5 ہجری)
دشمنوں کے ایک بڑے اتحاد کے مقابلے میں مسلمانوں نے حضرت سلمان فارسیؑ کے مشورے سے مدینہ کے گرد خندق کھودنے کی دفاعی حکمتِ عملی اختیار کی۔ یہ اسلامی تاریخ میں ایک اہم فکری اور عملی پیش رفت تھی۔
غزوۂ خندق ہمیں عقل، مشورہ اور جدت کی اہمیت سکھاتا ہے۔ جب مہاجرین اور انصار میں یہ گفتگو ہوئی کہ سلمانؑ کس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں، تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
"سَلمانُ مِنّا أهلَ البَیتِ"
"سلمان ہم اہلِ بیت میں سے ہیں – “(بحارالانوار، ج ۲۲، ص ۳۲۷)
یہ فرمان اس بات کو واضح کرتا ہے کہ قابلیت اور کردار، نسب اور پس منظر پر برتری رکھتے ہیں۔
آج کا پیغام : دانشمندانہ خیالات اور مخلصانہ کوششیں، چاہے جہاں سے آئیں، امتِ مسلمہ کو مضبوط بناتی ہیں۔
اختتامی کلمات:
یہ تمام مناسبتیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ چیلنجز، ناکامیاں اور کامیابیاں سب مل کر مسلمانوں کی ترقی اور نشوونما کا حصہ ہیں۔
آج کے ائمہ جماعت، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اسباق کو عملی رہنمائی میں تبدیل کریں—تاکہ ایسے معاشرے تشکیل پائیں جو متحد، باشعور اور اصولوں کے پابند ہوں، اور جن کی بنیاد ایمان اور حکمت پر ہو۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

