تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 19
وہ مسکراہٹ جس نے نام کو پیچھے چھوڑ دیا
کمرے کی فضا میں پرانے کاغذوں اور برسوں پرانی سیاہی کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ کھڑکی کی مدھم روشنی ان الماریوں پر پڑ رہی تھی جو سالہا سال سے طلبہ اور اہلِ علم کی آمد و رفت کی گواہ تھیں۔ اساتذہ میں سے ایک فرماتے تھے:
"شیخ آقا بزرگ تہرانى کی حیات میں، میں اکثر ان کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔ ہر بار جب میں داخل ہوتا، مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے میں ایک ایسی دنیا میں قدم رکھ رہا ہوں، جہاں علم شہرت کے لئے نہیں بلکہ خدمت کے لیے سانس لیتا ہے۔”
ایک دن انہی ملاقاتوں میں، ان کی نظر ایک قلمی کتاب پر پڑی؛ جوعلمِ اصول پر ایک نہایت نفیس ، نہایت منظم اور پرکشش لکھاوٹ میں لکھی ہوئی تھی۔ انہوں نے اس کے اوراق پلٹے، پڑھا، اور دل ہی دل میں تعریف کی؛ گویا الفاظ کاغذ پر نہیں بلکہ مصنف کی روح میں نقش کئے ہوئےتھے۔
سال گزر گئے…
کتابوں کی منڈی میں ہلچل تھی۔ آوازیں آپس میں گڈمڈ ہو رہی تھیں، اور کتابیں ہاتھوں ہاتھ بٹ رہی تھیں۔ اچانک ان کی نظر ایک ایسی کتاب پر پڑی جس نے ان کے دل کو ہلا دیا؛ وہی اثر! وہی عبارتیں! وہی انداز! مگر اس بار قلمی نسخہ نہیں بلکہ خوبصورت چھپی ہوئی شکل میں…
لیکن ایک چیز درست نہ تھی: مصنف کا نام۔ کتاب کسی اور کے نام سے شائع ہوئی تھی۔
ان کا دل تڑپ کے رہ گیا ۔ جلدی سے شیخ کی خدمت میں پہنچے اور ہانپتے ہوئے عرض کیا:
"آقا! آپ کی کتاب کولے کر کسی نے اپنے نام سے شائع کر دی ہے!”
وہ توقع کر رہے تھے کہ یہ خبر سن کر شیخ کا چہرہ متغیر ہو جائے گا، شکوہ کریں گے، یا کم از کم افسوس ظاہر کریں گے۔
لیکن شیخ… مسکرانے لگے۔ ایک پرسکون مسکراہٹ، جواپنے دامن میں رضا کی خوشبو لئے ہوئے تھی۔
فرمایا:
"الحمدللہ! میں برسوں سے خدا سے دعا کر رہا تھا کہ یہ کتاب شائع ہو جائے تاکہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں، مگر میرے پاس مالی استطاعت کے نہ ہونے کے سبب، اسے چھپوانا سکاتھا۔ اب اللہ نے میری دعا قبول کر لی…”
شاگرد نے حیرت سے کہا:
"لیکن آقا! یہ آپ کے نام سے نہیں ہے! آپ کی محنت کسی اور کے نام پر درج ہو گئی ہے!”
شیخ نے اسی سکون کے ساتھ جواب دیا:
"اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اہم بات یہ ہے کہ علم پھیل گیا اور لوگوں تک پہنچ گیا…”
اسی لمحے شاگرد نے سمجھ لیا کہ وہ صرف ایک "عالم” کے سامنے نہیں بیٹھا، بلکہ ایسے انسان کے سامنے کھڑا ہے جو علم کی سرحد سے آگے بڑھ کر اخلاص کی بلندی تک پہنچ چکا ہے۔
یہیں اس کے دل میں تبلیغ کا حقیقی مفہوم نقش ہو گیا—بغیر کسی منبر کے۔
تبلیغ صرف باتوں سے نہیں؛ بلکہ کبھی "اپنی "انا” کو پیچھے دکھیل دینے سے کی جاتی ہے۔ تاکہ اپنے نام کی جگہ پر "حق کی بات” باقی رہے۔
تبلیغ صرف خود کو پیش کرنا نہیں؛ بلکہ "خد کو مد نظر رکھنا” ہوتا ہے تاکہ ” اس اخلاص کا اثر” نظر آئے۔
اس دن شیخ نے ایک مسکراہٹ کے ذریعے وہ سبق دیا جو شاید سینکڑوں خطبات بھی نہ دے سکتے:
"حبِ نفس” اور "حبِ خدمت” کے درمیان حد وہی ہے جہاں انسان اپنے نام و نمود کو پیچھے چھوڑکر خدمت علم میں آگے بڑھ جاتا ہے۔
اس تجربے سے حاصل ہونے والے چند اہم نکات:
- اخلاص کا مطلب ہے نام سے آگے بڑھ جانا:
اگر مقصد دین اور لوگوں کی خدمت ہو تو نام کا ذکر ثانوی حیثیت رکھتا ہے؛ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ پیغام دلوں تک پہنچے۔ - خاموشی کی تبلیغ کا اثر زیادہ پائیدار ہوتا ہے:
کبھی ایک سچا عمل ہزاروں تقاریر سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔ عملی تبلیغ سب سے گہری تبلیغ ہے۔ - آخرت پر نظر رکھنے سے سکون ملتا ہے:
جو شخص اللہ کے لیے کام کرتا ہے، وہ لوگوں کی رائے اور نسبتوں کی پرواہ نہیں کرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ حقیقت اللہ کے پاس محفوظ ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

