تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 13

Religious Outreach Experiences - Volume 03 Issue 13
Last Updated: اپریل 6, 2026By Categories: تبلیغی تجربے0 Comments on تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 130 min readViews: 7

 ماہ رمضان کی ایک شام  اور ایک نہ بھولنے والا سبق

مقدمہ

رمضان المبارک کے ایک دن کی پُرسکون شام تھی؛ وہ لمحے جب سورج کی روشنی آہستہ آہستہ مدھم ہو جاتی ہے اور دل افطار ی کے لئے بے چین ہو جاتے ہیں۔ ایک تبلیغی سفر کے دوران، میں ایک مسلمان ملک میں مہمان تھا؛ ایسی جگہ جہاں  ماہ رمضان کی فضا گلیوں اور مساجد میں موجزن تھی اور  مذہبی مجالس  سے راتوں کو خاص رونق  حاصل تھی۔

انہی دنوں مجھے علومِ قرآنی پر ایک علمی نشست میں خطاب  کی دعوت دی گئی۔ پروگرام ایک دوسرے شہر میں تھا۔ ہم عصر کے وقت روانہ ہوئے تاکہ وقت پر پہنچ سکیں اور روزہ بھی برقرار رہے۔ افطار کے قریب ہم منزل پر پہنچے، نماز ادا کی اور سادہ افطاری سے روزہ کھولا؛ مگر ٹھہرنے کا وقت نہ تھا۔ خبر ملی کہ پروگرام شروع ہو چکا ہے اور فوراً ہال  میں پہنچنا ہے۔

جب میں مجلس میں داخل ہوا تو ایک باوقار منظر سامنے تھا۔ پہلی صف میں تقریباً پندرہ جید علماء بیٹھے تھے؛ شیعہ اور اہلِ سنت، ہر ایک اپنے علمی وقار کے ساتھ۔ ان کے پیچھے ہزار سے زائد افراد خاموشی اور احترام کے ساتھ مجلس میں شریک تھے۔ ہم چند طلبہ جو قم سے آئے تھے، ان سب میں سب سے کم عمر تھے۔

میں ابھی فضا سے پوری طرح مانوس بھی نہ ہوا تھا کہ اچانک اعلان ہوا:
"پہلے مقرر آپ ہیں؛ اور آپ کے پاس خطاب کے لئے صرف پندرہ منٹ ہیں۔"

دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ ہلکی سی گھبراہٹ کے ساتھ میں منبر پر گیا اور "بسم اللہ الرحمن الرحیم” سے آغاز کیا۔ جب میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تاکہ اپنا تیار شدہ مضمون نکالوں… تو وہ وہاں نہ تھا۔

ایک لمحے کے لیے سب کچھ رُک سا گیا۔ م مضمون گاڑی میں رہ گیا تھا۔

ایک بھاری بوجھ محسوس ہوا۔ چند لمحوں کے لیے خاموشی اور گفتگو کے درمیان تردّد رہا۔ مگر مجلس منتظر تھی اور وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ میں نے خود سے کہا:
"جو کچھ ذہن میں ہے، وہی بیان کرتا ہوں؛ اگر کچھ کمی رہ گئی تو معذرت کر لوں گا۔”

میں نے آغاز کیا… لیکن ابتدا میں الفاظ منتشر تھے۔ ذہن پریشان تھا اور اضطراب توجہ نہیں بنانے دے رہا تھا۔
اچانک ایک خیال آیا:
"کیوں نہ اسی موضوع پر بات کروں جسے میں واقعی سمجھتا ہوں؟"

اسی وقت میں نے فیصلہ کیا کہ "قرآنی معارف کے نظام میں علومِ قرآن کا مقام" پر بات کروں؛ ایسا موضوع جس سے میں مانوس تھا اور جس کے لئے کسی  تحریر کی ضرورت نہ تھی۔

اللہ پر توکل کرتے ہوئے میں نے گفتگو جاری رکھی۔

چند لمحوں میں محسوس ہوا کہ گفتگو کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ گویا ذہن کا دروازہ کھل گیا ہو؛ باتیں ترتیب سے آنے لگیں، جملے رواں ہو گئے، حتیٰ کہ وہی مضمون جو گاڑی میں رہ گیا تھا، ذہن میں منظم انداز میں دہرانے لگا۔

اضطراب آہستہ آہستہ اطمینان میں بدل گیا۔

جب میں نے خود کو سنبھالا، تو دیکھا کہ نہ صرف پندرہ منٹ بلکہ پچیس منٹ گفتگو کر چکا تھا، اور بات بھی مکمل اور مناسب انداز میں ہو گئی تھی۔

وہ رمضان کی شام میرے لئے صرف ایک تقریر نہیں تھی… بلکہ ایک ہمیشہ  یاد رکھنے والا سبق تھا۔

ایک ایسا سبق جو آج بھی میرے ساتھ رہتا ہے:
جو مضمون آپ واقعی سمجھ  کر اپنے ذہن میں محفوظ کرلیتے ہیں، وہ کبھی گم نہیں ہوتا؛ اور جو صرف کاغذ پر ہوتا ہے، وہ ایک کاغذ کے چھوٹ جانے سے کھو جاتاہے۔

اس تبلیغی تجربے سے تین اہم اسباق

1۔ گہری سمجھ، نوٹس کا حقیقی متبادل ہے

جو بات دل سے سمجھی جائے، وہ بغیر لکھے بھی زبان پر آ جاتی ہے۔

2۔ توکل، اضطراب کو  اطمئنان میں بدل دیتا ہے

مشکل لمحات میں اللہ پر بھروسہ کرنے سے   بند راستے  بھی کھل جا تے ہیں۔

3۔ حقیقی تیاری، تحریر اور وسائل سے آگے ہے

آمادگی کا مطلب اندرونی اور ذہنی تسلط ہے، نہ کہ صرف متن کی تیار ی۔
کامیاب مبلغ وہ ہے جو "حقیقتِ مطلب" کو اپنے اندر جذب کر چکا ہو۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔