فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 12

Fatwa Panel of the Week - Volume 03 Issue 12
Last Updated: اپریل 4, 2026By Categories: فتویٰ پینل0 Comments on فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 120 min readViews: 54

زکوٰۃِ فطرہ

مراجعِ عظامِ تقلید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی اور آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (دام عزّہم العالی) کے فتوؤں کے مطابق۔

ضروری وضاحت: یہاں پر لکھے ہوئے فتوے،  ان تین معزز مراجع کے درمیان مشترک فتوے ہیں۔ اور جس مسئلے میں کسی مرجع کا فتویٰ باقی مراجع سے مختلف ہو، تو  اسے اس مرجع کے نام کے ساتھ  الگ لکھا گیا ہے۔

کن لوگوں پر زکوٰۃِ فطرہ واجب ہے؟

جو شخص عید الفطر کی رات غروبِ آفتاب کے وقت بالغ، عاقل، بےہوش نہ ہو ،نہ  فقیر ہو اورنہ کسی دوسرے کا غلام ہو، اس پر واجب ہے کہ اپنے لئے ان تمام افراد کے لئےجو اس کے یہاں کھانا کھاتےہوں، ہر ایک کی طرف سے ایک صاع (تقریباً تین کلو) گندم، جو، کھجور، کشمش، چاول، مکئی یا ان جیسی دیگر غذائی اشیاء  کسی مستحق کو دے۔ اور اگر ان اشیاء کی جگہ ان کی قیمت (رقم) دے دے تو بھی کافی ہے۔

آیت اللہ سیستانی: احتیاطِ لازم یہ ہے کہ ایسی غذا نہ دی جائے جو اس کے شہر میں عام طور پر استعمال نہیں ہوتی، چاہے وہ گندم، جو، کھجور یا کشمش ہی کیوں نہ ہو۔

انسان پر لازم ہے کہ ان تمام افراد کا فطرہ ادا کرے جو عید الفطر کی رات غروب کے وقت اس کے یہاں کھانے والے شمار ہوتے ہوں؛ چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، مسلمان ہوں یا کافر، ان کا خرچ اس پر واجب ہو یا نہ ہو، اور وہ اسی شہر میں ہوں یا کسی دوسرے شہر میں۔

جس شخص کا فطرہ کسی دوسرے پر واجب ہو، اس پر خود اپنا فطرہ دینا واجب نہیں ہے۔

4۔ اگر وہ شخص جس کا فطرہ کسی دوسرے پر واجب ہے ،خود اپنا فطرہ ادا کر دے تو  اس سےوہ شخص بری الذمہ نہیں ہوتا، جس پر اس کا فطرہ واجب تھا۔

زکوٰةِ فطرہ ادا کرنے کا وقت

شوال کا چاند ثابت ہونے کے بعد زکوٰةِ فطرہ ادا کی جا سکتی ہے یا الگ رکھی جا سکتی ہے۔
جو شخص نمازِ عید الفطر ادا کرتا ہے، احتیاطِ واجب کے مطابق اسے چاہیے کہ نماز سے پہلے فطرہ ادا کردے یا الگ رکھ دے۔
لیکن اگر نمازِ عید ادا نہیں کرتا تو وہ عید کے دن دوپہر تک تاخیر کر سکتا ہے۔

 اگر کوئی شخص فطرہ کی نیت سے اپنے مال میں سے کچھ الگ رکھ لے اور عید کے دن دوپہر تک مستحق کو نہ دے، تو احتیاطِ واجب یہ ہے کہ جب بھی  ادا کرے تو فطرہ کی نیت کرے۔

آیت اللہ سیستانی: اگر تاخیر کسی معقول سبب کی بنا پر ہو تو کوئی حرج نہیں۔

آیت اللہ مکارم شیرازی: اگر کسی فقیر تک رسائی نہ ہو تو وہ اپنے مال میں سے کچھ فطرہ کی نیت سے جدا کر کے رکھ سکتا ہے، چاہے کسی خاص مستحق کے لئے یا عمومی طور پر کسی بھی مستحق کے  لئے۔ جب بھی اسے ادا کرے تو فطرہ کی نیت کرے۔

اگر فطرہ واجب ہونے کے وقت فطرہ ادا نہ کرے اور نہ ہی اسے الگ رکھے تو احتیاطِ واجب یہ ہے کہ بعد میں اسے ادا کرے، مگر ادا یا قضا کی نیت کے بغیر۔

آیت اللہ مکارم شیرازی: احتیاط یہ ہے کہ بعد میں ما فی الذمہ کی نیت سے ادا کرے، یعنی ادا یا قضا کی نیت کے بغیر۔

زکوٰةِ فطرہ کا مصرف

احتیاطِ واجب یہ ہے کہ کسی فقیر کو ایک صاع یا اس کی قیمت سے کم نہ دیا جائے۔
اور جائز ہے کہ ایک فقیر کو کئی صاع بلکہ اس کی سال بھر کی ضروریات کے برابر بھی دیا جائے۔
لیکن احتیاطِ واجب یہ ہے کہ ایک فقیر کو اس کے ایک سال کے خرچ سے زیادہ نہ دیا جائے اور وہ بھی اس سے زیادہ نہ لے۔

آیت اللہ سیستانی: احتیاطِ مستحب یہ ہے کہ ایک فقیر کو ایک صاع سے کم فطرہ نہ دیا جائے، مگر اگر فقراء زیادہ ہوں تو کم بھی دیا جا سکتا ہے۔ اور اگر زیادہ دیا جائے تو کوئی اشکال نہیں۔

زکوٰةِ فطرہ لینے والے کا عادل ہونا شرط نہیں ہے، لیکن جو شخص علانیہ کبیرہ گناہ کرتا ہو، احتیاط کے مطابق اسے فطرہ نہیں دینا چاہیے۔

 زکوٰةِ فطرہ کو دینی معارف کی نشر و اشاعت میں صرف کرنا جائز ہے، لیکن احتیاط یہ ہے کہ اسے فقیر کو دیا جائے۔

آیت اللہ سیستانی: احتیاطِ واجب کے مطابق زکوٰةِ فطرہ صرف ایسے شیعہ فقراء کو دی جائے جو زکات کے مستحقین کی شرائط رکھتے ہوں۔

آیت اللہ مکارم شیرازی: احتیاطِ واجب کے مطابق فطرہ کو فقرا اور مساکین کے علاوہ کسی اور مصرف میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

سادات کا فطریہ

غیر سادات، سادات فقرا کو فطرہ نہیں دے سکتے، اور اگر دے دیں تو کافی نہیں ہوگا۔
اس معاملے میں معیار، کسی فیملی  کا سرپرست ہوتا ہے۔

مہمان کی زکوٰةِ فطرہ

جو مہمان صرف عید الفطر کی رات گھر آئے، اس کا فطرہ ، میزبان پر واجب نہیں ہوتا۔

اس عورت کی زکوٰةِ فطرہ جو شوہر کےہاں کھانے والی شمار نہ ہوتی ہو

اگر عورت شوہر کےہاں کھانے والی شمار ہو تو شوہر پر واجب ہے کہ اپنی اور اپنی بیوی کی زکوۃ فطرہ ادا کرے، بشرطیکہ وہ استطاعت رکھتا ہو۔
لیکن اگر عورت نہ شوہر کےہاں کھانے والی ہو اور نہ کسی اور کے یہاں، تو اسے اپنافطرانہ  خود ادا کرنا ہوگا۔

واجب النفقہ افراد کو فطرہ دینا

اگر اولاد فقیر ہو تو والدین پر واجب ہے کہ ان کے ضروری اخراجات ادا کریں، لہٰذا ان کے روزمرہ  کےخرچ کے لئے زکاتِ فطرہ نہیں دی جا سکتی۔ البتہ اگر وہ قرض دار ہوں یا ایسی ضرورت ہو جس کا خرچ باپ پر واجب نہ ہو، تو فطرہ دینا جائز ہے۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔