فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 11
تقلید
مجتہدِ جامع الشرائط کی تقلید کی ضرورت
شیعہ امامیہ کے فقہِی مکتب میں احکامِ الٰہی پر عمل کرنے کے لئےمعتبر دینی مصادر کی طرف رجوع ضروری ہے، یعنی قرآنِ کریم، سنتِ رسولِ اکرم ﷺ اور اہلِ بیتؑ، اجماع اور عقل۔
چونکہ اجتہاد یعنی ان مصادر سے شرعی احکام کا استنباط کرنا دینی علوم میں وسیع علمی مہارت کا متقاضی ہے، اور دوسری طرف ہر مسئلے میں احتیاط ا کی راہ ختیار کرنا مشکل ہوتا ہے اور بعض اوقات تنگی اور مشقت کا سبب بھی بنتا ہے، اس لئے تقلید اور مجتہدِ جامع الشرائط کی طرف رجوع کو ایک معمول، معقول اور عقلاء کی روش کے مطابق طریقہ کے طور پر قبول کیا گیا ہے۔
اسی طرح ائمۂ اطہارؑ سے مروی متعدد روایات میں زمانۂ غیبت میں لوگوں کو امانت دار فقہاء اور راویانِ حدیث کی طرف رجوع کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ یہ روایات اس امر کو ظاہر کرتی ہیں کہ زمانۂ غیبت میں تقلیدکو شرعی حیثیت حاصل ہے، بلکہ لازم ہے۔
مرجعِ متوفیٰ کی تقلید پر باقی رہنے کا حکم
فقہِ شیعہ میں اصل قاعدہ یہ ہے کہ کسی وفات پا چکے مجتہد کی ابتدائی تقلید جائز نہیں ہے؛ کیونکہ عقلائی طور پر کسی ماہر کی طرف رجوع کا مطلب یہ ہے کہ ایسے متخصص کی طرف رجوع کیا جائے جو زندہ، قابلِ دسترس اور نئے مسائل کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
البتہ اگر کوئی مکلف کسی مجتہد کی زندگی میں اس کی تقلید کر رہا ہو تو امامیہ فقہاء کی ایک بڑی تعداد نے بعض شرائط کے ساتھ اور اکثر زندہ اعلم مجتہد کی اجازت سے اس کی تقلید پر باقی رہنے کو جائز قرار دیا ہے۔
اس نظریے کی بنیاد یہ ہے کہ مجتہد کے فتویٰ کی حجیت اس کی زندگی میں مقلد کے لئے ثابت ہو چکی ہوتی ہے، اور اس کی وفات کے بعد بھی یہ حجیت گزشتہ اعمال اور انہی فتاویٰ پر عمل کے تسلسل کے بارے میں مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی، مگر یہ کہ کسی شرعی دلیل سے اس بات کا تقاضا ثابت ہو جائے کہ دوسرے مجتہد کی طرف رجوع کرنا لازم ہے۔
اسی بنیاد پر مرجعِ متوفیٰ کی تقلید پر باقی رہنے کا مسئلہ بھی اسی عقلائی اور شرعی اصول کے تحت سمجھا جاتا ہے کہ ایک طرف مکلف کی عملی زندگی کا تسلسل برقرار رہے اور دوسری طرف نئے مسائل میں زندہ مجتہد کی طرف رجوع کا امکان باقی رہے۔
مقلدین کی موجودہ صورتحال
مرجعِ تقلیدِ عالمِ تشیع حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہای (قدس سرہ)کی مظلومانہ شہادت کے بعد ان کے مقلدین شرعی فریضے کے لحاظ سے دو فقہی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں:
- کسی زندہ مجتہد کی طرف عدول کرنا
- متوفیٰ مجتہد کی تقلید پر باقی رہنا
لہٰذا شرعی ذمہ داری کو متعین کرنے اور فقہِ امامیہ کے ضوابط کے مطابق عمل کرنے کے لئے اس مسئلے کے بارے میں زندہ مراجعِ عظام تقلید کے فتاویٰ بیان کئے جاتے ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ متوفیٰ مرجع کی تقلید پر باقی رہنا جائز ہے یا کسی زندہ مجتہد کی طرف عدول کرنا لازم ہے۔
شہیدمرجع کی تقلید پر باقی رہنے کے بارے میں موجودہ مراجعِ عظام کے فتاویٰ
آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی: آیت اللہ العظمیٰ خامنہای (قدس سرہ) کے مقلدین اور وہ تمام افراد جو انہیں اعلم سمجھتے تھے اور ان کے فتووں کی پیروی کے پابند اور متعہد تھے، ان پر واجب ہے کہ ان ہی کی تقلید پر باقی رہیں، اور انہیں ہماری تقلید کرنے کی اجازت نہیں ہے، مگر نئے پیش آنے والے مسائل میں۔
آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی: آیت اللہ العظمیٰ خامنہای (قدس سرہ) کے مقلدین اور وہ تمام افراد جو انہیں اعلم سمجھتے تھے، ان پر واجب ہے کہ ان مسائل میں جن میں انہوں نے ان کے فتووں پر عمل کیا ہے، ان کی تقلید پر باقی رہیں، اور انہیں ہماری تقلید کرنے کی اجازت نہیں ہے، مگر نئے مسائل میں۔
آیت اللہ العظمیٰ حسین نوری ہمدانی: آیت اللہ العظمیٰ خامنہای (قدس سرہ) کے مقلدین اور وہ افراد جو انہیں اعلم سمجھتے تھے اور بعض مسائل میں ان کے فتووں پر عمل کر چکے ہیں، ان پر واجب ہے کہ تمام مسائل میں ان کی تقلید پر باقی رہیں، اور انہیں ہماری تقلید کرنے کی اجازت نہیں ہے، مگر نئے پیش آنے والے مسائل میں۔
آیت اللہ العظمیٰ عبداللہ جوادی آملی: آیت اللہ العظمیٰ خامنہای (قدس سرہ) کے مقلدین اور وہ افراد جو انہیں اعلم سمجھتے تھے، ان کے لیے ان کی تقلید پر باقی رہنا احتیاطاً واجب ہے، اور انہیں ہماری تقلید کرنے کی اجازت نہیں ہے، مگر نئے پیش آنے والے مسائل میں۔
آیت اللہ العظمیٰ حسین وحید خراسانی: آیت اللہ العظمیٰ خامنہای (قدس سرہ) کے مقلدین اور وہ افراد جو انہیں اعلم سمجھتے تھے، بلکہ وہ مکلفین بھی جن کی ذمہ داری ان کی تقلید کرنا تھی، ان پر واجب ہے کہ ان کے فتووں پر عمل کریں اور انہیں ہماری تقلید کرنے کی اجازت نہیں ہے، مگر نئے مسائل میں۔
یہ حکم اس صورت میں بھی ہے کہ انہوں نے ان کی زندگی میں ان کے فتووں پر عمل کرنے کا التزام کیا ہو یا نہ کیا ہو، ان کے فتووں پر عمل کیا ہو یا نہ کیا ہو، اور ان کے فتووں کو سیکھا ہو یا نہ سیکھا ہو۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

