دلچسپ اورپر کشش واقعہ – جلد 03 شمارہ 12
جب ایک وادی نے مؤمنوں کو آزمایا
حنین کی وادی کے اوپر سورج طلوع ہوا اور اس کی روشنی مکہ اور طائف کے درمیان پھیلی ہوئی نا ہموار پہاڑیوں پر بکھر گئی۔ مسلمانوں کا لشکر پورے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی؛ اس سے کہیں زیادہ جتنی اس سے پہلے کی جنگوں میں تھی۔ فتحِ مکہ کے بعد قریب بارہ ہزار مؤمن اب رسولِ خدا حضرت محمد ﷺ کے پرچم تلے جمع ہو چکے تھے۔
کچھ دلوں کے لئےیہ بڑی تعداد اطمینان کا باعث تھی۔ مگر بعض کے دلوں میں ایک خاموش خیال سرکنے لگا: اتنی بڑی تعداد کے ہوتے ہوئے شکست کیسے ممکن ہے؟
قبیلۂ ہوازن اور ثقیف تنگ وادی میں گھات لگائے بیٹھے تھے۔ وہ خاموشی کے ساتھ چٹانوں اور بلندیوں کے پیچھے چھپے ہوئے تھے اور اپنے تیر تیار کئے ہوئے تھے۔ جیسے ہی مسلمان سپیدۂ سحر میں وادی میں داخل ہوئے، اچانک کمین گاہ سے حملہ شروع ہو گیا۔
ہر طرف سے تیروں کی بارش ہونے لگی۔
افراتفری تیزی سے پھیل گئی۔ گھوڑے پیچھے مڑنے لگے، گرد و غبار فضا میں بھر گیا اور ایسے میں بہت سے جنگجو ؤں کے قدم اکھڑنے لگے۔ وہ وادی جو چند لمحے پہلے پُرسکون دکھائی دے رہی تھی، اب چیخوں اور خوف کی آوازوں سے گونج رہی تھی۔
لیکن اس طوفان کے درمیان حضرت محمد ﷺ ثابت قدم اور بے تزلزل کھڑے تھے۔ انہوں نے پیچھے ہٹنا قبول نہ کیا۔ آپ اپنی خچر پر سوار تھے اور جب دوسرے ابھی سنبھلنے کی کوشش کر رہے تھے، آپ دشمن کی طرف بڑھ رہے تھے۔ آپ کی آواز میدانِ جنگ کے شور کے اوپر بلند ہوئی: "میں تمہارا نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔ میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں!"
آپ کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب جن کی آواز نہایت بلند اور مضبوط تھی، پیچھے ہٹتے ہوئے مؤمنوں کو پکارنے لگے: "اے انصار کے ساتھیو! رسولِ خدا کی طرف واپس آؤ!"
یہ آواز پوری وادی میں گونج گئی، گویا سوئے ہوئے دلوں کو جگانے والی ایک پکار ہو۔ مؤمن ایک ایک کر کے واپس آنے لگے۔ انہیں وہ عہد یاد آ گیا جو انہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے باندھا تھا۔ انہیں وہ راتیں یاد آئیں جب وہ رسولِ خدا کے ساتھ کھڑے تھے، اس وقت جب ان کی تعداد کم اور دشمن بہت زیادہ تھے۔
شرمندگی ،شجاعت میں بدل گئی۔ خوف ،عزم میں تبدیل ہو گیا۔
صحابہ دوبارہ رسولِ خدا ﷺ کے گرد جمع ہو گئے۔ ان کے درمیان حضرت علی بن ابی طالبؑ بھی موجود تھے؛ وہ دلیر مجاہد جن کی تلوار سخت ترین لمحوں میں رسولِ خدا کا دفاع کر رہی تھی۔
آہستہ آہستہ جنگ کا رخ بدلنے لگا۔ مؤمن نئے ایمان کے ساتھ آگے بڑھے—اپنی تعداد پر نہیں بلکہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے۔ جو معرکہ ابتدا میں انتشار سے شروع ہوا تھا، وہ بالآخر فتح پر ختم ہوا۔
اس دن وادیٔ حنین نے ایک ایسا سبق دیا جو تاریخ میں ہمیشہ گونجتا رہا:
فتح ساتھیوں کی کثرت سے حاصل نہیں ہوتی۔ بلکہ فتح ان لوگوں کی ہوتی ہے جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔
جب دل اللہ کی طرف لوٹ آئیں تو خوف سے بھری ہوئی وادی بھی فتح کی وادی بن سکتی ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

