سدا بہار قرآنی کہانیاں – جلد 03 شمارہ 24
عامُ الفیل کا عظیم واقعہ-ابرہہ کے لشکر کی تباہی اور کعبہ کی الٰہی حفاظت
یمن کی صورتحال؛ دو عظیم سلطنتوں کی جنگ کا میدان
چھٹی صدی عیسوی میں دنیا دو بڑی طاقتوں کی رقابت سے متاثر تھی: مشرقی رومی سلطنت (بازنطینی سلطنت)، جو عیسائی تھی، اور ساسانی سلطنت (ایران)، جو زرتشتی تھی۔ یمن جزیرۂ عرب کے امیر ترین اور انتہائی اہم اسٹریٹجک علاقوں میں شمار ہوتا تھا، اور ابرہہ کا واقعہ دراصل اُس زمانے کی عالمی طاقتوں کی کشمکش کا ایک حصہ تھا۔
یمن سمندری اور زمینی تجارتی راستوں (خصوصاً مصالحہ جات اور شاہراہِ ریشم) تک رسائی کی وجہ سے دونوں سلطنتوں کے لیے نہایت اہم تھا۔ ابرہہ کے اقتدار سے پہلے یمن پر ایک یہودی بادشاہ، ذونواس، حکومت کرتا تھا۔ وہ وہاں کے عیسائیوں کا سخت مخالف تھا اور اس نے ان پر شدید ظلم و ستم کیا۔ قرآن کریم نے سورۂ بروج میں اس واقعے کو اصحابِ اُخدود کے نام سے یاد کیا ہے۔
عیسائیوں پر اس ظلم کے نتیجے میں بازنطینی سلطنت نے حبشہ (ایتھوپیا) کے بادشاہ نجاشی کو حکم دیا کہ وہ عیسائیوں کی حمایت اور اس اہم خطے پر قبضے کے لیے یمن پر حملہ کرے۔ ابرہہ اسی لشکر کے ایک کمانڈر کی حیثیت سے یمن پہنچا۔
ابرہہ کی بغاوت اور نجاشی کا ردّعمل
ابرهہ نہایت بلند حوصلہ اور اقتدار پسند شخص تھا۔ ذونواس کی شکست کے بعد اسے یمن کا نائب گورنر مقرر کیا گیا، لیکن وہ اس عہدے پر مطمئن نہ ہوا۔ اس نے فوجیوں کی حمایت حاصل کرکے اعلیٰ گورنر کو معزول کیا اور خود کو یمن کا مطلق حکمران قرار دے دیا۔
جب یہ خبر نجاشی تک پہنچی تو وہ سخت غضبناک ہوا۔ اس نے قسم کھائی کہ یمن پر چڑھائی کرے گا، ابرہہ کا سر منڈوائے گا اور یمن کی خاک کو اپنے ساتھ لے جائے گا۔
لیکن ابرہہ ایک زیرک سیاست دان تھا۔ اس نے نجاشی کے سامنے وفاداری کا اعلان کیا اور بھاری خراج ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ نجاشی نے اس کی سیاسی مہارت اور مالی فوائد کو دیکھتے ہوئے اسے معاف کر دیا اور یمن کا قانونی اور خودمختار حکمران تسلیم کر لیا۔
کلیسۂ قُلَّیس؛ دنیا کا نقشہ بدلنے کی کوشش
اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے بعد ابرہہ نے صنعاء میں ایک شاندار کلیسا تعمیر کروایا جسے قُلَّیس کہا جاتا تھا۔
مورخین لکھتے ہیں کہ اس کی تعمیر میں رنگین سنگِ مرمر، سونے کی آرائش اور حبشہ سے منگوائی گئی قیمتی لکڑیاں استعمال کی گئیں۔ ابرہہ کا مقصد یہ تھا کہ:
- نجاشی اور رومی شہنشاہ کو خوش کرے؛
- مکہ کی تجارتی اور مذہبی حیثیت کو کمزور کرے؛
- عربوں کی توجہ کعبہ سے ہٹا کر اپنے کلیسا کی طرف مبذول کرے۔
لیکن وہ ایک بنیادی حقیقت کو فراموش کر بیٹھا: عرب قبائل کے دلوں میں کعبہ کی گہری محبت اور تاریخی وابستگی۔
کعبہ صرف ایک عمارت نہیں تھا بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار اور عربوں کی عزت و شناخت کی علامت تھا۔
جب ابرہہ کی تمام ثقافتی اور اقتصادی کوششیں ناکام ہو گئیں تو اسے احساس ہوا کہ کعبہ اس کی سیاسی منصوبہ بندی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ چنانچہ اس نے فیصلہ کیا:
"میں کعبہ کو منہدم کر دوں گا۔"
مکہ کی طرف لشکر کشی؛ ایمان اور تکبر کا مقابلہ
ابرهہ نے ایک عظیم اور بے مثال لشکر تیار کیا۔
اس لشکر کی سب سے خوفناک چیز جنگی ہاتھی تھے، جنہیں عربوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
جب لشکر مکہ کے قریب پہنچا تو شہر میں خوف پھیل گیا۔ ابرہہ کے سپاہیوں نے راستے میں لوگوں کا مال لوٹا، جن میں حضرت عبدالمطلب کے دو سو اونٹ بھی شامل تھے۔
عبدالمطلب، جو مکہ کے سردار اور رسول اکرم ﷺ کے دادا تھے، نہایت وقار کے ساتھ اپنے اونٹ واپس لینے کے لیے ابرہہ کے خیمے میں گئے۔
ابرهہ ان کی شخصیت سے اتنا متاثر ہوا کہ تخت سے اتر کر ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔
لیکن جب عبدالمطلب نے صرف اپنے اونٹوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو ابرہہ نے حیرت سے کہا:
"میں تمہارے دین کے مرکز، کعبہ، کو گرانے آیا ہوں اور تم صرف اونٹوں کی بات کر رہے ہو؟”
عبدالمطلب نے تاریخ ساز جواب دیا:
«أَنَا رَبُّ الإبِلِ، وَلِلْبَيْتِ رَبٌّ يَحْمِيهِ»
"میں اپنے اونٹوں کا مالک ہوں، اور اس گھر (کعبہ) کا بھی ایک مالک ہے جو خود اس کی حفاظت کرے گا۔”
اس کے بعد عبدالمطلب نے اہلِ مکہ کو حکم دیا کہ اپنی جانوں کی حفاظت کے لیے پہاڑوں پر چلے جائیں اور اللہ کے فیصلے کا انتظار کریں۔
سجیل کا طوفان اور چبائے ہوئے بھوسے جیسا انجام
اگلی صبح ابرہہ کا لشکر حملے کے لیے تیار تھا۔
جب ہاتھیوں کو کعبہ کی طرف بڑھایا گیا تو حیرت انگیز طور پر وہ آگے نہ بڑھے۔ لیکن جب ان کا رخ یمن کی طرف موڑا جاتا تو فوراً دوڑنے لگتے۔
اسی دوران مکہ کا آسمان اچانک تاریک ہو گیا۔
چھوٹے چھوٹے پرندوں کے بے شمار غول نمودار ہوئے جنہیں ابابیل کہا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سورۂ فیل میں فرماتا ہے:
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ
"کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟”
أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ
"کیا اس نے ان کی تدبیر کو ناکام نہیں بنا دیا؟”
وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ
"اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیج دیے۔”
یہ پرندے اپنے پنجوں اور چونچوں میں سِجِّیل کی چھوٹی چھوٹی کنکریاں اٹھائے ہوئے تھے۔
تَرْمِيهِمْ بِحِجَارَةٍ مِنْ سِجِّيلٍ
"وہ ان پر پکی ہوئی مٹی کے کنکر برسا رہے تھے۔”
یہ کنکریاں معجزانہ انداز میں لشکر پر گریں اور سپاہیوں، گھوڑوں، ہاتھیوں اور ان کے سازوسامان کو تباہ کر دیا۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ
"پھر انہیں ایسا کر دیا جیسے کھایا ہوا بھوسہ۔”
چند لمحوں میں ابرہہ کا عظیم لشکر تباہ ہو گیا۔
خود ابرہہ شدید زخمی حالت میں یمن واپس پہنچا اور وہیں ذلت آمیز انجام سے دوچار ہوا۔
کعبہ مکمل طور پر محفوظ رہا اور وہ سال تاریخ میں عامُ الفیل کے نام سے مشہور ہو گیا؛ یہی وہ سال تھا جس میں رسول اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔
ابرہہ کے بعد یمن کا انجام
ابرهہ کے لشکر کی تباہی کے بعد اس کے خاندان کی حکومت کمزور پڑ گئی۔
کچھ عرصے بعد یمن کے لوگوں نے، جو حبشی حکمرانوں کے ظلم سے تنگ آ چکے تھے، ساسانی ایران سے مدد طلب کی۔
ایران کے بادشاہ انوشیروان نے وہرز کی قیادت میں ایک لشکر روانہ کیا۔
اس لشکر نے حبشی حکمرانوں کو شکست دی اور یمن اسلام کے ظہور تک ایرانی اثر و نفوذ کے تحت رہا۔
اس واقعے کے اہم اسباق:
1۔مادی طاقت کی بے بسی
یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ انسان کو اپنی دولت، اقتدار اور ظاہری طاقت پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو کمزور ترین مخلوق کے ذریعے طاقتور ترین ظالم کو ہلاک کر سکتا ہے۔
2۔حکمت کے ساتھ توکل
حضرت عبدالمطلب کا طرزِ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان اپنی ذمہ داری پوری کرے، لیکن جو امور اس کی قدرت سے باہر ہوں انہیں اللہ کے سپرد کر دے اور بے جا پریشانی میں مبتلا نہ ہو۔
3۔دلوں کے تعلق کی طاقت
کلیسۂ قُلَّیس کی شاندار تعمیر اس حقیقت کو نہیں بدل سکی کہ لوگوں کے دل کعبہ سے وابستہ تھے۔
ظاہری چمک دمک کبھی بھی سچائی، اصالت اور روحانی وابستگی کا متبادل نہیں بن سکتی۔
4۔ظلم اور سازش کا انجام
ظلم، تکبر اور حق کے خلاف سازشوں کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے۔
جو دوسروں کے لیے گڑھا کھودتا ہے، اکثر سب سے پہلے خود اسی میں گرتا ہے۔
5۔ تاریکی میں امیدکی کرن
زندگی کے مشکل ترین حالات میں بھی مؤمن کو امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
اللہ کی قدرت انسانی حسابات اور ظاہری اسباب سے کہیں بلند ہے۔
جب تمام راستے بند نظر آئیں، تب بھی اللہ کے لیے راستہ کھولنا مشکل نہیں۔
حوالہ جات
- قرآن کریم، سورۂ فیل (آیات 1 تا 5)
- قرآن کریم، سورۂ بروج (واقعۂ اصحاب الاخدود)
- تفسیر نمونہ، آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
- تفسیر المیزان، علامہ سید محمد حسین طباطبائی
- تاریخ الطبری، محمد بن جریر طبری
- السیرۃ النبویۃ (ابن ہشام)
- فروغِ ابدیت، آیت اللہ جعفر سبحانی
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

