اداریہ – جلد 03 شمارہ 11
ایمان، قیادت اور اخلاقی شجاعت: اسلام کی تاریخ کے ایک فیصلہ کن ہفتے سے حاصل ہونے والے اسباق
مقدمہ
آنے والا ہفتہ، جو ماہِ مبارک رمضان میں واقع ہے، روحانی، تاریخی اور فکری واقعات کے ایک منفرد مجموعے کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ عظیم رہنماؤں کی شہادتوں اور انبیائے الٰہی کی یادگاروں سے لے کر اسلاموفوبیا جیسے عالمی چیلنجز تک، یہ مواقع ائمہ جماعت، اساتذہ، علماء اور مسلم ثقافتی مراکز کے منتظمین کے لیے قیمتی مواقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنی کمیونٹیز کی رہنمائی کریں۔ ان واقعات پر غور و فکر کے ذریعے تاریخ کو اخلاقی اور عملی بصیرتوں کے ایک ایسے خزانے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جو آج کے مسلمانوں کی زندگی کے لیے رہنمائی فراہم کرے۔
21 رمضان: حضرت موسیٰؑ اور حضرت یوشع بن نونؑ کا یوم وصال:
بعض اسلامی تاریخی روایات کے مطابق، ۲۱ رمضان کو حضرت موسیٰ علیہ السلام، جو اللہ کے عظیم ترین انبیاء میں سے ہیں، اور ان کے جانشین حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے وصال سے منسوب کیا جاتا ہے۔ حضرت موسیٰؑ عدل کے لیے جدوجہد، قیادت میں صبر، اور ظلم و ستم کے مقابلے میں اللہ پر مضبوط توکل کی علامت ہیں۔ قرآن کریم بارہا طغیان کے مقابلے میں ان کی ثابت قدمی کا ذکر کرتا ہے:
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
"اور بے شک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور ایک واضح دلیل کے ساتھ بھیجا۔”
(سورۂ ہود،آیت 96)
آج کا پیغام: اخلاقی قیادت صبر، شجاعت اور ہدایتِ الٰہی پر اعتماد کا تقاضا کرتی ہے، چاہے وہ طاقتور ناانصافیوں کے مقابلے میں ہی کیوں نہ ہو۔
21 رمضان: حضرت عیسیٰ بن مریمؑ کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا:
اسلامی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ ان کے دشمنوں نے قتل کیا اور نہ صلیب پر چڑھایا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ قرآن کریم فرماتا ہے:
وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ … بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
"اور ان کے اس قول کے سبب کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابنِ مریم، اللہ کے رسول کو قتل کر دیا ہے؛ حالانکہ نہ انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ صلیب دی، بلکہ معاملہ ان پر مشتبہ کر دیا گیا… بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا، اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔”
(سورۂ نساء، ۱۵۷–۱۵۸)
یہ واقعہ انبیائے کرام کی الٰہی حفاظت اور رسالت کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے دور میں جب دنیا کبھی کبھار مذہبی غلط فہمیوں اور بین المذاہب کشیدگیوں کا سامنا کرتی ہے، حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں اسلام کا نقطۂ نظر اسلام اور عیسائیت کے درمیان مشترک روحانی ورثے کی یاد دلاتا ہے۔
آج کا پیغام: تمام انبیاء کا احترام اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ مخلصانہ مکالمہ امن اور باہمی فہم کو فروغ دے سکتا ہے۔
21 رمضان: امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ کی شہادت (۴۰ ہجری):
۲۱ رمضان ۴۰ ہجری کو امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام، جو رسول اکرم ﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے، مسجد کوفہ میں نماز کے دوران ضربت لگنے کے بعد شہید ہو گئے۔ اس لمحے انہوں نے گہرے ایمان اور کامل یقین کے ساتھ فرمایا:
فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ
"ربِّ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔”
امام علیؑ عدل، انکساری، شجاعت اور اخلاقی قیادت کی ابدی علامت ہیں۔ ان کی زندگی اور اقوال آج بھی ان افراد اور معاشروں کے لیے مشعلِ راہ ہیں جو عدل، صداقت اور مہربانی پر مبنی معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔
آج کا پیغام: ایک مومن کے لیے شہادت (برخلاف خداناباور نظریات کے) بدبختی اور تاریکی نہیں بلکہ کامیابی اور ابدی زندگی کا آغاز ہے۔
21 رمضان: امام حسن مجتبیؑ کے ہاتھوں بیعت (۴۰ ہجری):
امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد مسلمانوں نے ان کے فرزند امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی۔ امام حسنؑ کی قیادت حکمت، بردباری اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کو محفوظ رکھنے کی کوششوں کے لیے معروف ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا:
إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِين
"یہ میرا بیٹا سردار ہے، اور ممکن ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرا دے۔”
(الارشاد، ج ۲، ص ۷)
آج کا پیغام:
کبھی کبھی حقیقی قیادت اس میں ظاہر ہوتی ہے کہ انسان نزاع اور تصادم کے بجائے صلح اور اتحاد کو ترجیح دے۔
22 رمضان: شبِ قدر کے ممکنہ راتوں میں سے ایک:
رمضان کے آخری عشرے میں چند راتیں شبِ قدر کے احتمال کے طور پر جانی جاتی ہیں؛ وہ رات جس میں قرآن کریم نازل ہوا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ
"شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔”
(سورۂ قدر، ۳)
آج کا پیغام: ایک رات کی خالص عبادت اور سچی توبہ انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل سکتی ہے۔
23 رمضان: امام موسیٰ صدر کی ولادت (1928ء):
امام موسیٰ صدر 1928ء میں پیدا ہوئے اور بعد میں لبنان میں ایک ممتاز عالم دین اور سماجی رہنما کے طور پر پہچانے گئے۔ انہوں نے سماجی انصاف کے قیام، بین المذاہب مکالمے کے فروغ اور محروم لوگوں کے وقار کے دفاع کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔
آج کا پیغام: دینی قیادت کو روحانیت کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ معاشرتی ذمہ داریوں میں بھی فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
25 رمضان: امام موسیٰ صدر کا لاپتہ ہونا (1978ء):
۱۹۷۸ء میں امام موسیٰ صدر لیبیا کے سفر کے دوران پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے اور آج تک ان کا انجام معلوم نہیں ہو سکا۔ یہ واقعہ معاصر مسلم تاریخ کے اہم حل طلب واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ ان کی فکری اور سماجی میراث آج بھی انصاف اور پرامن بقائے باہمی کی تحریکوں کے لیے الہام کا ذریعہ ہے۔
آج کا پیغام: انصاف اور حق کے لیے جدوجہد جاری رہنی چاہیے، چاہے مطلوبہ نتائج فوری طور پر ظاہر نہ ہوں۔
27 رمضان: علامہ محمد باقر مجلسی کا یوم وصال (۱۱۱۰ ہجری):
علامہ محمد باقر مجلسی، شیعہ عالمِ دین اور عظیم حدیثی مجموعہ بحارالانوار کے مرتب، ۱۱۱۰ ہجری قمری میں وفات پا گئے۔ ان کی کاوشوں نے ہزاروں اسلامی روایات کو محفوظ کر کے آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔
قرآن کریم علم کی قدر و منزلت کے بارے میں فرماتا ہے:
هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
"کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟”
(سورۂ زمر، ۹)
آج کا پیغام: اصیل دینی علم کی حفاظت اور اس کی تعلیم مسلمانوں کے فکری اور ثقافتی مستقبل کے لیے نہایت ضروری ہے۔
15 مارچ: اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن:
اقوامِ متحدہ نے ۱۵ مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے طور پر مقرر کیا ہے تاکہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی تعصب اور امتیازی رویوں کی طرف توجہ دلائی جا سکے۔
بہت سے معاشروں میں مسلمان غلط فہمیوں، دقیانوسی تصورات اور امتیازی سلوک کا سامنا کرتے ہیں۔ اسلام ایسے چیلنجز کے مقابلے میں عزت، صبر اور عدل کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ
"برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو سب سے بہتر ہو۔”
(سورۂ فصلت، ۳۴)
آج کا پیغام: دشمنی کا جواب حکمت، وقار اور معاشرے کے ساتھ مثبت تعامل کے ذریعے دیا جائے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

