اداریہ – جلد 03 شمارہ 27
تاریخی واقعات سے عصرِ حاضر کی اخلاقی زندگی کے لئےملنے والے سبق
اس ہفتے (1 تا 7 جولائی 2026) کی مناسبتیں اسلامی اعتبار سے بھی بہت اہم ہیں۔ ان میں سے ہر ایک مناسبت، ایمان، اخلاق، قیادت اور موجودہ دور میں ذمہ داری کے احساس پر غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔:
17 محرم: اصحابِ فیل کی ہلاکت
یہ واقعہ خانۂ کعبہ کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ کی تدبیر کی یاد دلاتا ہے، جب ابرہہ کا لشکر اسے منہدم کرنے کے ارادے سے آیا تھا۔ قرآنِ کریم اس واقعے کو یوں بیان کرتا ہے:
وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ ، تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ ، فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ
"اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے، جو ان پر پکی ہوئی مٹی کے کنکر برسا رہے تھے، پھر انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی مانند کر دیا۔” (سورۂ فیل، آیات 3 تا 5)
یہ واقعہ اہلِ ایمان کو یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقدس مقامات اور الٰہی اقدار کی حفاظت فرماتا ہے، اور تکبر و سرکشی کے مقابلے میں حقیقی اقتدار صرف اسی کا ہے۔
آج کے لئے پیغام:
غرور اور استکبار پر قائم کوئی بھی طاقت آخرکار حقِ الٰہی کے سامنے قائم نہیں رہ سکتی۔
17 محرم: شیخ بہائی کی ولادت (۹۵۳ھ)
شیخ بہائی عالمِ اسلام کے عظیم ترین علماء، ریاضی دانوں، معماروں اور فقہاء میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے مختلف علوم میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی زندگی ایمان اور علم کے حسین امتزاج کی علامت ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ علمی ترقی دین کی خدمت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
آج کے لئے پیغام:
آج کے مسلمانوں کو دینی وابستگی کے ساتھ علمی، فکری اور تحقیقی ترقی کو بھی اختیار کرنا چاہئے۔
18 محرم: آیت اللہ علی صافی گلپایگانی کی رحلت (14۳۱ھ)
آیت اللہ علی صافی گلپایگانی شیعہ عالمِ دین اور مرجعِ تقلید تھے، جو اپنے علم، تقویٰ اور اسلامی معارف کی خدمت کے لئے مشہور تھے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ اسلامی قیادت علم، عاجزی، احساسِ ذمہ داری اور معاشرے کی خدمت پر قائم ہوتی ہے۔
آج کے لئے پیغام:
اسلام میں حقیقی قیادت علم، تقویٰ اور معاشرے کے تئیں ذمہ داری کے احساس پر استوار ہوتی ہے۔
18 محرم: علامہ طباطبائی کی رحلت (1402ھ)
علامہ محمد حسین طباطبائی، عصرِ حاضر کے عظیم فلسفی اور مفسر تھے۔ انہوں نے اپنی بابرکت زندگی کے بیس سے زائد سال عظیم تفسیر "المیزان” کی تصنیف میں صرف کئے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ چونکہ قرآنِ کریم خود کو یوں متعارف کراتا ہے:
هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ
"لوگوں کے لئے ہدایت، ہدایت کی روشن نشانیاں، اور حق و باطل میں فرق کرنے کا معیار۔”
(سورۂ بقرہ، آیت 185)
لہٰذا قرآن کی تفسیر خود قرآن کے ذریعے کرنا نہ صرف ممکن بلکہ ضروری ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے "تفسیرِ قرآن بہ قرآن” کو المیزان کا بنیادی طریقہ بنایا۔
تفسیر المیزان متعدد زبانوں میں شائع ہو چکی ہے اور اسلامی دنیا کے بہت سے علماء نے اسے قرآن کی ایک جامع اور مستند تفسیر قرار دیا ہے۔
آج کے لئے پیغام:
موجودہ دور کے فکری اور ثقافتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے قرآن کا گہرا فہم ناگزیر ہے۔
19 محرم: اسیرانِ کربلا کے قافلے کی شام کی جانب روانگی
سانحۂ کربلا کے بعد امام حسینؑ کے اہلِ بیت کے زندہ بچ جانے والے افراد کو اسیر بنا کر دمشق کی طرف لے جایا گیا۔
کربلا کے اسیران نے شدید مصائب اور تکالیف کے باوجود منزل بہ منزل تحریکِ حسینی کا ابدی پیغام عزت و وقار کے ساتھ آئندہ نسلوں تک پہنچایا؛ وہی پیغام جسے امام حسینؑ نے اپنے مشہور فرمان میں بیان فرمایا:
"إِنِّي لَا أَرَى الْمَوْتَ إِلَّا سَعَادَةً، وَلَا الْحَيَاةَ مَعَ الظَّالِمِينَ إِلَّا بَرَمًا”
"میں موت کو سعادت کے سوا کچھ نہیں سمجھتا، اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو رنج و ملال کے علاوہ کچھ نہیں جانتا۔”
آج کے لئے پیغام:
عدل و حق کی راہ میں ثابت قدم رہنے کے لئے بعض اوقات صبر، استقامت اور تکالیف برداشت کرنا ضروری ہوتا ہے۔
22 محرم: امام علیؑ کا صفین پہنچنا
اسلامی تاریخ میں معاویہ کو نفاق اور فریب کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اسی لئے وہ امام علیؑ کے ساتھ، جو رسول اکرمﷺ کے حقیقی اور خالص اسلام کے نمائندہ تھے، ہم آہنگ نہ ہو سکا۔ اس کا نفاق اور فریب میدانِ جنگ تک بھی پہنچا، یہاں تک کہ بعض بظاہر دیندار لوگ ایک حقیقی مومن اور ان لوگوں میں فرق نہ کر سکے جو ظاہری دینداری رکھتے تھے لیکن باطن میں نفاق چھپائے ہوئے تھے۔
آج کے لئے پیغام:
ہمیں لوگوں کے کردار، گفتار اور عملی نمونوں کو بغور دیکھ کر منافق اور حقیقی مومن میں تمیز کرنے کی صلاحیت سیکھنی چاہئے اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دینی چاہئے۔
22 محرم: شیخ طوسی کی رحلت (۴۶۰ ھ)
شیخ طوسی عالمِ اسلام میں فقہ اور حدیث کے عظیم بانیوں میں سے تھے۔ انہوں نے بنیادی علمی آثار مرتب کئے اور اجتہاد و استنباط کے منظم اصول وضع کئے، جنہوں نے اسلامی علمی ورثے پر دیرپا اثرات چھوڑے۔
آج کے لئے پیغام:
دینی معارف کی صحیح حفاظت اور ان کی آئندہ نسلوں تک منتقلی مضبوط علمی بنیادوں اور دقیق فکری منہج کی محتاج ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

