دلچسپ اورپر کشش واقعہ – جلد 03 شمارہ 19

Inspirational Tales - Volume 03 Issue 19

ہوا اب بھی خندق کی گرد اپنے ساتھ لئے پھرتی ہے

کچھ ہی عرصہ پہلے، مؤمن سخت سردی میں شانہ بہ شانہ کھڑے تھے۔ ان کے سامنے دشمن کا ایک ایسا اتحاد تھا جو انہیں مٹا دینا چاہتا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جسے تاریخ نے جنگِ خندق کے نام سے یاد رکھا ہے—ایک ایسا وقت جب خوف سینوں پر  طاری تھا، مگر اللہ پر بھروسہ انہیں اس آزمائش سے گزار لے گیا۔(مولا علی علیہ السلام کی ایک بے مثال ضربت کے طفیل )

لیکن فتح ہمیشہ سکون نہیں لاتی۔

جب مدینہ کے لوگ، تھکے ہوئے مگر مطمئن، اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے، تو  ایک اورحکم نازل ہوا جس نے فضا کو بدل کے رکھ دیا۔ رسولِ خدا ﷺ نے اپنی زرہ  ابھی نہیں اتاری تھی ، وہ آرام کرنے کو ابھی نہیں بیٹھے تھے کہ خبر آئی: قبیلہ بنی قریظہ نے سب سے نازک لمحے میں—جب شہر تباہی کے دہانے پر تھا—اپنا عہد توڑ دیا ہے۔ اور پیکر اسلام پر کاری زخم لگانے کے لئے تیار ہوچکا ہے۔ اب اعتماد ٹوٹ چکا تھا، اور اب انصاف کا تقاضا تھا کہ ایک بار پھر حق کو قائم کیا جائے۔

کچھ صحابہ تھکے ہوئے تھے۔ ان کے جسم نیند کے طالب تھے اور دل سکون  متمنی تھے۔ مگر جب انہوں نے اپنے آقا  کی پکار سنی، تو کھڑے ہو گئے—اس لئے نہیں کہ یہ آسان کام تھا، بلکہ اس لئے کہ یہی درست تھا۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جن کے پاؤں چھالوں سے بھرے ہوئے تھے، اور آنکھیں مسلسل جاگنے سے جل رہی تھیں۔ اس کے باوجود وہ روانہ ہوگئے، کیونکہ ایمان آرام  کے وقت میں ثابت نہیں ہوتا، بلکہ سختیوں میں ظاہر ہوتا ہے۔

جب وہ قلعوں کے قریب پہنچے، تو صحرا پر خاموشی چھا گئی۔ نہ کوئی پرجوش تقاریر، نہ بلند نعرے—بس ایک پُرسکون اور مضبوط ارادہ۔ ہر قدم ذمہ داری کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھا، نہ کہ غصے کا۔ وہ انتقام کے لئے نہیں، بلکہ اللہ  اور اس کے رسول کی اطاعت اور حق سے وفاداری کے لئے آگے بڑھ رہے تھے۔

دن محاصرے میں گزر گئے۔ بھوک نے انہیں آزمایا۔ بے یقینی نے انہیں گھیر لیا۔ مگر جومؤمن تھے، وہ  ثابت قدم رہے۔ اور اسی خاموشی میں، تاریخ نے ایک سبق محفوظ کر لیا۔

فتح صرف دشمن کو شکست دینا نہیں ہوتی، بلکہ اپنے نفس پر قابو پانا ہوتی ہے۔ یہ وہ قوت ہے کہ انسان اس وقت بھی کھڑا رہے جب جسم ٹوٹنے لگے، اور اس وقت بھی  لبیک کہے، جب جی آرام چاہتا ہو۔ خندق نے ان کے خوف کو آزمایا تھا، اور اس لمحے نے ان کے نظم و ضبط کو—اور دونوں میں وہ نکھر گئے۔

پس جب بھی تم تھک جاؤ، جب تمہیں لگے کہ تم نے اپنی حد تک کوشش کر لی ہے، تو یہ یاد رکھو:
سب سے بڑی ترقی اکثر اسی لمحے شروع ہوتی ہے جب تم  یہ سمجھتے ہو کہ تم اپنی آخری حد تک پہنچ چکے ہو۔

ایک بار اور کوشش کرو۔
ایک بار اور کھڑے ہو نے ہمت جٹاؤ۔
ایک بار اور لبیک کہو۔

کیونکہ حق کا راستہ وہ لوگ طے نہیں کرپاتے جو آرام پر رک جاتے ہیں، بلکہ وہ لوگ طے کرتے ہیں، جو سخت ترین لمحوں میں بھی آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ اور عین اسی آخری قدم پر—تھکن سے آگے—اللہ تمہارے لیے ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن کا تم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔