فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 16

Fatwa Panel of the Week - Volume 03 Issue 16
Last Updated: اپریل 19, 2026By Categories: فتویٰ پینل0 Comments on فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 160 min readViews: 3

نمازِ مسافر (ساتواں حصہ)

 مراجعِ عظامِ تقلید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی اور آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (دام عزّہم العالی) کے فتوؤں کے مطابق۔

ضروری وضاحت: یہاں پر لکھے ہوئے فتوے،  ان تین معزز مراجع کے درمیان مشترک فتوے ہیں۔ اور جس مسئلے میں کسی مرجع کا فتویٰ باقی مراجع سے مختلف ہو، تو  اسے اس مرجع کے نام کے ساتھ  الگ لکھا گیا ہے۔

نوٹ: اس پینل میں مسائل کا ذکر (بلا اختلاف یا حوالہ کےساتھ )
جومسائل بغیر کسی مخالف رائے یا خاص حوالہ کے ذکر کئے گئے ہیں، وہ تینوں بزرگ مراجع کے مشترک فتاوی ہیں۔ اور جہاں کسی ایک مرجع کا فتویٰ دوسرے دو سے مختلف ہو، وہاں اسی نمبر کے تحت  اس  مرجع کےنام کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔

ترک وطن کا مفہوم اور اس کا تحقق

ترکِ وطن،  ایک عرفی امر ہے:

ترک وطن ایک عرفی معاملہ ہے؛ یعنی عام لوگوں کی نظر میں اس وقت تحقق پاتا ہے جب کوئی شخص اپنے وطن کو چھوڑ دے اور یہ ارادہ رکھے کہ دوبارہ وہاں رہنے کے لئے واپس نہیں جائے گا۔

ترکِ وطن کے لئے نیت اور ارادے کا ہوناضروری ہے۔ لہٰذا:

  • اگر کوئی شخص بغیر  ترکِ وطن کا ارادہ کئے چند سال (مثلاً 4 یا 5 سال) اپنے وطن سے دور رہے، تو وہ جگہ اب بھی اس کا وطن شمار ہوگی۔
  • لیکن اگر یہ دوری بہت طویل ہو جائے (مثلاً 40 یا 50 سال) اور اس مدت میں واپسی کا کوئی خیال بھی نہ ہو، تو بعید نہیں کہ یہ طویل  غیر حاضری ترک  وطن کے حکم میں شمار ہو، اور وہاں بغیر دس دن قیام کی نیت کے نماز قصر ہوگی۔

3۔ یقینی علم بھی ترکِ وطن کےحکم میں آ سکتا ہے:

لہٰذا  اگر کسی نے صراحتاً ترکِ وطن کا قصد نہ کیا ہو، لیکن اسے یقین یا اطمینان ہو کہ وہ کبھی اپنے وطن واپس نہیں جائے گا، تو یہ اطمینان بھی ترکِ وطن کے حکم میں آ سکتا ہے، اور وہاں اس کی نماز قصر ہوگی۔

آیت اللہ سیستانی : ترکِ وطن کا معیار یہ ہے کہ انسان کو اطمینان ہو کہ وہ آئندہ اس جگہ رہنے کے لیے واپس نہیں آئے گا۔

لہٰذا اگر کوئی شخص ملازمت، شادی یا تعلیم کی وجہ سے وطن چھوڑ کر کسی دوسرے شہر کو اپنا وطن بنا لے، لیکن اسے قابلِ توجہ احتمال ہو کہ وہ مستقبل میں واپس آئے گا، تو ترکِ وطن محقق نہیں ہوگا، اور وہاں اس کی نماز مکمل ہوگی۔

 البتہ اگر کوئی شخص کسی جگہ کو محدود مدت (مثلاً دو یا تین سال) کے لیے کام، تعلیم یا اس جیسے مقاصد کے لیے اپنا عارضی وطن بنائے، تو اس سے ترک وطن کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ وہاں سے نکل جائے اور یہ ارادہ رکھے کہ آئندہ طویل عرصے تک اسے اپنی سکونت کی جگہ نہیں بنائے گا؛ اس طرح کہ اگر وہ دوبارہ وہاں رہنے کے لیے جائے تو عرفاً اسے ایک نیا وطن سمجھا جائے، نہ کہ سابقہ وطن کا تسلسل۔

جو شخص اپنے وطن سے کسی دوسرے شہر چلا جائے اور اسے اپنا نیا وطن بنا لے، اور اس کا ارادہ ہو کہ ہر سال صرف ایک یا دو ماہ کے لیے اپنے سابقہ وطن جاتا رہے، تو اس صورت میںترک وطن کا حکم محقق ہو چکا ہے اور اس کے سابق وطن میں اس کی نماز قصر ہوگی۔
لیکن اگر وہ مسلسل ہر سال تین ماہ یا اس سے زیادہ اپنے سابق وطن میں قیام کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تو ترک وطن کا حکم محقق نہیں ہوا اور وہاں اس کی نماز مکمل ہوگی۔

اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے اصل وطن کو چھوڑ کر کسی دوسرے شہر میں آباد ہو جائے، لیکن اس کا ارادہ ہو کہ مستقبل میں، چاہے کافی عرصے بعد (مثلاً 20 یا 30 سال بعد یا عمر کے آخری حصے میں)، دوبارہ اپنے اصل وطن لوٹ کر وہاں باقی زندگی گزارے گا، تو ایسی صورت میںترک وطن کا حکم محقق نہیں ہوا اور اس کے اصل وطن میں اس کی نماز مکمل ہوگی۔

آیت اللہ مکارم شیرازی : اگر کسی کو وطن واپس جانے کا ارادہ ہو لیکن عملی طور پر طویل عرصہ (مثلاً 5 سال) گزر جائے اور وہ واپس نہ جائے، تو عملی طور پر اس نے ترک وطن کردیا ہے۔ لہٰذا  وہاں نماز و روزہ قصر ہوں گے، مگر یہ کہ وہ ہر سال 3 یا 4 ماہ  وہاں جاکرقیام کرے۔

ترک وطن کے فقہی آثار

اگر کسی نے اپنے وطن (اصلی یا اختیاری)  کو ترک کر گیا ہو تو:

  • وہاں واپس آنے پر اس کی نماز قصر ہوگی، چاہے اس کی ملکیت وہاں موجود  ہی کیوں نہ ہو۔
  • اس جگہ سے گزرنا سفر کو منقطع نہیں کرتا۔
  • صرف اس صورت میں نماز مکمل ہوگی جب وہ وہاں 10 دن قیام کی نیت کرے۔

خاص مسائل اور عملی صورتیں

1۔  اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے ساتھ اپنے اصل وطن کے علاوہ کسی اور شہر میں رہ رہی ہو اور اس نے اپنے وطن  کو ترک نہ کیا ہو:

  • اگر اسے اب بھی  اپنے وطن  لوٹ جانے کا احتمال ہو (مثلاً طلاق یا شوہر کی وفات کی صورت میں)، تو اس کا وطن باقی رہے اور وہاں اس کی نماز مکمل ہوگی۔
  • لیکن اگر وہ یقین رکھتی ہو کہ کبھی واپس نہیں جائے گی، تو ایسی صورت میں ترک وطن کا حکم محقق ہو چکا ہے  لہذا اس کی نماز وہاں پر قصر ہوگی۔

آیت اللہ مکارم شیرازی : اگر عورت شوہر کے ساتھ رہنے کا قصد رکھتی ہو اور شوہر کا ارادہ نہ ہو کہ بیوی کے وطن میں مستقل سکونت اختیار کرے، تو بیوی کی نماز اس کے سابق وطن میں قصر ہوگی، مگر یہ کہ وہ شادی کے بعد ہر سال 3 یا 4 ماہ  وہاں  رہنے کے لئے جاتی رہے۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔