موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 11
الٰہی قیادت اور سماجی انسجام: سورۂ آلِ عمران کی آیت 144 کی روشنی میں
سید ہاشم موسوی
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ
"محمد ﷺ اللہ کے رسول کے سوا کچھ نہیں؛ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ تو کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا شہید کر دئے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھر جائے، وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور اللہ عنقریب شکر گزاروں کو جزا دے گا۔”
مقدمہ
سورۂ آلِ عمران کی آیت 144 قرآنِ کریم کی ان بنیادی آیات میں سے ہے جو “الٰہی قیادت”، “ہدایت کے تسلسل” اور “سماجی انسجام” کے باہمی تعلق کو واضح کرتی ہیں۔ یہ آیت جنگِ احد کے بحران اور رسولِ اکرم ﷺ کی شہادت کی افواہ کے پس منظر میں نازل ہوئی، مگر اس کا پیغام صرف ایک تاریخی واقعے تک محدود نہیں بلکہ امتِ اسلامی کی پوری حیات کے تمام ادوار پر محیط ہے۔
قرآنِ کریم اس آیت میں ایک تنبیہی سوال "أفإن مات أو قتل انقلبتم على أعقابكم”کے ذریعے اہلِ ایمان کو محض شخصیت سے وابستگی کے بجائے “راہ” اور “نظامِ ہدایت” سے وابستگی کی طرف بلاتا ہے، اور واضح کرتا ہے کہ بحران کے لمحات میں سب سے بڑا خطرہ رہبر کی عدم موجودگی نہیں بلکہ قیادت کے مقام کی درست معرفت کا نہ ہونا ہے۔
اس زاویے سے دیکھا جائے تو زیرِ بحث آیت کو "قیادت کی درست پہچان” اور "سماجی استحکام” کے باہمی ربط پر قرآن کے نہایت صریح بیانات میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ اس میں قرآن ایمانی معاشرے کو بحران کے وقت جذباتی انتشار اور قیادت کےفقدان کے سبب داخلی ٹوٹ پھوٹ سے بر حذر رہنے کی تاکید فرماتا ہے۔ اور اس کے مقابلے میں باخبر استقامت، ذمہ دارانہ وفاداری اور ہدایت کے حکیمانہ تسلسل کی طرف رہنمائی دیتا ہے۔
"قیادت کے منصب” اور "شخصِ قائد” میں فرق
اس آیت کا پہلا پیغام "شخص” اور "منصب ” کو الگ الگ کرکے دیکھنا ہے۔ "وما محمد إلا رسول” کا جملہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نظامِ ہدایت میں "ہدایت کے عملی محور” ہیں، "ہدایت کے مستقل سرچشمہ”نہیں۔ چنانچہ قرآن ہدایت کو اللہ کی طرف منسوب کرتا ہے:
"إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَىٰ "(سورۂ لیل، 12)، اور نبی اکرم ﷺ کو اس کی تبلیغ و تبیین کا مامور قرار دیتا ہے: "إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا الْبَلَاغُ” (سورۂ شوریٰ، 48)۔ لہٰذا ہدایت کا اصل منبع اللہ تعالیٰ ہے، اس کا نظام وحی پر قائم ہے، اور الٰہی قیادت اس نظام کے اجتماعی تحقق کا محور ہے۔
جملہ "قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ” بھی اسی تاریخی سنت کی یاد دہانی ہے کہ رہبر آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، مگر ہدایت کی راہ باقی رہتی ہے۔
شیعہ مکتبِ فکر میں یہ فرق “حجتِ الٰہی کے استمرار” کے نظریے سے زیادہ واضح ہوتا ہے۔ چنانچہ امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: "لَا تَخْلُو الْأَرْضُ مِنْ حُجَّةٍ” یعنی زمین کبھی حجتِ خدا سے خالی نہیں ہوتی۔
اس بنا پر، یہ آیت معاشرے کی توجہ “شخص پرستی” سے “خط پرستی” کی طرف منتقل کرتے ہوئے، الٰہی قیادت کے ادارے کو نظامِ ہدایت میں ایک “پائیدار ساخت” قرار دیتی ہے جو اشخاص کے چلے جانے سے منہدم نہیں ہوتی۔
بصیرت؛معرفت اور استقامت کے درمیان حلقۂ وصل ہے:
جب “شخص” اور “ادارے” کے درمیان فرق سمجھ میں آ جائے تو بنیادی سوال یہ ہے کہ معاشرہ اس نظری معرفت کو عملی استقامت میں کیسے تبدیل کرے؟ وہ گم شدہ حلقہ جو معاشرے کو ارتجاع کے گڑھے میں گرنے سے بچاتا ہے، وہ ہے: ” نظامِ ولایتِ الٰہی کے بارے میں بصیرت”۔
یہ ربط درج ذیل تین طریقوں سے پیدا ہوتا ہے تاکہ جسمانی طور پر رہبر کی عدم موجودگی میں معاشرہ منہدم نہ ہو:
1۔ محض جذبات سے نکل کر ایمانی عقلانیت کی طرف جانا ۔
اگرچہ رہبر سے محبت معاشرے کی محرک قوت ہے، لیکن اگر یہ محبت “راہ” کی معرفت سے نہ جڑے تو شخص کے فقدان کے بعد یہی محبت مایوسی اور جمود میں بدل سکتی ہے۔
2۔ اصولوں کی بنیاد پر نظام سازی۔
جو معاشرہ "الٹے پاؤں لوٹنا” نہیں چاہتا، اسے جسمانی موجودگی پر انحصار کے بجائے قیادت کی جانب سے بیان کردہ “معیاروں” اور “اصولوں” سے وابستہ ہونا ہوگا۔
3۔ تسلسل کے امتحان کے لئے آمادگی
آیت 144 متنبہ کرتی ہے کہ بحران وہ وقت ہے جب انسان ا "فرد”کے بجائے "مکتب” پر تکیہ لگائے ہوئے ہو۔ یہ ذہنی آمادگی معاشرے کو یہ سمجھنے کے قابل بناتی ہے کہ رہبر کا چل بسنا "راہ کا خاتمہ” نہیں بلکہ "وفاداری کے ایک نئے مرحلے کا آغاز”ہے۔
دقیانوسیت کے نقصانات
عبارت "انقلبتم على أعقابكم” یعنی "ایڑیوں کے بل پلٹ جانا”ایک نہایت دقیق سماجی استعارہ ہے۔ اس سے مراد حساس لمحات میں ترقی کے تجربے کے بعد دوبارہ پرانے اور ناکام نمونوں کی طرف لوٹ جانا ہے۔ یہ صورتِ حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی معاشرہ یا تنظیم کسی ایک فرد پر حد سے زیادہ منحصر ہو، اور اس کے فقدان سے اپنی شناخت ہی کھو بیٹھے، پھر دقیانوسی اور منسوخ ڈھانچوں کی پناہ میں چلا جائے۔
قرآن اس تعبیر کے ذریعے تین بنیادی خطرات سے خبردار کرتا ہے:
1۔ اجتماعی جذباتیت
"أفإن مات أو قتل” بحران کے وقت عقل پر احساسات کے غالب آ جانے کے خطرے کی تنبیہ ہے۔
2۔ دینی شخصیت پرستی
جب ایمان کو حقیقت کے بجائے کسی فرد سے باندھ دیا جائے تو یہ ایک بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔ آیت صراحت کے ساتھ بتاتی ہے کہ رہبر سے محبت معرفت کے ساتھ ہونی چاہیے، اور راہ پر ایمان شخصی وابستگی سے بلند تر ہونا چاہیے۔
3۔ تاریخی بصیرت کا فقدان
"قد خلت من قبله الرسل” واضح طور پر یہ بتاتا ہے کہ “ہدایت کے تسلسل کی سنت” کو نہ سمجھنا ان لوگوں کی ایک بڑی کمزوری ہے جو قیادت کے فقدان کے وقت اصولوں پر ثابت قدمی کھو دیتے ہیں۔
جسمانی فقدانِ نمونہ کے وقت دقیانوسیت کی جڑیں
جب کوئی معاشرہ “ادارے” اور “شخص” کے درمیان فرق نہ کرے، تو رہبر کی عدم موجودگی دقیانوسیت کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کی اہم ترین جڑیں یہ ہیں:
1۔کسی مکتب کا شخصی حیثیت اختیارکر لینا
یہ اسٹریٹجک دقیانوسیت کی ایک اہم نفسیاتی و سماجی جڑ ہے۔ جب ایک پورے ادارے کے تمام مقاصد کسی ایک فرد کے وجود میں سمٹ جائیں، تو اس کی وفات یا شہادت عوام کے ذہن میں "مقاصد کی موت”بن جاتی ہے۔ مندرجہ بالا آیت کا یہ ٹکڑا "وما محمد إلا رسول" یاد دلاتا ہے کہ رسول راستہ ہیں، منزل نہیں۔
2۔ ابہام سے پیدا ہونے والا اضطراب
رہبر کا فقدان، منصب کا خلاء پیدا کرتا ہے۔ ایسی صورت میں معاشرہ عدمِ تحفظ سے بچنے کے لئے "پرانے مانوس حالات” کی طرف لوٹنے لگتا ہے، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں۔
3۔ پائیدار بنیادوں کا نہ ہونا
ہدایت کی منتقلی کے لئے منظم ادارہ جاتی ڈھانچے کا فقدان۔
4۔ اجتماعی اعتماد میں تزلزل
قیادت کے خلا میں اعتماد کا بحران شدت اختیار کرتا ہے۔ جنگِ احد کے تجربے نے دکھایا کہ اگر رہبر کے فقدان کی افواہ کے ساتھ معرفتی آمادگی نہ ہو تو وہ تیزی سے سماجی بحران میں بدل جاتی ہے۔
” پیچھے پلٹنے” کے مختلف مراحل
آیت کے لغوی تجزیے کی رو سے دقیانوسیت دو مرحلوں میں رونما ہوتی ہے:
1۔ فکری دقیانوسیت
راہ کی حقانیت کے بارے میں شبہات اور تردید کی طرف لوٹ جانا، جیسے یہ سوچنا: “اگر وہ حق پر تھے تو پھر شہید کیوں ہوئے؟”
2۔عملی دقیانوسیت
مورچوں کو چھوڑ دینا اور تبدیلی سے پہلے والی طرزِ زندگی کی طرف لوٹ جانا۔
یہ ٹوٹ پھوٹ اور ترکِ میدان درج ذیل صورتوں میں ظاہر ہو سکتی ہے:
- اخلاقی سطح پر، ایثار اور ذمہ داری کے جذبےکے زوال کی صورت میں،
- سماجی سطح پر ، یکجہتی کا ٹوٹنے اور بکھرجانے کی شکل میں،
- اور تمدنی سطح پر، امت کی تاریخی تحریک کے رک جانے کی صورت میں۔
” پیچھے پلٹنے” کے تزویراتی نتائج:
قرآنِ کریم اسی آیت میں اس پسپائی کے چند بنیادی نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے:
1۔ ماضی کی کامیابیوں کا بے اثر ہو جانا
قرآن متنبہ کرتا ہے کہ یہ واپسی اللہ کے دین کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ خود معاشرے کو نقصان دیتی ہے:
"فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا” یعنی نظام ایک کلیدی فرد کے بغیر بھی چلتا رہتا ہے، لیکن “پسپائی اختیار کر لینے والے لوگ تکامل کے دائرے سے خارج ہو جاتے ہیں۔
2۔ انسانی سرمایہ کا ضیاع
حساس لمحات میں معیاری افراد کا ٹوٹ کر الگ ہو جانا، کسی ادارے کی پائیداری کے لئے شدید نقصان ہے۔
3۔بیرونی خطرات کے مقابلے میں زیادہ کمزورپڑجانے کا امکان
داخلی پسپائی معاشرے کو بیرونی حملوں اور نفسیاتی جنگ کے لئے زیادہ قابلِ نفوذ بنا دیتا ہے۔
4۔ امت کی تاریخی پیش رفت کا رک جانا اور سابقہ حالتوں کی طرف پلٹ جانا۔
اسکا حل کیا ہے؟ : یہی کہ کسی شخص سے وابستہ پیروکار کو ” ایک ثابت قدم شکرگزار فرد” میں بدل دیا جائے ۔
اس آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے "وسيَجزي الله الشاكرين" فرما کر اسکا حل "شکرگزار ی” میں بیان فرمادیاہے۔ یہاں شکر صرف زبانی نہیں بلکہ ایک حکمتِ عملی ہے، جو دو صورتوں میں سمجھی جا سکتی ہے:
1۔ میراث کی حفاظت
شاکر وہ ہے جو نعمت یعنی قیادت اور مکتب کی قدر پہچانتا ہے، اور رہبر کی عدم موجودگی میں اس ادارے کے “ثمرات” کی حفاظت کر کے اس کے تسلسل کو یقینی بناتا ہے۔
2۔ تنظیمی راہ پر گامزن رہنا ۔
اپنی مقررہ راہ پر ثابت قدم رہنا، ایک عملی شکر ہے، جو دشمن کو نفسیاتی جنگ میں ہرگزکامیاب نہیں ہونے سے دیتا ہے۔
اب رہا یہ سوال کہ یہاں "استقامت” کو "شکر” کے مترادف کیوں قرار دیا گیا؟ اس کی چند بنیادی وجوہات ہیں:
1۔ .شکر یعنی نعمت کا درست مصرف
قرآنی منطق میں شکر صرف زبان سے ادا ہونے والا ذکر نہیں بلکہ ہر نعمت کو اس کی درست جگہ استعمال کرنا ہے۔ سب سے بڑی نعمت "ہدایت” اور "رسالتِ پیامبر” ہے۔ جو شخص سختیوں میں ثابت قدم رہتا ہے، دراصل وہ نعمتِ ہدایت کی حفاظت کرتا ہے، اور یہی ایمان کی حفاظت خدا کے حضور اعلیٰ ترین شکر ہے۔
2۔ استقامت، معرفت کے درخت کا پھل ہے
شکر اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب انسان اپنی نعمت کی قدر پہچانے۔ جو شخص حق کے راستے میں استقامت دکھاتا ہے، وہ دراصل یہ ثابت کرتا ہے کہ اس نے "حق” کی قدر کو سمجھ لیا ہے۔ یہی عملی قدر شناسی وہ شکر ہے جس کی طرف آیت اشارہ کرتی ہے، اس کے برخلاف جو لوگ معمولی دباؤ میں پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور یوں نعمتِ ہدایت کی ناشکری کرتے ہیں۔
3۔ ارتداد اور شکر کا تقابل
مبدرجہ بالا آیت کے اندر اللہ فرماتا ہے کہ تمہارا پیچھے ہٹ جانا خدا کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔ اس کے فوراً بعد “شاکرین” کا ذکر آتا ہے۔ یہ تقابل بتاتا ہے کہ ذاتی مفاد یا خوف کی وجہ سے راہِ حق کو چھوڑ دینا دراصل ناشکری اور کفران نعمت ہے، جبکہ خدا سے کئےگئے عہد پر قائم رہنا شکرِ نعمت ہے۔
خلاصہ یہ کہ میدانِ آزمائش میں استقامت اور دین کی راہ میں پائیداری، نعمتِ اسلام کے شکر کا خارجی مظہر ہے۔ قرآن کی نظر میں سچا شاکر وہی ہے جو الٰہی امتحان کے وقت اپنے آرمانوں پر ثابت قدم رہتا ہے۔
خلاصۂ کلام
سورۂ آلِ عمران کی آیت 144 الٰہی قیادت کو “ہدایت کے اجتماعی تحقق کا محور” قرار دیتی ہے، اور ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی کرتی ہے کہ ایمانی معاشرے کی بقا قیادت کے مقام کی درست فہمی پر موقوف ہے۔ یہ آیت معاشرے کو شخص پرستی سے ادارہ پروری کی طرف، جذباتیت سے بصیرت کی طرف، اور وابستگی سے ذمہ دارانہ وفاداری کی طرف ارتقا دیتی ہے۔ یہی پیغام ہر دور میں، خصوصاً بحران کے حالات میں، سماجی انسجام کے تحفظ کے لئے ایک اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

