حدیثِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 33
جب ہم اللہ کی بندگی کرتے ہیں تو زندگی کا صحیح راستہ پاتے ہیں
درج ذیل حدیث پر غور کرنے کی مناسبت: 28 صفر؛ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت
تمہید
ائمۂ معصومین علیہم السلام کی تمام تعلیمات ایک ہی نور کی کرنیں ہیں، جو ہمیں سعادت مند زندگی کی طرف رہنمائی کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بندگی کا راستہ دکھاتی ہیں۔ اس ہفتے آئیے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی ایک نورانی تعلیم پر غور کریں:
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں:
«مَنْ عَبَدَ اَللَّهَ عَبَّدَ اَللَّهُ لَهُ كُلَّ شَيْءٍ»
’’جو شخص اللہ کی بندگی کرتا ہے، اللہ ہر چیز کو اس کا خدمت گزار بنا دیتا ہے۔‘‘
(بحار الأنوار، ج 68، ص 184)
نوجوانوں کے لئے اس حدیث کے تربیتی پیغامات
1۔ ہر کام اللہ کے لئے انجام دیں
ہر کام، خواہ بڑا ہو یا چھوٹا، اخلاص اور رضائے الٰہی کے لئے انجام دیں۔
عملی چیلنج:
آج اپنے معمول کے کسی ایک کام، مثلاً پڑھائی، گھر کے کام میں مدد یا ہوم ورک کو منتخب کریں اور دل میں نیت کریں کہ اسے اللہ کی رضا کے لئے انجام دے رہے ہیں۔
2۔ان چیزوں سے دور رہیں جو آپ کو اللہ سے دور کرتی ہیں
ان چیزوں اور سرگرمیوں کو پہچانیں جو اللہ کے ساتھ آپ کے تعلق کو کمزور کرتی ہیں اور ان سے دور رہنے کی کوشش کریں۔
عملی چیلنج:
ایک ہفتے تک ہر دن کے اختتام پر ایک ایسی سرگرمی لکھیں جس نے آپ کو اللہ کے قریب ہونے کا احساس دلایا، اور ایک ایسی سرگرمی بھی لکھیں جس نے آپ کی توجہ اللہ سے ہٹا دی۔
3۔ خود کو سب سے بڑی طاقت سے جوڑیں
اگر آپ مضبوط، خودمختار اور مؤثر انسان بننا چاہتے ہیں تو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی لامحدود قدرت سے وابستہ کریں۔
عملی چیلنج:
اس ہفتے جب کسی مشکل صورتِ حال کا سامنا ہو تو فوراً ردِعمل ظاہر کرنے کے بجائے کچھ دیر رکیں، اللہ سے مختصر دعا کریں، پھر اس مسئلے کے حل کے لئے ایک دلیرانہ اور مثبت قدم اٹھائیں۔
4۔ اللہ کے ساتھ رہیں اور آزاد رہیں
دوستوں، فیشن یا سوشل میڈیا پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے کے بجائے اللہ پر بھروسا کریں اور اسے اپنی ترقی اور خوش بختی کا راستہ دکھانے دیں۔
عملی چیلنج:
اس ہفتے ایک پورا دن موبائل فون یا سوشل میڈیا کے بغیر گزاریں اور اس وقت کو دعا، غور و فکر، مطالعہ یا کسی مفید سرگرمی میں صرف کریں۔
5۔ سوشل میڈیا اور لوگوں کی رائے کی غلامی سے آزاد رہیں
لائکس کی تعداد، مقبولیت یا سوشل میڈیا کو اپنی اقدار، وقت اور فیصلوں پر حاوی نہ ہونے دیں؛ سب سے پہلے اللہ کی رضا تلاش کریں۔
عملی چیلنج:
ایک دن کے لئے موبائل فون کی غیر ضروری نوٹیفکیشنز بند کر دیں اور کوئی ایسا نیک کام کریں جسے نہ سوشل میڈیا پر شیئر کریں اور نہ کسی کو اس کے بارے میں بتائیں۔
6۔ ایسے دوست منتخب کریں جو آپ کی ترقی میں مدد کریں
جو شخص اللہ کی بندگی کرتا ہے، وہ دوستی یا ہم عمروں کے دباؤ کو اپنے غلط یا نقصان دہ فیصلوں کا سبب نہیں بننے دیتا۔
عملی چیلنج:
اپنے تین قریبی دوستوں کے بارے میں سوچیں اور خود سے پوچھیں:
’’کیا یہ دوستیاں مجھے بہتر انسان بننے میں مدد دے رہی ہیں؟‘‘
پھر اپنی سب سے مثبت اور صحت مند دوستی کو مضبوط کرنے کے لئے ایک عملی قدم اٹھائیں۔
7۔ اپنی صلاحیتوں کو خدمت کا ذریعہ بنائیں
آپ کی ذہانت، مہارتیں اور صلاحیتیں اللہ کی نعمتیں ہیں۔ جب آپ انہیں دوسروں کی مدد کے لئے استعمال کرتے ہیں تو ان صلاحیتوں کو ایک اعلیٰ اور بامقصد سمت ملتی ہے۔
عملی چیلنج:
اس ہفتے اپنی کسی مہارت، مثلاً ٹیکنالوجی، کھیل، تدریس، تحریر یا منصوبہ بندی کو کسی دوسرے شخص کی مدد کے لئے استعمال کریں، بغیر کسی صلے یا بدلے کی توقع کے۔
والدین کے لئے اس حدیث کے تربیتی پیغامات
1۔ اپنی ذمہ داری پوری کریں اور اللہ پر توکل کریں
باایمان والدین کی حیثیت سے اپنے بچوں کی تربیت کے لئے پوری کوشش کریں، پھر ان امور کے بارے میں جو آپ کے اختیار سے باہر ہیں، اللہ پر بھروسا کریں۔
عملی چیلنج:
اس ہفتے اپنے بچے کے بارے میں کسی ایسی پریشانی کو منتخب کریں جس پر آپ کا اختیار نہیں، اسے ایک مختصر دعا میں تبدیل کریں، پھر اپنی توجہ کسی ایسے مثبت اقدام پر مرکوز کریں جو آپ واقعی انجام دے سکتے ہیں۔
2۔ اپنا اختیار اطاعتِ خدا سے حاصل کریں
گھر میں حقیقی احترام انصاف، مہربانی اور صداقت سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ چیخنے، ضرورت سے زیادہ کنٹرول کرنے یا سخت قوانین نافذ کرنے سے۔
عملی چیلنج:
اس ہفتے جب آپ کا بچہ آپ سے اختلاف کرے تو جواب دینے سے پہلے اس کی بات مکمل توجہ سے سنیں اور پُرسکون انداز میں جواب دینے کی کوشش کریں، چاہے آخر میں آپ کا جواب پھر بھی ’’نہیں‘‘ ہی کیوں نہ ہو۔
3۔ اپنے عمل سے بندگیِ خدا دکھائیں
بچے اپنے والدین کے طرزِ عمل کو دیکھ کر سیکھتے ہیں کہ اللہ کی بندگی کا عملی مطلب کیا ہے، خصوصاً اس وقت جب والدین تھکے ہوئے، ناراض، مصروف یا دباؤ میں ہوں۔
عملی چیلنج:
اس ہفتے کسی مشکل لمحے میں شعوری طور پر صبر اور مہربانی کے ساتھ ردِعمل ظاہر کریں، پھر بعد میں اپنے بچے کو بتائیں کہ آپ کے ایمان نے آپ کو ایسا طرزِ عمل اختیار کرنے میں کس طرح مدد دی۔
4۔ بچوں کو اللہ سے ہدایت مانگنا سکھائیں
بچوں کو یہ سیکھنا چاہیے کہ اللہ کی طرف رجوع کرنا روزمرہ فیصلوں کا حصہ ہے، نہ کہ صرف مذہبی مناسبتوں تک محدود کوئی عمل۔
عملی چیلنج:
اپنے بچوں کو چند روزمرہ دعائیں سکھائیں اور انہیں بتائیں کہ کن مواقع پر وہ ان دعاؤں کو پڑھ سکتے ہیں۔
5۔ وسائل اور سہولیات کو ان کے صحیح مقام پر رکھیں
پیسہ، ٹیکنالوجی اور دیگر وسائل کو رضائے الٰہی کے حصول اور دوسروں کی مدد کے لئے ایک ذریعہ سمجھیں، نہ کہ انہیں زندگی کا اصل مقصد بنا لیں۔
عملی چیلنج:
اس ہفتے اپنے بچوں کو عملی طور پر دکھائیں کہ وہ اپنی کسی چیز یا سہولت کو ایسے انداز میں کیسے استعمال کر سکتے ہیں جو اللہ کی رضا کا باعث ہو۔
6۔ مقام اور کامیابی سے زیادہ کردار کو اہمیت دیں
جب والدین دیانت، مہربانی، ذمہ داری اور ایمان کو نمبروں، دولت یا مقبولیت سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں تو بچے بھی یہ سیکھتے ہیں کہ زندگی میں حقیقی اہمیت کن چیزوں کی ہے۔
عملی چیلنج:
اس ہفتے اپنے بچے کی کسی ایماندارانہ، مہربان، ذمہ دارانہ یا ضبطِ نفس پر مبنی حرکت کی خاص طور پر تعریف کریں، صرف اس کی کامیابی یا کسی چیز کے حصول پر نہیں۔
7۔ خدمت کو خاندانی عادت بنائیں
اللہ کی بندگی کا ایک مطلب اس کے بندوں کی خدمت بھی ہے؛ اس لئے بچوں کو ایمان کا تجربہ عملی مہربانی اور ذمہ داری کے ذریعے ہونا چاہیے۔
عملی چیلنج:
اس ہفتے دوسروں کی خدمت کے لئے کوئی ایک سادہ کام منتخب کریں جسے پورا خاندان مل کر انجام دے سکے، مثلاً کسی پڑوسی کی مدد، کسی ضرورت مند کی حمایت یا کسی بزرگ رشتہ دار کی خدمت۔
ائمۂ جماعت اور اساتذہ کے لئے اس حدیث کے تربیتی پیغامات
1۔ بندگیِ خدا کا مفہوم واضح کریں
طلبہ اور مخاطبین کو یہ سمجھنے میں مدد دیں کہ اللہ کی حقیقی بندگی کیا ہے اور اس کا روزمرہ زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے۔
عملی چیلنج:
اپنی اگلی تقریر یا درس میں بندگیِ خدا کی مختلف عملی مثالوں کی ایک سادہ فہرست اپنے مخاطبین کے سامنے پیش کریں۔
2۔ اپنے اخلاق اور کردار سے احترام پیدا کریں
انصاف، مہربانی، مستقل مزاجی اور حقیقی توجہ طلبہ اور مخاطبین کے دلوں کو چیخنے یا دھمکانے کی نسبت کہیں زیادہ مؤثر انداز میں جیت سکتی ہے۔
عملی چیلنج:
اس ہفتے شعوری طور پر کسی کم فعال یا کم شریک طالب علم یا مخاطب کو بھی اتنی ہی توجہ اور احترام دیں جتنا آپ زیادہ فعال افراد کو دیتے ہیں۔
3۔ لوگوں کی تعریف کے لئے نہیں، اللہ کے لئے کام کریں
جب آپ کا کام اللہ کی رضا کے لئے ہو تو لوگوں کی طرف سے تعریف یا قدردانی نہ ملنے کی صورت میں بھی آپ کی حوصلہ افزائی آسانی سے ختم نہیں ہوگی۔
عملی چیلنج:
اپنے اگلے درس یا خطاب سے پہلے چند لمحے رکیں، اپنی نیت پر غور کریں اور اسے خالصتاً رضائے الٰہی کے لئے قرار دیں۔
4۔ عبادت کو حقیقی زندگی کے فیصلوں سے جوڑیں
مخاطبین عبادت کے مفہوم کو اس وقت بہتر سمجھتے ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ اللہ سے ان کا تعلق دیانت، تعلیم، دوستی، مال اور ذمہ داری سے متعلق ان کے فیصلوں پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
عملی چیلنج:
اپنے اگلے درس یا خطاب میں روزمرہ زندگی کے کسی ایسے فیصلے کا ذکر کریں جس کا نوجوانوں یا طلبہ کو سامنا ہوتا ہے، اور واضح کریں کہ اللہ کی موجودگی اور نگرانی کا شعور انہیں بہتر انتخاب کرنے میں کس طرح مدد دے سکتا ہے۔
5۔ مخاطبین کو ہم عمروں کے دباؤ کا مقابلہ کرنا سکھائیں
جو شخص خود کو اللہ کا بندہ سمجھتا ہے، اسے مقبولیت، فیشن، وقتی رجحانات یا دوسروں کی توقعات کا غلام بننے کی ضرورت نہیں۔
عملی چیلنج:
کلاس میں ہم عمروں کے دباؤ کی کوئی حقیقی اور قابلِ تصور صورتِ حال پیش کریں اور طلبہ یا مخاطبین سے کہیں کہ وہ اس بات کی مشق کریں کہ کس طرح اعتماد، احترام اور اپنی اقدار پر ثابت قدمی کے ساتھ ’’نہیں‘‘ کہا جا سکتا ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

