موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 16
کرامت: آج کے انسان کی ایک گمشدہ حقیقت
سید ہاشم موسوی
تمہید
ماہِ ذیالقعدہ ، اسلامی کیلنڈر میں ایک نورانی فصل کا لطیف آغاز ہے؛ ایک ایسی فصل جو اس حرمت والے مہینے کی سکون و خاموشی سے شروع ہو کر ذیالحجہ کی عرفانی بلندیوں تک پہنچتی ہے۔ ذیالقعدہ دراصل “جنگ سے رک جانے” (قعود از قتال) کا مہینہ ہے، اور اسی لئے یہ اپنے باطن کی طرف رجوع، غور و فکر، توبہ اور بڑی ملاقاتوں کے لئےروحانی تیاری کا وقت ہے۔ اس فضا میں انسان پہلے سے زیادہ "عنایت” اور "الٰہی لطف” کو قبول کرنے کے لئےآمادہ ہوتا ہے۔
اسی روحانی پس منظر میں، اس مہینے کے ابتدائی گیارہ دن دو نورانی ولادتوں — یکم ذیالقعدہ کو حضرت فاطمہ معصومہؑ اور گیارہویں کو امام علی بن موسیٰ الرضاؑ — کے سبب ایک خاص اور ممتاز زمانہ بن جاتے ہیں، جسے اسلامی انقلاب کے بعد بجا طور پر "عشرۂ کرامت” کا نام دیا گیا ہے۔
یہ نام محض ایک جذباتی یا رسمی انتخاب نہیں، بلکہ ایک گہری حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ یہ ایام "اولیائے الٰہی کے چہروں میں الٰہی کرامت کے ظہور” کا مظہر ہیں اور انسان کو اس بنیادی حقیقت یعنی "انسانی کرامت” کی طرف واپس بلاتے ہیں—ایک ایسا تصور جو آج کی دنیا میں شدید طور پر نظرانداز یا مسخ ہو چکا ہے۔
اس زاویے سے کرامت، اہلبیتؑ کی صفت بھی ہے، زائرین کے لیے عطیہ بھی، اور پیروکاروں کے لیے ذمہ داری بھی۔
اسلامی منطق میں کرامت کا مفہوم
قرآنِ کریم میں "کرامت” انسانشناسی کا ایک بنیادی تصور ہے، جو کائنات میں انسان کے بلند مقام کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ اس وجودی حقیقت کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض "انسان ہونے” کی بنیاد پر عطا کی ہے۔ اس حقیقت کو چند اہم زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے:
1۔ انسان کی ذاتی (فطری) کرامت:
یہ وہ کرامت ہے جو ہر انسان کو عطا کی گئی ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
"وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ…” (الإسراء: 70)
"ہم نے بنی آدم کو یقیناً عزت بخشی…”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ہر انسان، خواہ اس کا مذہب، نسل یا سماجی حیثیت کچھ بھی ہو، بنیادی عزت و شرافت رکھتا ہے۔
اس کرامت کے پہلو:
• عقل اور اختیار کا ہونا
• حق و باطل کی پہچان کی صلاحیت
• روحانی ترقی کی قابلیت
• کائنات کا انسان کے لئے مسخر ہونا
2۔ انسان کی اکتسابی کرامت:
انسان کی ذاتی کرامت کے ساتھ ساتھ قرآن مجید ایک بلندتر کرامت کا ذکر بھی کرتا ہے:
"إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ” (الحجرات: 13)
"تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے”
یہاں معیار نہ مال ہے، نہ طاقت، نہ نسب؛ بلکہ تقویٰ ہے۔
اس کرامت کی خصوصیات:
- اس طرح کی کرامت ، انسان کے اختیار سے وابستہ ہے۔
- بڑھ یا گھٹ سکتی ہے
- حقیقی قدر کا معیار ہے
یعنی انسان "کریم پیدا ہوتا ہے”، مگر "کریم بنے رہنا” اس کے اپنے عمل پر منحصر ہے۔
کیوں "کرامت”؟
یہ سوال بہت اہم ہے کہ ذوالقعدہ کے پہلے عشرے کا نام "عشرۂ کرامت” کیوں رکھا گیا؟ "عشرۂ رحمت” "عشرۂ ولایت” یا "عشرۂ زیارت” کیوں نہیں رکھا گیا ؟ اس کا جواب ، لفظ کرامت کے معنی میں پوشیدہ ہے ۔
1۔اس عشرے میں ولادت پانے والی شخصیات کی نمایاں صفت، کرامت ہے۔
حضرت معصومہؑ اور امام رضاؑ کی زندگی کرم، عطوفت اور سخاوت کی روشن مثال ہے۔ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا لقب "کریمۂ اہلبیت” بھی محض تعظیم کی بناپرنہیں بلکہ ایک حقیقت کی بنا پر ہے ۔ چنانچہ روایات کے مطابق یہ لقب ان کی ولادت سے پہلے ہی امام صادق (علیہ السلام) نے عطا فرمایا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان کے زائرین اور مجاورین نے اس کرامت کے جلووں کو پوری طرح محسوس کیا ہے۔
تاریخ میں ملتا ہے کہ آیت اللہ سید محمود مرعشی کا نام —جو مرجعِ عالیقدر مرحوم آیتاللہ العظمیٰ سید شهاب الدین مرعشی نجفی کے والد گرامی تھے—حرمِ حضرت معصومہ (سلام اللہ علیہا) کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ لیکن اس تعلق کا سبب ان کے اندر پائی جانے والی عارفانہ بےقراری تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے نجف اشرف میں ایک سخت چِلّہ کیا ، تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی جدہ حضرت فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیہا) کے مخفی مزار کا مقام دکھا دے۔
ان شب بیداریوں کے اختتام پر، خواب میں انہیں کہا گیا:
"کریمۂ اہلِ بیت کے دامن میں پناہ لو”
انہوں نے سمجھا کہ اس سے مراد حضرت زہراء (سلام اللہ علیہا) ہیں، تو عرض کیا:
"کیا میں نے یہ چِلّہ انہی کے مزار کی تلاش کے لیے نہیں کیا؟”
جواب ملا:
"اللہ نے ارادہ فرمایا ہے کہ حضرت زہراء (سلام اللہ علیہا) کے مخفی مزار کی جلالت اور عظمت کو حضرت معصومہ (سلام اللہ علیہا) کے مزار میں ظاہر کرے”
یہی خواب ان کی ہجرت کا سبب بنا، جس کی برکتیں آج تک جاری ہیں۔ وہ قم منتقل ہوئے اور ساٹھ سال سے زیادہ عرصے تک، فجر سے پہلے— قبل اس کے کہ حرم کے دروازے کھولے جائیں—دروازے کے باہر کھڑے رہتے تھے تاکہ سب سے پہلے زائر بن کر سلام پیش کرسکیں۔ یہاں تک کہ برفانی سردیوں میں بھی، اسی شوق و جذبے کے ساتھ بی بی کو سب سے پہلےسلام کرنے کے لئے درورزے کے باہر کھڑے رہتے رہے۔
2۔ کرامت؛ ایک اخلاقی صفت ہی نہیں، بلکہ ایک تربیتی حکمتِ عملی بھی ہے ۔
اس عشرے کا نام صرف توصیفی نہیں بلکہ عملی دعوت ہے یعنی :
• گھر میں کرامت کو بنیاد بنایا جائے
• معاشرے میں احترام کی ثقافت کو عام کیاجائے
• دوسروں کو گرانے کے بجائے اٹھانے کی عادت ڈالی جائے
یعنی”عشرۂ کرامت” ایک ایسا ثقافتی منصوبہ ہے جو "انسانِ کریم” کی تعمیرکا کام کرتا ہے۔
حضرت معصومہؑ کی کرامات کے چند جلوے
دینی ثقافت میں “کرامت” صرف مادّی عطا یا بخشش تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں وسیع شفاعت، علمی مقام اور فکری مشکلات کا حل، درماندوں کو پناہ دینا، اور ہجرت کے ذریعے بصیرت پیدا کرنا بھی شامل ہے۔ یہاں ہم مختصراً ان بلند مقامات میں ان کی کرامت کے جلووں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
1۔ بڑے پیمانے پر شفاعت کے ذریعےکرامت
اللہ کے ولی کی کرامت کا سب سے اعلیٰ اور پائیدار جلوہ دنیا کی عارضی مشکلات کو حل کرنے میں نہیں، بلکہ انسانوں کو “ابدی تنگیوں” اور قیامت کے خوفناک لمحات میں سہارا دینے میں ہے۔ اگر دنیا میں کرامت رزق یا شفا کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، تو آخرت میں یہی کرامت حیرت سے نجات اور کامیابی تک پہنچنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
اس ہمہ گیر کرامت کے مختلف پہلو اس طرح بیان کیے جا سکتے ہیں:
امام صادقؑ ایک چونکا دینے والے انداز میں فرماتے ہیں:
«تَدخلُ بِشفاعتِها شِیعتنا الجنّة اَجمعون»
"ان کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل ہوں گے”(بحار الأنوار-جلد ۸، باب الشفاعة)
یہ جملہ ایسی عظمت کو آشکار کرتا ہے، جو عقل کو حیران کر دے۔ لفظ “اجمعون” (سب کے سب) اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کی شفاعت کسی خاص گروہ تک محدود نہیں، بلکہ وہ “شفاعتِ عامہ” کی مالک ہیں۔ یعنی ان کی کرامت ایک بے کراں سمندر کی مانند ہے جو مکتبِ اہلِ بیتؑ کے تمام پیروکاروں کو اپنے دامن میں لے لیتی ہے۔
- کریمہ؛ ناامیدوں کی پناہ گاہ:
وحی کے منطق میں “کریم” وہ نہیں جو صرف مانگنے والے کی ضرورت کے مطابق دے، بلکہ وہ ہے جو اپنی عطا کو اس قدر وسیع کر دے کہ کمزور ترین اور مایوس ترین افراد بھی محروم نہ رہیں۔ حضرت معصومہ (سلام اللہ علیہا) کی شفاعت اسی بے منت بخشش کا زندہ مظہر ہے؛ گویا وہ اپنے زائرین اور محبّین کی ابدی نجات کی ضمانت بن گئی ہوں۔ - شفاعت اور معرفت کا تعلق:
یہ وسیع کرامت محض ایک سادہ انعام نہیں، بلکہ اس کا سرچشمہ یہ ہے کہ انہوں نے دنیاوی زندگی میں خود کو راہِ ولایت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ جو شخص دنیا میں اپنی پوری ہستی اپنے امام کے لیے قربان کر دے، وہ آخرت میں اللہ کی طرف سے اس مقام پر فائز ہوتا ہے کہ اپنی کرامت کے ذریعے امت کی مشکلات کو دور کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ قم میں حضرت معصومہ (سلام اللہ علیہا) کا حرم، قیامت کے دن ان کی شفاعت کے منظر کا ایک پیش نمونہ ہے؛ جیسے آج ان کا دربار دکھی دلوں کی پناہ گاہ ہے، ویسے ہی کل ان کی نگاہ جنت میں داخلے کی کنجی ہوگی۔
2۔ علمی کرامت اور فکروں کو وسیع کرنے کا وسیلہ
اہلِ بیت (علیہم السلام) کی سیرت میں “کرامت” ہمیشہ صرف مال کی بخشش تک محدود نہیں رہی؛ بلکہ بعض اوقات اس کا بلند ترین جلوہ “علم کی عطا” اور بھٹکی ہوئی عقلوں کی رہنمائی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ حضرت فاطمہ معصومہ (سلام اللہ علیہا) ایسے علم کی وارث ہیں جس میں عمر، معرفت کی پختگی پر سبقت نہیں لے جا سکی۔
اس تمدّن ساز علمی کرامت کو سمجھنے کے لیے دو نمایاں پہلو قابلِ ذکر ہیں:
"فداها ابوها” کی میراث:
ان کی جانب سے اپنے والد کی غیر موجودگی میں شیعوں کے پیچیدہ سوالات کے جوابات دینا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ان کے الٰہی کمالات کی روشن دلیل ہے۔ جب امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) نے اپنی کم سن بیٹی کے دقیق جوابات دیکھے تو تین مرتبہ فرمایا:
“اس کے باپ اس پر فدا ہوں”
یہ دراصل ان کے علم کی امامت نما عظمت کی تصدیق تھی۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ حضرت معصومہ (سلام اللہ علیہا) اپنی جوانی ہی میں ایسے فکری مرکز بن چکی تھیں جہاں بڑے بڑے اہلِ علم، دور دراز کا سفر طے کر کے علمِ آلِ محمد ﷺ سے فیض حاصل کرنے آتے تھے۔
علم کی جغرافیہ اور تمدّن ساز کرامت:
اس علمی کرامت کا معاصر جلوہ قم میں ان کی موجودگی کی برکت ہے۔ ان کی ہجرت اور قیام نے ایک بنجر سرزمین کی تقدیر بدل دی۔ قم کا عالمِ تشیّع کا مرکز بن جانا اور دینی فکر کی سب سے بڑی درسگاہ میں تبدیل ہونا، براہِ راست اسی وجود کی برکت ہے۔ یہ ہے “تمدّن ساز کرامت” — ایسی کرامت جو نہ صرف افراد کے مسائل حل کرتی ہے بلکہ ایک پوری امت کی فکری راہ کو روشن کرتی ہے اور زمین کو حکمت و فقاہت کے مرکز میں بدل دیتی ہے۔
درحقیقت، حوزۂ علمیہ میں لکھی جانے والی ہر کتاب اور حق کے دفاع میں اٹھنے والا ہر فکر، اسی درخت کی شاخ ہے جس کی جڑ اس عظیم خاتون کی علمی کرامت اور علم کی فیاضی میں پیوست ہے۔
3۔ پناہ دینے اور قبول کرنے کی کرامت (درماندہ لو گوں کا ملجأ)
صفتِ “کریمہ” کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ بغیر کسی حد و قید کے ہر پناہ طلب کرنے والے اور زائر کو اپنے دامن میں لے لیتی ہے۔
اس روحانی پناہ کے جلوے کو درج ذیل پہلوؤں میں سمجھا جا سکتا ہے:
- عقل و شہود کا مرکز:
ان کا حرم صرف ٹوٹے دلوں کی پناہ گاہ نہیں، بلکہ سرگرداں عقلوں کا بھی ٹھکانہ ہے۔ ایک عظیم حکیم جیسے ملا صدرا کا کہک نامی شہر سے پیدل اس شوق میں آنا کہ اس حرم کے انوار سے فیض حاصل کریں، اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی کرامت نہ صرف روحانی بلکہ علمی و فلسفی گتھیوں کو بھی سلجھاتی ہے۔ یعنی "سایۂ کریمہ” اس قدر وسیع ہے کہ عام لوگوں سے لے کر بڑے فلاسفہ تک سب اس کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرتے ہیں۔
- گرہ کشائی میں لطافت:
ان کی کرامت کا ایک نہایت خوبصورت پہلو ان کی منفرد نسوانی شفقت ہے۔ اس دربار میں نہ کوئی خوف زدہ کرنے والی ہیبت ہے اور نہ سختی۔ زائر یہاں کسی حاکم کے پاس نہیں بلکہ ایک “مہربان بہن” اور “خاندانِ وحی کی باوقار بیٹی” کے پاس آتے ہیں۔ یہ کرامت صبر کے ساتھ سننے اور محبت سے جواب دینے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، جو حاجت پوری ہونے سے پہلے ہی انسان کو سکون اور قبولیت کا احساس عطا کرتی ہے۔ - شناخت عطا کرنے والی پناہ گاہ:
حضرت معصومہ (سلام اللہ علیہا) سب کو قبول کر کے محروموں کو نئی پہچان اور وقار عطا کرتی ہیں۔ "کریمہ” کے منطق میں کوئی بھی اجنبی نہیں ہوتا۔ یہی ہمہ گیر پناہ گاہ ہونا اس بات کا سبب بنا کہ صدیوں کے دوران قم ایک خشک جغرافیہ سے علم اور امن کے ایک زندہ مرکز میں تبدیل ہو گیا، کیونکہ ہر ضرورت مند جانتا ہے کہ اس آستانے پر کسی کو رد نہیں کیا جاتا۔
4۔ ہجرت اور بصیرت پیدا کرنے کی کرامت
ان کی مدینہ سے مرو کی طرف ہجرت محض ایک جذباتی رشتہ یا خاندانی ملاقات نہیں تھی، بلکہ ایک تمدّن ساز اور حکمتِ عملی پر مبنی اقدام تھا۔ یہ ولایت کے مقام کی حمایت میں ایک سیاسی و سماجی تحریک تھی۔ انہوں نے راستے کی سختیوں کو برداشت کر کے اس سفر کو نورِ معرفت سے روشن کر دیا۔ یہی "کرامتِ فداکاری” ہے—یعنی حق کے اظہار کے لیے جان اور راحت کو قربان کر دینا۔
اس فداکارانہ کرامت کے مختلف پہلو درج ذیل ہیں:
- ہجرت بطور میڈیا (پیغام رسانی کا ذریعہ):
اس زمانے میں جب خلافت چاہتی تھی کہ امام رضا علیہ السلام کو جبراً منتقل کر کے انہیں معاشرے سے الگ کر دیا جائے، حضرت معصومہ (سلام اللہ علیہا) کی ہجرت نے اس خاموشی کو توڑ دیا۔ ان کے سفر کا ہر پڑاؤ ولایت کے مقام کی وضاحت اور باطل چہرے کو بے نقاب کرنے کا مرکز بن گیا۔
- عوام میں بصیرت کی بیداری:
انہوں نے بیابان کی سختیوں اور راستے کے خطرات کو برداشت کر کے "امام کی معرفت” کو عوامی زندگی کے مرکز میں لے آئیں۔ وہ نورِ معرفت جو انہوں نے اپنے سفر میں روشن کیا، اس نے امامت کی حقیقت کو تاریخ کی دھول میں گم ہونے سے بچا لیا۔ - فداکاری اور ایثارِ جان کی کرامت:
اس کرامت کا عروج اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب انہوں نے شعوری طور پر ایسا راستہ اختیار کیا جس کا انجام ظاہری ملاقات نہیں بلکہ مقصد کی راہ میں شہادت تھا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ انہوں نے اپنی صحت اور آرام کو “جہادِ تبیین” کے لیے قربان کر دیا—ایک عظیم قربانی جو ثابت کرتی ہے کہ ولایت کے دفاع کی کوئی حد یا جنس نہیں ہوتی۔
حاصل کلام :
اسلام میں کرامت ایک ہمہ جہت حقیقت ہے؛ ایک طرف یہ ہر انسان کے لیے ایک الٰہی اور فطری عطیہ ہے، دوسری طرف یہ ایک بلند مقام ہے جو ایمان اور تقویٰ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، اور آخرکار یہ ایک عملی اور قابلِ تحقق فضیلت ہے جو اہلِ بیت (علیہم السلام) کی سیرت میں نہایت خوبصورتی کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
اس زاویے سے "عشرۂ کرامت” کا نام محض ایک علامتی عنوان نہیں، بلکہ ایک باشعور اور ثقافتی دعوت ہے—اس حقیقت کو دوبارہ پہچاننے اور آج کی دنیا میں اسے زندہ کرنے کی دعوت۔ حضرت فاطمہ معصومہ (سلام اللہ علیہا) کی زندگی میں کرامت اپنی بلند ترین شکل میں ظاہر ہوتی ہے: چاہے وہ وسیع شفاعت ہو، علمی سخاوت ہو، لوگوں کو پناہ دینے کا کردار ہو، یا ولایت اور حق کی حمایت میں ایثار سے بھرپور ہجرت۔
ان تمام پہلوؤں کا خلاصہ یہ ہے کہ انسانی کرامت صرف ایک تسلیم شدہ حق نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی حفاظت، پرورش اور تکمیل ضروری ہے—یہاں تک کہ انسان خود اللہ کے فضل اور رحمت کا مظہر بن جائے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

