فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 14
مراجعِ عظامِ تقلید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی اور آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (دام عزّہم العالی) کے فتوؤں کے مطابق.
ضروری وضاحت: یہاں پر لکھے ہوئے فتوے، ان تین معزز مراجع کے درمیان مشترک فتوے ہیں۔ اور جس مسئلے میں کسی مرجع کا فتویٰ باقی مراجع سے مختلف ہو، تو اسے اس مرجع کے نام کے ساتھ الگ لکھا گیا ہے۔
نماز ِمسافر (حصہ پانچ)
وطن : سفر کے ختم کرنے والے امورِ میں سے ایک
- وہ امور جو سفر کے ختم ہوجائے کا سبب بنتے ہیں ، ان میں سے ایک، راستے میں وطن کا پڑنا ہے . اور وطن دو طرح کا ہوتا ہے : اصلی وطن اور اختیار کردہ وطن .
اصلی وطن
- اصلی وطن ، وہ جگہ ہے جہاں انسان اپنی ابتدائی زندگی (بچپن اور نوجوانی) کا بڑا حصہ گزار کر پروان چڑھا ہو.
آیت اللہ سیستانی :"وطنِ اصلی” سے مراد انسان کا بنیادی رہائشی مقام ہے، جو عموماً وہ جگہ ہوتی ہے جہاں اس کے والدین رہتے ہیں اور جہاں وہ پیدا ہونے کے بعد پرورش پاتا ہے.
آیت اللہ مکارم شیرازی: وطنِ اصلی وہ جگہ ہے جہاں انسان پیدا ہوا ہو یا جہاں اس نے اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ گزارا ہو.
- وطنِ اصلی کے تحقق کے لیے یہ ضروری نہیں کہ انسان وہیں پیدا ہوا ہو یا وہ اس کے والدین کا وطن ہو. اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ وہاں رہنے کا ارادہ رکھتا ہو. بلکہ اگر وہ آئندہ وہاں سے منتقل ہونے کا ارادہ بھی رکھتا ہو، تب بھی جب تک وہ وہاں سے نکل نہیں جاتا، وہ جگہ اس کا وطنِ اصلی شمار ہوتی ہے.
- وطنِ اصلی کے تحقق کے لیے مدت کا تعین عرف (عام فہم) پر موقوف ہے. مثال کے طور پر اگر کسی نے اپنی زندگی کے پہلے دس سال کسی جگہ گزارے ہوں تو عرفاً وہ اس کا وطنِ اصلی شمار ہوگا، لیکن اگر صرف ایک دو سال رہا ہو تو اسے وطن نہیں کہا جائے گا.
وطنِ اتخاذی (اختیاری وطن)
- وطنِ اتخاذی عرف کے لحاظ سے وہ جگہ ہے جسے انسان نے اپنی رہائش اور وطن کے طور پر اختیار کیا ہو، حالانکہ وہ پہلے اس کا وطن نہ تھا، چاہے اس نے اپنے وطنِ اصلی سے اعراض کیا ہو یا نہ کیا ہو.
- وطنِ اتخاذی کے تحقق میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انسان مستقل رہنے کا ارادہ رکھتا ہو، غیر معین مدت تک رہنے کا ارادہ رکھتا ہو، یا طویل مدت تک رہنے کا ارادہ رکھتا ہو.
- اگر کوئی شخص تقریباً دس سال کسی جگہ رہنے کا ارادہ رکھتا ہو تو بعید نہیں کہ عرفاً وہ جگہ اس کا وطنِ اتخاذی شمار ہو.
آیت اللہ سیستانی : اختیاری اور دائمی وطن ( اتخاذیِ) سے مراد وہ جگہ ہے جسے انسان اپنی مستقل رہائش کے لیے اختیار کرے اور اپنی باقی زندگی وہیں گزارنے کا ارادہ رکھتا ہو. جبکہ” وقتی وطن” وہ جگہ ہے جسے انسان اپنی رہائش، کام یا تعلیم کی خاطر بناتا ہے—چاہے اس کا ارادہ ہمیشہ وہاں رہنے کا نہ ہو—بشرطیکہ عرفاً اسے وہاں مسافر نہ کہا جائے. اس طرح کہ اگر وہ عارضی طور پر دس دن یا اس سے زیادہ کے لئے کسی اور جگہ رہے، تب بھی عرف اسے اسی پہلی جگہ (عارضی رہائش) کا رہنے والا سمجھے. ایسی جگہ کو اس کے لیے وطن شمار کیا جاتا ہے .
آیت اللہ مکارم شیرازی: وطنِ اتخاذی وہ جگہ ہے جسے انسان طویل مدت کے لیے رہائش کے طور پر اختیار کرے (رہنے کی نیت کے ساتھ).
- وطنِ اتخاذی کے لئے صرف نیت کافی نہیں، بلکہ اس کے عملی آثار بھی ظاہر ہونا ضروری ہیں؛ جیسے کچھ مدت (مثلاً ایک دو ماہ) وہاں رہنا یا وہ کام انجام دینا جو عموماً کسی جگہ کو وطن بنانے کے لیے کیے جاتے ہیں.
- اگر کوئی شخص شروع ہی سے وطن بنانے کی نیت سے وہاں گھر کرایہ پر لے یا خرید لے یا روزگار اختیار کرے، تو اسی وقت سے وہ جگہ اس کا وطن بن جاتی ہے اور اس کی نماز مکمل ہوگی؛ ایک یا دو ماہ گزرنا ضروری نہیں.
- اگر وطن بنانے کی نیت کے بعد، اور ضروری اقدامات مکمل کرنے سے پہلے، وہ اس جگہ رہنے کے بارے میں تردد کا شکار ہو جائے، تو وہ جگہ وطن شمار نہیں ہوگی. ایسی صورت میں اگر دس دن قیام کا ارادہ نہ ہو تو اس کی نماز قصر ہوگی.
- اگر کوئی شخص کسی دوسرے شہر میں گھر لے اور باقاعدگی سے (مثلاً ہر ہفتے) وہاں جائے، لیکن اس کا قیام اتنا نہ ہو کہ عرفاً وہ جگہ اس کا مستقل رہائشی مقام سمجھی جائے، تو وہاں اس کی نماز قصر ہوگی اور روزہ صحیح نہیں ہوگا.
- وہ جگہ جہاں انسان صرف ایک یا دو سال کے لیے رہائش اختیار کرے، عرفاً وطن شمار نہیں ہوتی، لیکن اسے مسافر بھی نہیں کہا جاتا؛ لہٰذا بغیر دس دن قیام کی نیت کے بھی اس کی نماز مکمل ہوگی.
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

