اداریہ – جلد 03 شمارہ 10
رمضان؛ رحمت اور ذمہ داری کے درمیان: ایک انقلاب آفرین ہفتے سے کچھ سبق
مقدمہ
ماہِ مبارک رمضان کے آئندہ ایام (4 تا 10 مارچ 2026) ولادت، شجاعت، قربانی، نزولِ وحی اور فتح جیسے اہم واقعات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ ائمۂ جماعت، اساتذہ اور مسلم ثقافتی مراکز کے منتظمین کے لیے یہ ہفتہ ایک قیمتی موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے مخاطبین کو اسلام کی اخلاقی بنیادوں سے دوبارہ جوڑیں اور اسلام کی نورانی تاریخ کو عصرِ حاضر کے لیے عملی اخلاقی رہنمائی میں تبدیل کریں۔
15 ماہ رمضان: ولادتِ امام حسن مجتبیٰؑ علیہ السلام (3 ہجری):
15 رمضان سن 3 ہجری کو امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام، نواسۂ رسول اکرم ﷺ، مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپؑ اسلامی تاریخ میں صبر، صلح پسندی اور اخلاقی قیادت کی علامت ہیں۔
آج جبکہ عالمِ اسلام داخلی تناؤ اور اختلافات سے دوچار ہے، امام حسنؑ کی اصولی صلح ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اتحاد اور انسانی جانوں کا تحفظ اسلامی مقاصد میں اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔
آج کا پیغام: حقیقی قیادت صلح کو ترجیح دیتی ہے، مگر اخلاقی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتی۔
15رمضان: مسلم بن عقیل کا کوفہ کی جانب روانہ ہونا (60 ہجری):
اسی دن سن 60 ہجری میں مسلم بن عقیلؑ، امام حسین علیہ السلام کے نمائندے کی حیثیت سے کوفہ روانہ ہوئے اور ظلم کے مقابلے کے لیے عوام کی دعوت قبول کی۔ ان کا مشن سیاسی ذمہ داری، شجاعت اور اخلاقی بحران کے وقت جواب دہی کی علامت ہے۔
اسلام ان لوگوں کی تکریم کرتا ہے جو سخت حالات میں بھی عدل کے لیے کھڑے ہوتے ہیں:
"كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ”
“عدل کے لیے قیام کرو اور اللہ کے لیے گواہی دو۔” (النساء، 135)
آج کا پیغام: اخلاقی ذمہ داری شجاعت مانگتی ہے، خصوصاً جب نتیجہ واضح نہ ہو۔
17 رمضان: غزوۂ بدر (2 ہجری):
غزوۂ بدر مسلمانوں اور قریش کے درمیان پہلی بڑی جنگ تھی۔ تعداد میں کم ہونے کے باوجود مسلمان ایمان، نظم و ضبط اور اتحاد کی بدولت اللہ کی مدد سے کامیاب ہوئے۔ بدر نے ثابت کیا کہ روحانی طاقت اور اخلاقی شفافیت مادی برتری سے زیادہ اہم ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ”
“یقیناً اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جبکہ تم کمزور تھے۔” (آل عمران، 123)
آج جب مسلمان بعض اوقات سیاسی یا ثقافتی حاشیہ نشینی محسوس کرتے ہیں، بدر یاد دلاتا ہے کہ عزت اندرونی ایمان اور اجتماعی یکجہتی سے شروع ہوتی ہے۔
آج کا پیغام:ایمان سے پیدا ہونے والا اتحاد کمزوری کو طاقت میں بدل دیتا ہے۔
18 رمضان: شبِ قدر کی ممکنہ راتوں میں سے ایک رات:
رمضان کے آخری عشرے میں چند راتیں شبِ قدر کے احتمال کے طور پر پہچانی جاتی ہیں؛ وہ رات جس میں قرآن نازل ہوا اور جس میں بندوں کی تقدیریں مقرر کی جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ"
“شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔” (القدر، 3)
پراکندگی اور غفلت کے اس دور میں یہ راتیں توجہ، توبہ اور روحانی تجدید کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
آج کا پیغام: بڑی تبدیلی ایک سچے رجوعِ الیٰ اللہ سے شروع ہوتی ہے۔
19 رمضان: ضربت اور شہادتِ امیرالمؤمنین علیؑ علیہ السلام (40 ہجری):
سن 40 ہجری کی اسی رات امام امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کو کوفہ کی مسجد میں حالتِ عبادت میں ضربت لگی اور بعد میں آپؑ شہید ہوئے۔ آپؑ عدالت، تواضع، بندگی اور خیر خواہی کا کامل نمونہ تھے۔
آپؑ نے اپنے گورنر مالک اشتر کو فرمایا:
"النَّاسُ صِنْفَانِ: إِمَّا أَخٌ لَكَ فِي الدِّينِ أَوْ نَظِيرٌ لَكَ فِي الْخَلْقِ”
“لوگ دو قسم کے ہیں: یا دین میں تمہارے بھائی ہیں یا خلقت میں تمہارے ہم مانند۔”
آج جب ہم سماجی تقسیم اور ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں، یہ قول مسلم قیادت کو اخلاقی حکمرانی اور ہمہ گیر رحمت کی دعوت دیتا ہے۔
آج کا پیغام:عدل اور رحمت ہر مقامِ اقتدار کی رہنما ہونی چاہیے۔
20 رمضان: فتحِ مکہ (8 ہجری):
سن 8 ہجری میں رسولِ اکرم ﷺ برسوں کی اذیت اور دشمنی کے بعد مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے، مگر انتقام کے بجائے عام معافی کا اعلان فرمایا۔ یہ فتح اقتدار کے عروج پر عفو و درگزر کی مثال تھی۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ"
“جاؤ، تم سب آزاد ہو۔”
عصرِ حاضر کے تنازعات میں یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ اسلام میں طاقت کو رحمت کے ذریعے قابو میں رکھا جاتا ہے۔
آج کا پیغام: فتح اس وقت مکمل ہوتی ہے جب اس کے ساتھ معافی ہو۔
20 رمضان: شبِ قدر کی ایک اور ممکنہ رات:
اکیسویں رمضان بھی شبِ قدر کی محتمل راتوں میں سے ہے جو عبادت اور خود سازی کے لیے ایک اور موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ راتیں قیادت اور معاشروں کو یاد دلاتی ہیں کہ روحانی اقتدار، سماجی اصلاح کی بنیاد ہے۔
آج کا پیغام: دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنے رب سے اپنا عہد تازہ کریں۔
اختتامی کلمات
یہ بابرکت ہفتہ رمضان میں ولادت و شہادت، جہاد و صلح، جنگ و رحمت، نزولِ وحی اور توبہ کو ایک ساتھ جمع کرتا ہے۔ ائمۂ جماعت، اساتذہ اور ثقافتی رہنماؤں کے لیے یہ محض تاریخی یادگاریں نہیں بلکہ زندہ اخلاقی نمونے ہیں۔
اللہ کرے کہ ہم رمضان کو صرف عبادات کے مجموعے کے طور پر نہیں بلکہ اپنی فردی اور اجتماعی زندگی میں اخلاقی تبدیلی کے ایک موقع کے طور پر زندہ رکھیں، ان شاء اللہ۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

