موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 27
بصیرت؛ عاشورا کے جان نثاروں کی ابدی کامیابی کا راز اور اسلامی معاشرے کی دائمی ضرورت
سید ہاشم موسوی
مقدمہ
عاشورا کی سماجیات اور امتِ مسلمہ کے زوال کی نفسیات کے باب میں ایک نہایت اہم سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سا سبب تھا جس نے ایسے لوگوں کو گمراہی کے راستے پر ڈال دیا، جو بظاہر اسلام کے منکر نہ تھے، مگر عملی طور پر باطل کے دامن میں جا گرے۔
کوفہ کے لوگ نہ بے دین تھے اور نہ ہی اسلام کا انکار کرتے تھے۔ ان میں سے بہت سے افراد نماز پڑھتے تھے، قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور بعض کو امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے ہمراہ جہاد کرنے کا شرف بھی حاصل تھا۔ اس کے باوجود تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہی لوگ، جنہوں نے ہزاروں خطوط لکھ کر امام حسینؑ کو دعوت دی تھی، بہت تھوڑے عرصے میں آپؑ کے نمائندے کو تنہا چھوڑدیا اور بالآخر اپنے ہی زمانے کے امام کے خلاف تلوار اٹھا لی۔
قرآنِ کریم اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ کسی معاشرے کا زوال کسی ایک سبب کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ اخلاقی، نفسیاتی اور سماجی بیماریوں کا ایک مجموعہ کسی امت کی بنیادوں کو کمزور کر دیتا ہے۔ ان تمام اسباب میں سب سے نمایاں عنصر بصیرت کی کمی ہے۔ یہی وہ گمشدہ سرمایہ تھا جس نے کل کوفہ کو فضیلتوں کی قربان گاہ بنا دیا، اور آج بھی انسانی معاشروں کو فکری اور ادراکی بحرانوں سے دوچارکئے ہوئے ہے۔
واقعۂ عاشورا یہ سبق دیتا ہے کہ صرف ظاہری دینداری، عمومی معلومات یا ماضی کی نیکیاں انسان کی نجات کے لئے کافی نہیں ہوتیں۔ فیصلہ کن لمحوں میں انسان کو لغزش سے بچانے والی اصل قوت بصیرت ہے؛ وہ باطنی بینائی جو فتنے کی گرد میں حق و باطل کو پہچاننے اور حق کے ساتھ ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا کرتی ہے۔
1۔ وحی اور کلامِ ولایت کی روشنی میں بصیرت کی حقیقت
لفظ بصیرت، "بصر” سے ماخوذ ہے، لیکن قرآن کی اصطلاح میں اس سے مراد ظاہری آنکھ کی بینائی نہیں، بلکہ دل کی بینائی اور باطنی ادراک ہے۔
اللہ تعالیٰ سورۂ یوسف میں رسولِ اکرم ﷺ کی دعوت کی بنیاد ہی بصیرت کو قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے:
قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي
"کہہ دیجئے: یہی میرا راستہ ہے۔ میں اور میرے پیروکار بصیرت اور روشن دلیل کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔"
(سورۂ یوسف: 108)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ وہ دینی تحریک جو بصیرت سے خالی ہو، نہ صرف نجات کا ذریعہ نہیں بنتی بلکہ انسان کو گمراہی کی راہ پر ڈال سکتی ہے اور اسے باطل قوتوں کا آلۂ کار بھی بنا سکتی ہے۔
اسی طرح سورۂ حج میں اللہ تعالیٰ انسان کی اصل نابینائی کو ظاہری آنکھوں کی نہیں بلکہ دل کی نابینائی قرار دیتا ہے:
فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ
"حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔”
(سورۂ حج: 46)
کربلا میں بھی امام حسینؑ کے مقابل آنے والے لشکر کے پاس ظاہری آنکھیں موجود تھیں۔ وہ امامؑ کو دیکھتے تھے، آپؑ کی آواز سنتے تھے اور رسولِ خدا ﷺ سے آپؑ کی نسبت کو بھی جانتے تھے، لیکن ان کے دل حقیقت کو دیکھنے سے محروم تھے۔
امیرالمؤمنین حضرت علیؑ انسانِ بصیر کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
إِنَّمَا الْبَصِيرُ مَنْ سَمِعَ فَتَفَكَّرَ، وَنَظَرَ فَأَبْصَرَ، وَانْتَفَعَ بِالْعِبَرِ
"بصیر وہ ہے جو سنے تو غور کرے، دیکھے تو حقیقت کو پہچانے، اور دوسروں کے انجام سے عبرت حاصل کرے۔"
اس بنا پر بصیرت کا مطلب یہ ہے کہ انسان واقعات کی ظاہری سطح سے آگے بڑھ کر ان کی اصل حقیقت اور باطن تک رسائی حاصل کرے۔
2۔ علم اور بصیرت کا فرق؛ بلعم باعورا سے لے کر کوفہ کے نامور افراد تک
سماجی تجزیوں میں ایک عام غلطی یہ ہے کہ علم اور بصیرت کو ایک ہی چیز سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ یہ دونوں الگ حقیقتیں ہیں۔
علم معلومات اور معلومات کے ذخیرے کا نام ہے، جبکہ بصیرت اس صلاحیت کا نام ہے جو انسان کو آزمائش اور فتنے کے نازک لمحوں میں درست فیصلہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔
کتنے ہی لوگ ہیں جن کے پاس علم کا وسیع سرمایہ ہوتا ہے، لیکن جب تاریخ کے فیصلہ کن موڑ آتے ہیں تو بصیرت کی کمی کے باعث وہ حق کا ساتھ دینے میں ناکام رہتے ہیں۔
قرآنِ کریم اس حقیقت کو بلعم باعورا کے واقعے سے واضح کرتا ہے:
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ
"اور انہیں اس شخص کا حال سناؤ جسے ہم نے اپنی نشانیاں عطا کی تھیں، پھر وہ خود ان سے الگ ہو گیا، پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں شامل ہو گیا۔" (سورۂ اعراف: 175)
بلعم ایک بڑا عالم تھا، مگر دنیا، اقتدار اور مال کی خواہش نے اسے حضرت موسیٰؑ کے مقابل لا کھڑا کیا۔ اس کا علم اسے سقوط سے نہ بچا سکا۔
یہی سانحہ کربلا میں بھی دہرایا گیا۔
لشکرِ عمر بن سعد کے بہت سے سردار قرآن کے حافظ، نامور قاری اور حدیث کے راوی تھے۔
- شبث بن ربعی، جو رسولِ اکرم ﷺ کا صحابی تھا اور امام حسینؑ کو دعوتی خطوط لکھنے والوں میں شامل تھا، بعد میں اموی لشکر کا ایک کمانڈر بن گیا۔
- عمر بن سعد، ایک معروف صحابی کے بیٹا اور حدیث کے راوی تھا۔ مگر حکومتِ رے کی لالچ نے اسے ظلم کے راستے پر ڈال دیا۔
- حجار بن ابجر اور عمرو بن حجاج کوفہ کے معزز افراد اور قراء میں شمار ہوتے تھے، لیکن انہوں نے اہلِ بیتؑ پر دریائے فرات کا پانی بند کر دیا۔
- شمر بن ذی الجوشن، جو جنگِ صفین میں امیرالمؤمنینؑ کے لشکر میں شریک رہ چکا تھا، بالآخر امام حسینؑ کا براہِ راست قاتل بنا۔
یہ تمام لوگ علم رکھتے تھے، مگر بصیرت سے محروم تھے۔ فیصلہ کن لمحے میں انہوں نے آخرت کے بجائے دنیا کو ترجیح دی اور رسولِ اکرم ﷺ کے نواسے کے مقابل کھڑے ہو گئے۔
اس کے برعکس حضرت عباسؑ کی شخصیت میں بصیرت اپنی کامل ترین صورت میں جلوہ گر ہوئی۔
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
كَانَ عَمُّنَا الْعَبَّاسُ نَافِذَ الْبَصِيرَةِ
"ہمارے چچا عباسؑ نہایت گہری اور نافذ بصیرت کے مالک تھے۔"
اس مختصر جملے میں حضرت عباسؑ کی پوری عظمت سمٹ آئی ہے۔ ان کی بزرگی صرف ان کی شجاعت میں نہیں تھی، بلکہ ان کی صحیح شناخت، درست تشخیص اور شعوری وفاداری میں تھی۔ انہوں نے امام حسینؑ کو صرف اپنے بھائی کے طور پر نہیں، بلکہ اللہ کی حجت کے طور پر پہچانا اور اسی معرفت کے ساتھ ان کا ساتھ دیا۔
3۔ بصیرت کی دو ہری حقیقت؛ بندے کی کوشش اور اللہ کی عطا
اسلامی تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ بصیرت ایک ایسی نعمت ہے جس کے دو پہلو ہیں۔ ایک طرف یہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور فضل ہے، اور دوسری طرف انسان کی اپنی جدوجہد اور کوشش کا نتیجہ بھی ہے۔
دوسرے لفظوں میں، بصیرت ایک ایسا الٰہی نور ہے جسے امام جعفر صادقؑ کے فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں میں القا فرماتا ہے:
"العِلمُ نُورٌ يَقْذِفُهُ اللَّهُ فِي قَلْبِ مَنْ يَشَاءُ"
"علم ایک نور ہے جسے اللہ تعالیٰ جس کے دل میں چاہتا ہے ڈال دیتا ہے۔"
لیکن اللہ کی یہ عطا بغیر کسی معیار کے نہیں ہوتی۔ جو دل گناہوں، دنیا پرستی، تعصب اور تکبر سے آلودہ ہو، وہ بصیرت کے نور کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
اللہ کی رحمت کی یہ بارش اسی دل پر برستی ہے جو خود کو اس کے لئے تیار کرے اور درج ذیل ذرائع اختیار کرے:
۱۔ تقویٰ اور روح کی پاکیزگی
باطنی بصارت حاصل کرنے کی سب سے بڑی کنجی تقویٰ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا
"اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو تو وہ تمہیں حق اور باطل میں فرق کرنے کی قوت عطا فرمائے گا۔”
(سورۂ انفال: 29)
یعنی تقویٰ انسان کے اندر ایسی بصیرت پیدا کرتا ہے جو اسے ہر دور میں حق اور باطل میں امتیاز کرنے کے قابل بناتی ہے۔
۲۔ غور و فکر اور اللہ کی یاد
قرآن کریم پرہیزگاروں کی ایک اہم صفت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ
"بے شک جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں، جب انہیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ چھو جاتا ہے تو وہ فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں، اور پھر اچانک حقیقت کو دیکھنے لگتے ہیں۔" (سورۂ اعراف: 201)
یعنی ذکرِ الٰہی اور مسلسل خود احتسابی انسان کو فکری انحراف سے محفوظ رکھتے ہیں۔
۳۔ اخلاص اور راہِ خدا میں جدوجہد
اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے:
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا
"اور جو لوگ ہماری راہ میں اخلاص کے ساتھ کوشش کرتے ہیں، ہم ضرور انہیں اپنے راستوں کی ہدایت عطا کرتے ہیں۔"
(سورۂ عنکبوت: 69)
عملی جدوجہد انسان کے سامنے علم و معرفت کے نئے دروازے کھول دیتی ہے۔
۴۔ خواہشاتِ نفس کی مخالفت
امیرالمؤمنین حضرت علیؑ فرماتے ہیں:
إِذَا أَبْصَرَتِ الْعَيْنُ الشَّهْوَةَ عَمِيَ الْقَلْبُ عَنِ الْعَاقِبَةِ
"جب نگاہ شہوت پر جم جائے تو دل انجامِ کار کو دیکھنے سے اندھا ہو جاتا ہے۔"
خواہشاتِ نفس انسان کی بصیرت پر پردہ ڈال دیتی ہیں، جبکہ ان کی مخالفت دل کی بینائی کو مضبوط کرتی ہے۔
4۔ میڈیا کے دور میں فکری چیلنجز اور فتنوں کی گرد
بنی امیہ کی حکومت نے اپنے زمانے کے ابلاغی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے امام حسینؑ کے خلاف ایک نہایت منظم نفسیاتی جنگ برپا کی۔
لوگوں کے درمیان اس قسم کے نعرے عام کئے گئے:
- "حسین امت میں تفرقہ پیدا کر رہے ہیں۔”
- "وہ معاشرے کے امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔”
- "انہوں نے جائز حکومت کے خلاف خروج کیا ہے۔”
یہ پروپیگنڈا اس قدر مؤثر ثابت ہوا کہ عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کے نام اپنے خط میں یزید کو "امیر المؤمنین" کہہ کر اس جنگ کو "قانونی حکومت” اور "باغیوں” کے درمیان ایک لڑائی کے طور پر پیش کیا۔
اس تحریف کے مقابلے میں امام حسینؑ نے اپنے مختلف خطبات کے ذریعے حقیقت کو واضح فرمایا، جن میں آپؑ کا یہ مشہور ارشاد بھی شامل ہے:
أَلَا تَرَوْنَ أَنَّ الْحَقَّ لَا يُعْمَلُ بِهِ وَأَنَّ الْبَاطِلَ لَا يُتَنَاهَى عَنْهُ؟
"کیا تم نہیں دیکھتے کہ حق پر عمل نہیں کیا جا رہا اور باطل سے روکا نہیں جا رہا؟"
امامؑ کا مقصد یہ تھا کہ حکومتی پروپیگنڈے کا حصار توڑا جائے اور لوگوں کو بتایا جائے کہ اصل معیار اقتدار کا تحفظ نہیں بلکہ حق کا تحفظ ہے۔
اگر آج کوفہ دوبارہ وجود میں آتا تو شاید عمر بن سعد لوگوں کو صرف تلوار کے زور پر جمع نہ کرتا بلکہ میڈیا، افواہوں، مصنوعی تصویروں، کردار کشی اور نفسیاتی جنگ کے ذریعے انہیں میدان میں لے آتا۔
آج بھی بے شمار حقیقتیں خبروں، تجزیوں، ویڈیوز اور یک طرفہ بیانیوں کے ہجوم میں چھپ جاتی ہیں۔
آج کا مسئلہ معلومات کی کمی نہیں بلکہ معلومات کی بہتات ہے۔
انسان روزانہ پہلے سے کہیں زیادہ خبریں پڑھتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ حقیقت کے زیادہ قریب ہو جائے؛ بلکہ بعض اوقات معلومات کی کثرت اس کی قوتِ تشخیص کو مزید کمزور کر دیتی ہے۔
ایسے ماحول میں امیرالمؤمنینؑ کا یہ فرمان نہایت رہنما ہے:
لَا تَعْرِفِ الْحَقَّ بِالرِّجَالِ، اعْرِفِ الْحَقَّ تَعْرِفْ أَهْلَهُ
"حق کو اشخاص کے ذریعے نہ پہچانو؛ پہلے حق کو پہچانو، پھر تم خود اہلِ حق کو پہچان لوگے۔"
میڈیا کے دور کی سب سے بڑی آفت یہی ہے کہ لوگ افراد اور شخصیات کو حق کا معیار بنا لیتے ہیں۔
اگر ان کی پسندیدہ شخصیت کوئی بات کہے تو وہ اسے حق سمجھتے ہیں، اور اگر مخالف شخص وہی بات کہے تو اسے رد کر دیتے ہیں۔
لیکن صاحبِ بصیرت انسان پہلے حق کے معیار کو جانتا ہے، پھر انہی معیاروں کی روشنی میں افراد اور تحریکوں کا جائزہ لیتا ہے۔
5۔ فتنوں سے نجات کے لئے نہج البلاغہ کی چار بنیادی ہدایات
نہج البلاغہ ایک ایسے معاشرے کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے جو پیچیدہ سماجی فتنوں میں گھر چکا ہو۔ ایسے فتنے جن کے بارے میں امیرالمؤمنین حضرت علیؑ فرماتے ہیں کہ وہ ابتدا میں حق کے لباس میں ظاہر ہوتے ہیں، لیکن انجام کار ان کا باطل چہرہ بے نقاب ہو جاتا ہے۔
ایسے حالات میں گمراہی سے محفوظ رہنے کے لئے حضرت علیؑ چار بنیادی اصول بیان فرماتے ہیں:
۱۔ حق کو شخصیتوں سے بالاتر سمجھنا
جنگِ جمل کے دوران ایک شخص نے امیرالمؤمنینؑ سے عرض کیا کہ کیا ممکن ہے طلحہ، زبیر اور حضرت عائشہ جیسے لوگ باطل پر ہوں؟
حضرت نے تاریخ ساز جواب دیا:
إِنَّ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ لَا يُعْرَفَانِ بِأَقْدَارِ الرِّجَالِ، اعْرِفِ الْحَقَّ تَعْرِفْ أَهْلَهُ
"حق اور باطل کا معیار لوگوں کی شخصیتیں نہیں ہوتیں۔ پہلے حق کو پہچانو، پھر تم خود اہلِ حق کو پہچان لوگے۔"
یہ اسلامی فکر کا ایک بنیادی اصول ہے۔
کسی نظرئے یا عمل کی صحت کا معیار افراد کی شہرت، سابقہ خدمات یا سماجی حیثیت نہیں، بلکہ عدل، قرآن اور الٰہی اصول ہیں۔
۲۔ فتنہ پردازوں کا آلۂ کار نہ بننا
امیرالمؤمنینؑ نہج البلاغہ کے پہلے مختصر کلام میں فرماتے ہیں:
كُنْ فِي الْفِتْنَةِ كَابْنِ اللَّبُونِ؛ لَا ظَهْرٌ فَيُرْكَبَ، وَلَا ضَرْعٌ فَيُحْلَبَ
"فتنے کے زمانے میں ایسے اونٹ کے بچے کی طرح رہو جس کی نہ پیٹھ اتنی مضبوط ہو کہ اس پر سواری کی جائے اور نہ تھن ہوں کہ اس کا دودھ دوہا جائے۔"
یعنی جب حالات غبار آلود ہوں تو انسان کو اس بات سے بچنا چاہئے کہ وہ نادانستہ باطل کے سیاسی، میڈیا یا مالی مفادات کا ذریعہ بن جائے۔
۳۔ ہدایت کے مراکز سے وابستگی
فتنوں کے دور میں سب سے محفوظ راستہ یہ ہے کہ انسان ہمیشہ ان سرچشموں سے وابستہ رہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا معیار قرار دیا ہے۔
ان میں سرفہرست ہیں:
- قرآنِ مجید، جو کبھی نہ بجھنے والا چراغ ہے۔
- عادل، خدا ترس اور الٰہی قیادت، جس کی رہنمائی معاشرے کو انتشار سے محفوظ رکھتی ہے۔
قرآن اور الٰہی رہبری سے تعلق انسان کو فکری انحراف سے محفوظ رکھتا ہے۔
۴۔ بصیرت کے ساتھ تحقیق کرنا اور جلد بازی سے بچنا
صاحبِ بصیرت انسان جذباتی لہروں کے ساتھ نہیں بہتا۔
وہ:
- جلد فیصلے نہیں کرتا،
- افواہوں پر یقین نہیں کرتا،
- ہر خبر کو تحقیق کے بغیر قبول نہیں کرتا،
- اور عبادت، دعا، غور و فکر اور تدبر کے ذریعے حقیقت کے واضح ہونے کا انتظار کرتا ہے۔
یہی طرزِ فکر انسان کو فتنوں کے دوران صحیح راستے پر قائم رکھتا ہے۔
نتیجہ
واقعۂ عاشورا محض جسمانی شجاعت کی داستان نہیں، بلکہ سب سے بڑھ کر دل کی بصیرت کا امتحان تھا۔
کربلا کے بہتر عظیم شہداء اور ہزاروں عہد شکن کوفیوں کے انجام میں اصل فرق علم، عبادت یا سابقہ خدمات کا نہیں تھا، بلکہ بصیرت کا تھا۔
کوفہ کے لوگ عبید اللہ بن زیاد کے پروپیگنڈے اور افواہوں میں اس طرح الجھ گئے کہ حق کی آواز سننے سے محروم ہو گئے۔
آج بھی امتِ مسلمہ کی سب سے بڑی ضرورت معلومات میں اضافہ نہیں، بلکہ صاحبانِ بصیرت انسانوں کی تربیت ہے۔
ایسے افراد جو میڈیا کے شور، افواہوں، نفسیاتی دباؤ اور عوامی رجحانات کے باوجود حق کو پہچان سکیں، اور حضرت عباسؑ، حبیب بن مظاہرؑ اور دیگر وفادارانِ عاشورا کی طرح اپنے زمانے میں بھی حق کے ساتھ استقامت سے کھڑے رہیں۔
یہی بصیرت عاشورا کا سب سے بڑا درس ہے، اور یہی ہر دور کے مسلمان کی حقیقی ضرورت بھی۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

