تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 18

Religious Outreach Experiences - Volume 03 Issue 18

تھکے ہوئے مزدور کے ہاتھوں پر ایک بوسہ؛ ایک تبدیلی کی کہانی

رمضان کا مہینہ تھا؛ ایسا مہینہ جس میں دل پہلے سے زیادہ حق کو سننے کے لئے آمادہ ہوتے ہیں۔ اسلامی مرکز کی فضا کچھ اور ہی تھی؛ افطار کی خوشبو، دعا کی سرگوشیاں، اور ایسے چہرے جو اپنے اپنے مسائل لے کر آئے تھے۔ میں نے بھی فیصلہ کیا تھا کہ ان دنوں میں زیادہ عملی اور محسوس کئے جانے والے موضوعات پر بات کروں؛ ایسے اخلاق پر جو روزمرہ زندگی میں جاری ہو، نہ کہ صرف کتابوں تک محدود ہوں۔

ایک دن گفتگو "معاشرے میں باہمی احترام” پر شروع کی گئی۔ میں نے حاضرین سے پوچھا:

"آپ کے خیال میں اسلام سب سے زیادہ کن لوگوں کے احترام کی تاکید کرتا ہے؟”

جوابات ایک ایک کر کے آئے؛ والدین، اساتذہ، بزرگ، بیمار… سب درست اور قابلِ قبول تھے۔

میں نے سر ہلایا اور کہا:

"یہ سب درست ہیں؛ لیکن کیا ہم نے کبھی مزدوروں کے بارے میں سوچا ہے؟ وہ لوگ جو صبح سویرے سے شام تک اپنے ہاتھوں سے زندگی بناتے ہیں؟”

چند لمحوں کے لئے خاموشی چھا گئی۔

میں نے بات جاری رکھی:

"میٹرو اور بسوں میں بار بار یاد دلایا جاتا ہے کہ اپنی نشست بزرگوں یا حاملہ خواتین کو دیں۔ لیکن کیا کبھی آپ نے اپنی نشست کسی تھکے ہوئے مزدور کو دی ہے؟ یا اس کے برعکس، اس کے مٹی سے آلودہ کپڑوں کی وجہ سے اس سے  دوری اختیار کرتے رہے ہیں؟ ایسا کیوں ہے کہ وہ شخص جو میز کے پیچھے بیٹھا ہے، بیٹھنا اپنا حق سمجھتا ہے، مگر وہ تھکا ہوا مزدور نظر ہی نہیں آتا؟”

اس بار خاموشی اور بھی گہری ہو گئی۔

میں نے کہا:

"آئیے اپنے نقطۂ نظر کو درست کریں۔ اسلام صرف نماز اور روزہ نہیں ہے؛ اسلام کا مطلب ہے انسان کو دیکھنا—حتیٰ کہ جب وہ کام کی گرد و غبار میں اٹا ہوا ہو۔”

تقریر ختم ہوئی۔ لوگ آہستہ آہستہ افطار کی تیاری میں لگ گئے۔ اسی دوران ایک یورپی شخص، جس کا چہرہ میرے لئے اجنبی تھا، تیزی سے میری طرف آیا۔ اس نے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھاما؛ اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔

اس نے کہا:

"میں نے آج تک کسی دینی عالم سے ایسی بات نہیں سنی… کوئی جو ہماری حقیقی زندگی کے بارے میں بات کرے۔ میں آپ سے مزید بات کرنا چاہتا ہوں۔”

یہ ملاقات ایک نئے سفر کا آغاز بنی۔ متعدد نشستیں ہوئیں؛ صاف اور براہِ راست سوالات، طویل گفتگوئیں، اور ایک سچی تلاش۔ وہ سوال کرتا اور میں کوشش کرتا کہ صرف دلائل سے نہیں بلکہ ان تعلیمات کے پسِ پردہ روح کو دکھاتے ہوئے جواب دوں۔

رمضان کے آخری دنوں میں، اس نے فیصلہ کر لیا۔ مکمل آگاہی اور اختیار کے ساتھ اس نے اسلام قبول کر لیا۔

یہ فیصلہ اس کے لئے آسان نہ تھا؛ یہاں تک کہ اس کی بیوی سے جدائی تک بات پہنچ گئی۔ لیکن وہ ثابت قدم رہا، اور کچھ عرصے بعد اس نے نئی زندگی کا آغاز کیا۔

ایک دن میں نے اس سے پوچھا:

وہ”کون سی چیز ہے جس نےتمہیں سب سے زیادہ متاثر کیا؟”

وہ مسکرایا اور بولا:

"وہی جملہ جو آپ نے مزدور کے بارے میں کہا تھا… وہی لمحہ تھا جب مجھے محسوس ہوا کہ مجھے اس دین کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ میں اسلام کو صرف میڈیا کے ذریعے جانتا تھا—تشدد اور خوف سے بھرا ہوا۔ لیکن اس انسانی نظر نے سب کچھ بدل دیا۔”

اس لمحے میں نے ایک حدیث کا حقیقی مفہوم دل سے سمجھا؛” کبھی ایک انسانی رویہ ہزاروں دلائل سے زیادہ اثرانداز ہوسکتا ہے۔”

اس تجربے سے حاصل ہونے والے چند دائمی اسباق

1۔ دین زندگی کے متن میں ہوتا ہے، حاشیے میں نہیں:

دین کی سب سے خوبصورت تصویر سادہ اور روزمرہ کے کاموں میں ظاہر ہوتی ہے؛ جہاں اخلاقی قدریں نعرہ نہیں بلکہ عمل بن جاتی ہیں ۔

2۔ مشترکہ زبان دلوں تک پہنچنے کا پل ہے:

موثر تبلیغ صرف الفاظ جاننے اور انہیں ادا کردینے سے نہیں ہوتی؛  بلکہ لوگوں کے  زمینی حقائق پر مبنی مسائل کو سمجھنا اور ان سے زندگی کی زبان میں بات کرنا ضروری ہوتا ہے۔

3۔  انسانی وقار دلوں کو جیتنے کی کنجی ہے:

انسانوں کا احترام، خصوصاً ان محنت کش انسانوں کا  جو  اکثرنظر انداز کئے جاتے ہیں، جیسے مزدور، دلوں پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے اور دین کی حقیقت کو براہِ راست دلوں  تک پہنچایا جاسکتا ہے۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔