سدا بہار قرآنی کہانیاں – جلد 03 شمارہ 26

Everlasting Tales of the Quran – Volume 03 Issue 26

آدم و حوّا علیہما السلام کےزمین پر آنےکا واقعہ

انسان، ایک جستجو کرنے والی مخلوق کی حیثیت سے، ہمیشہ اپنی پیدائش کی جڑوں اور اس جہانِ آفرینش کے راز کو جاننے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ حضرت آدم و حوّا علیہما السلام کی داستان، انسانی زندگی کے آغاز کے طور پر، تاریخِ خلقت میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ قرآن کریم نے بھی بارہا مختلف زاویوں سے اس موضوع کو بیان کیا ہے اور اس کے گوناگوں پہلوؤں کی وضاحت فرمائی ہے۔

"سدا بہار قرآنی قصے” کے اس حصے میں ہم حضرت آدم و حوّا علیہما السلام کے ہبوط کے واقعے کا جائزہ لیتے ہیں؛ یعنی ابلیس کی نافرمانی اور بارگاہِ الٰہی سے اس کے نکالےجانے کے بعد کون سے واقعات پیش آئے، جن کے نتیجے میں آدم و حوّا علیہما السلام زمین پر اترے اور عالمِ مادّہ میں داخل ہوئے۔

عدلِ الٰہی کے تحت ابلیس کو دی گئی سہولتیں

جب ابلیس بارگاہِ الٰہی سے نکالا گیا تو اس نے خدا کے عدل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “تو میری طویل عبادتوں کا کیا ہوگا؟”

خداوند عالم نے فرمایا: “میرا عدل کسی کا حق ضائع نہیں کرتا۔ ان عبادتوں کے بدلے دنیاوی امور میں سے جو چاہتا ہے، طلب کر۔”

ابلیس نے کچھ امتیازات طلب کیے، اور خدانے اپنے عدل کے تقاضے کے مطابق اسے بعض توانائیاں عطا فرمائیں؛ جیسے روزِ موعود تک طویل عمر، وسوسہ ڈالنے اور انسان کے وجود کی پوشیدہ تہوں تک نفوذ کی قدرت، نسل کی وسیع افزائش، نظر نہ آنے کی صلاحیت، مختلف صورتوں میں ظاہر ہونے کی قدرت، مختلف سمتوں سے وسوسہ ڈالنا، اور انسان کو حرام کی طرف کھینچ کر اس کے مال و اولاد میں شریک ہونا وغیرہ۔

الٰہی توازن: انسان کی شیطان پر برتری

حضرت آدم علیہ السلام نے یہ امکانات دیکھ کر اللہ تعالی سے عرض کیا کہ میری اولاد ایسے دشمن کے مقابل کیسے مقاومت کرے گی؟  رب کریم نے انسان کی حمایت کے لیے اس سے کہیں برتر اور کارآمد نعمتیں قرار دیں:

  • نیک اعمال کا کئی گنا اجر، جبکہ ہر گناہ صرف ایک بار لکھا جاتا ہے۔
  • نیک نیت کا ثواب، چاہے وہ عمل تک نہ پہنچے۔
  • زندگی کے آخری لمحات تک توبہ کا دروازہ کھلا رہنا۔
  • استغفار کے ذریعے گناہوں کی بخشش۔
  • فرشتگانِ الٰہی کی همراهی اور حمایت۔
  • عقل اور خدا جو فطرت، جن پر شیطان کو تسلط حاصل نہیں۔
  • توسل اور اولیائے الٰہی کی شفاعت سے فائدہ اٹھانے کا امکان۔

نتیجہ

شیطان کو ظاہری اور عددی اعتبار سے بہت سے وسائل دیے گئے، لیکن خداوند نے انسان کو عقل، توبہ، رحمت، کئی گنا اجر اور توسل جیسے سرنوشت ساز اور معیاری سرمائے عطا کیے۔ اسی لیے قرآن کریم فرماتا ہے:

إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا

بے شک شیطان کی چال کمزور ہے۔

(سورۂ نساء، آیت ۷۶)

کیونکہ الٰہی رحمت و ہدایت کے وسیع میدان کے مقابل شیطان کی طاقت کبھی مطلق اور ناقابلِ شکست نہیں ہو سکتی۔

اس کے بعد جب طاقت کا یہ توازن قائم ہو گیا اور ابلیس کو وسوسوں کا اپنا اسلحہ خانہ مل گیا، تو تاریخِ خلقت کا ایک اہم المیہ شروع ہوا؛ ایک ایسا امتحان جس نے انسان کو آسمان کی محفوظ آغوش سے زمین کے پیچیدہ میدانِ کارزار کی طرف روانہ کرنا تھا۔

ہبوط: سقوط یا عروج؟ (زمین کی طرف انسان کی   جلاوطنی)

بہشتی قرنطینہ؛  پرواز سے پہلے تربیت گاہ

خداوند متعال نے آدم و حوّا علیہما السلام کی خلقت کے بعد انہیں ایک شاندار، سرسبز اور بے رنج باغ میں سکونت دی؛ ایک برزخی اور آسمانی بہشت، جہاں نہ سخت سردی تھی، نہ ناقابلِ برداشت گرمی، نہ بھوک تھی اور نہ غم و اندوہ۔

مہربان پروردگار نے فرمایا:

“یہ پورا باغ تمہارے اختیار میں ہے؛ جہاں سے چاہو خوشی سے کھاؤ اور پیو…”

لیکن اس بہشت کے ایک گوشے میں ایک “رکنے” کا نشان بھی تھا؛ ایک مختصر حکم اور ایک بڑا امتحان:

وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ

اور اس درخت کے قریب نہ جانا، ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔

سورۂ بقرہ، آیت ۳۵

یہ ممنوعہ درخت روایات میں کبھی گندم، کبھی سیب، اور باطنی تعبیر میں “علم اور آلِ محمد علیہم السلام کے مقام پر حسد” کے درخت کے طور پر بیان ہوا ہے۔

یہ ممانعت انسان کے اختیار کی کسوٹی تھی۔ انسان زمین کے لیے پیدا کیا گیا تھا، لیکن خاک پر اترنے سے پہلے اسے ایک مختصر مگر گہرا تربیتی مرحلہ درکار تھا؛ اسے اپنے دشمن سے ایک کنٹرول شدہ ماحول میں آشنا ہونا تھا۔

محفوظ قلعے میں نفوذ؛ ابلیس کی نفسیاتی جنگ

ابلیس، جو آدم علیہ السلام کی وجہ سے بارگاہِ قدس سے نکالا گیا تھا، اپنے سینے میں کائنات بھر کی کینہ پروری لیے ہوئے تھا۔ اس نے قسم کھائی تھی کہ خدا کے اس نئے شاہکار کو خاک میں ملا دے گا۔ لیکن ایک مشکل تھی: ابلیس کو اس پاک بہشت میں کھلم کھلا داخل ہونے کا حق نہیں تھا۔

روایات کہتی ہیں کہ ابلیس نے بہشت میں داخل ہونے کے لیے چال چلی۔ اس نے تجسم، یعنی شکل بدلنے کی قدرت استعمال کی اور خود کو ایک خوب صورت مخلوق کی صورت میں ظاہر کیا؛ یا بعض تفسیروں کے مطابق سانپ کے منہ میں چھپ کر یا طاؤس کو فریب دے کر بہشت کے نگہبانوں کو دھوکا دیا اور آدم و حوّا علیہما السلام کے حریم تک پہنچ گیا۔

اس نے براہِ راست نفسیاتی جنگ شروع کی اور انسان کی دو بڑی فطری کمزوریوں پر ہاتھ رکھا: “جاودانگی کی خواہش” اور “مطلق قدرت کی طلب”۔

ابلیس نے ہمدردانہ اور نرم لہجے میں کہا:

کیا تم جانتے ہو خدا نے تمہیں اس درخت سے کیوں منع کیا ہے؟ صرف اس لیے کہ اگر تم اس سے کھا لو گے تو طاقتور فرشتے بن جاؤ گے، یا ہمیشہ کی زندگی پا لو گے، اور پھر کوئی تمہیں یہاں سے نکال نہیں سکے گا!”

(سورۂ اعراف، آیت ۲۰)

آدم و حوّا علیہما السلام نے ابتدا میں مزاحمت کی، لیکن ابلیس نے آخری تیر چلایا: اس نے اللہ کے نام کی جھوٹی قسم کھائی۔

آدم و حوّا علیہما السلام، جو اس سے پہلے ملائکہ کی سچائی کے ماحول میں رہے تھے، کبھی تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی مخلوق خدا کی پاک ذات کی جھوٹی قسم کھانے کی جرأت کرے گی۔ انہوں نے سمجھا کہ یہ مخلوق کتنی خیرخواہ ہے کہ ہمارے بھلے کے لیے خدا کی قسم کھا رہی ہے۔

سیب کا ذائقہ اور بہشتی پردوں کا گرنا

حوّا اور پھر آدم علیہما السلام نے ہاتھ بڑھایا اور اس ممنوعہ میوے کا ذائقہ چکھ لیا۔ جیسے ہی اس میوے کا اثر ان کے وجود کی گہرائی تک پہنچا، اچانک ان کے معنوی وجود میں ایک شدید طوفان برپا ہو گیا:

  • نورانی لباس گر گئے: وہ تمام باوقار، نورانی اور بہشتی پوششیں ایک لمحے میں اتر گئیں۔
  • مادّی ضرورتوں کا ظہور ہوا: ان کی آنکھیں کھل گئیں اور پہلی بار انہوں نے اپنی برہنگی، مادّی ساخت اور جسمانی عورات کو محسوس کیا۔

شرم و حیا سے بھر کر وہ ادھر اُدھر دوڑنے لگے اور گھبراہٹ میں بہشتی درختوں کے چوڑے پتوں، جیسے انجیر کے پتوں، کو جوڑ کر اپنے مادّی جسم کو چھپانے لگے۔

اسی وقت پوری بہشت میں ایک ندا گونجی:

أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ…؟!

کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہیں کیا تھا، اور نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے؟!”

(سورۂ اعراف، آیت ۲۲)

آدم و حوّا علیہما السلام نے شرمندگی اور لرزتے دل کے ساتھ اپنی خطا کو پہچان لیا۔ ابلیس کے برخلاف، جس نے گناہ کے بعد تکبر کیا تھا، انہوں نے فوراً سر جھکا دیا اور عرض کیا:

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا، اور اگر تو ہمیں معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

(سورۂ اعراف، آیت ۲۳)

ہبوط؛ زمین کی طرف روانگی کا حکم

اب آدم و حوّا علیہما السلام کا مادّی بن چکا وجود بہشت کی پاک اور مجرد فضا سے ہم آہنگ نہ رہا۔ مادّے کی سنگینی انہیں زمین کی طرف کھینچ رہی تھی۔ خداوند کا قطعی حکم صادر ہوا:

اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ

تم سب زمین پر اتر جاؤ؛ تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے، اور تمہارے لیے زمین میں ایک مدت تک ٹھہرنے اور فائدہ اٹھانے کا سامان ہوگا۔

(سورۂ بقرہ، آیت ۳۶)

آدم و حوّا علیہما السلام اس سرسبز بلندی سے تاریک خاک کی طرف بھیجے گئے۔ قدیم روایات بیان کرتی ہیں:

  • آدم علیہ السلام موجودہ مکہ کے کوہِ صفا پر اترے؛ وہ پہاڑ جس کا نام آدم صفی اللہ کی برگزیدگی سے منسوب ہے۔
  • حوّا سلام اللہ علیہا کوہِ مروہ پر اتریں؛ وہ پہاڑ جس کا نام ان کی مروّت اور نسوانی وقار کی یاد دلاتا ہے۔
  • ابلیس بھی ایک دور دراز اور سخت آب و ہوا والے علاقے، جیسے بصرہ یا جدہ کی سرزمین، پر پھینکا گیا۔

خاک پر سوزناک گریہ اور نجات کی  چھتری کا  کھل جانا

زمین تاریک تھی، سنگلاخ تھی، اور بہشت کے برخلاف یہاں ایک لقمہ نان حاصل کرنے کے لیے محنت اور پسینہ درکار تھا۔

آدم علیہ السلام خاک پر گرے اور زار و قطار گریہ کرنے لگے۔ تفاسیر بیان کرتی ہیں کہ وہ سالہا سال، بعض روایات کے مطابق چالیس دن یا اس سے بھی زیادہ، سجدے میں رہے اور خدا کے فرمان کی خلاف ورزی پر شرمندگی سے آنسو بہاتے رہے۔

یہیں پر مہربان خداوند نے وہ عظیم امتیاز فعال کیا جس کا پہلے وعدہ کیا تھا۔ جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور آدم علیہ السلام کو کچھ رازآلود کلمات سکھائے۔

سورۂ بقرہ کی آیت ۳۷ فرماتی ہے:

فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ

پس آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات حاصل کیے، پھر خدا نے اس کی توبہ قبول فرمائی۔

وہ کلمات کیا تھے؟

معتبر روایات کے مطابق، جبرئیل علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا کہ خدا کو ان ناموں کے واسطے سے پکارو:

يا حميدُ بحقِّ محمد، يا عاليُ بحقِّ علي، يا فاطرُ بحقِّ فاطمة، يا محسنُ بحقِّ الحسن و يا قديمَ الإحسان بحقِّ الحسين

آدم علیہ السلام نے گریہ کرتے ہوئے یہ نام زبان پر جاری کیے۔ جب حسین علیہ السلام کا نام آیا تو ان کا دل ٹوٹ گیا اور آنسو جاری ہو گئے۔ انہوں نے پوچھا: “اے جبرئیل! یہ آخری نور کون ہے جس کا نام میرے دل کو درد میں مبتلا کر گیا؟

جبرئیل علیہ السلام نے آدم علیہ السلام کے سامنے کربلا کا مصائب نامہ بیان کیا، اور آدم علیہ السلام نے خاک پر اپنے مستقبل کے فرزند کے لیے گریہ کیا۔ خداوند نے ان انوار اور اس شکستہ دلی کے طفیل آدم علیہ السلام کی خطا کو معاف فرمایا اور انہیں زمین کا پہلا نبی منتخب کیا۔

تعلیمی نتیجہ: ہبوط کا فلسفہ کیا ہے؟

ہبوط، عام تصور کے برخلاف، محض “سزا” یا “جرمانہ” نہیں تھا، بلکہ خداوند کا اصل منصوبہ تھا۔ خداوند نے آدم علیہ السلام کی خلقت سے پہلے فرمایا تھا:

“میں زمین میں اپنا جانشین قرار دینا چاہتا ہوں۔”

پس آدم علیہ السلام ابتدا ہی سے زمین کے لیے تھے۔ پہلی بہشت صرف ایک تربیتی اور تجرباتی مرحلہ تھی تاکہ انسان حقیقی دنیا میں داخل ہونے سے پہلے:

  1. بہشت میں حضور کی لذت چکھ لے، تاکہ زمین پر ہمیشہ اپنے اصلی گھر کا مشتاق رہے اور اس کی طرف واپسی کے لیے کوشش کرے۔
  2. اپنے دشمن، یعنی ابلیس، کی جنگی چالوں کو پہچان لے۔
  3. سمجھ لے کہ اس عالم کا قانون “انتخاب اور ذمہ داری” کا قانون ہے۔

انسان زمین پر آیا تاکہ سخت مدرسۂ طبیعت میں شہوت، غضب اور ابلیس کے وسوسوں پر غالب آ کر اپنے اختیار سے کمال کی سیڑھیاں چڑھے، اور اس بار ایسی بہشت تک پہنچے جو پہلی بہشت سے کہیں بلند تر ہو؛ وہ بہشت جو بندگی، خونِ دل اور مجاہدے سے خریدی جاتی ہے۔

منابع اور حوالہ جات:

  • الکافی، ج ۲، کتاب الإیمان و الکفر، باب التوبة، حدیث ۲؛ ابلیس کے امتیازات اور آدم علیہ السلام کے دفاعی وسائل کی تفصیلی موازنت۔
  • تفسیر القمی، ج ۱، سورۂ اعراف اور سورۂ اسراء، آیت ۶۴ کے ذیل میں۔
  • نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۲، خطبۂ قاصعہ؛ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی طرف سے ابلیس کے نسلی تکبر کی دقیق تشریح۔
  • تفسیر القمی، ج ۱، سورۂ بقرہ کی آیات کے ذیل میں۔
  • بحار الأنوار، ج ۱۱، باب قصص آدم و حوّا و هبوطهما إلى الأرض۔
  • نہج البلاغہ، خط
اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔