حدیثِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 08
حکمت و بصیرت کی کوئی جنس نہیں: خواتین کی فکری اقتدار
الامام الصادق (علیہ السلام): رُبَّ اِمْرَأَةٍ أَفْقَهُ مِنْ رَجُلٍ
“بسا اوقات بعض عورتیں دین کے فہم میں مردوں سے زیادہ گہری سمجھ اور بصیرت رکھتی ہیں۔”
(الکافی، ج۴، ص۳۰۶)
مقدمہ:
(اس حدیث پر غور و تأمل کی مناسبت)
یکم رمضان کو ایک ممتاز اور عظیم خاتون، سیدہ نصرت امین اصفہانی (بانو امین، ۱۸۸۶–۱۹۸۳ء) کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔ وہ بیسویں صدی کی پہلی خاتون تھیں جو درجۂ اجتہاد تک پہنچیں۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن گواہی ہے کہ علم و حکمت کی بلندی ہر انسان کے لیے قابلِ حصول ہے۔
ان کے علمی ورثے کی تعظیم کے لیے اس شمارے کی "حدیثِ ہفتہ” امام جعفر صادقؑ کے اس ارشاد پر مبنی ہے جو جنس اور علمی و دینی صلاحیتوں سے متعلق رائج تصورات کو چیلنج کرتا ہے:
حدیث کے تربیتی پیغامات: نوجوانوں کے لئے:
1۔ فہم و بصیرت کو حاصل کرنا صرف مردوں کی ذمہ داری نہیں۔
آپ کی علمی صلاحیت اور پیچیدہ مسائل حل کرنے کی قدرت اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کتنی محنت کرتے ہیں، نہ کہ اس پر کہ آپ مرد ہیں یا عورت۔
عملی چیلنج: اس ہفتے کسی خاتون عالمہ یا محقق (مثلاً بانو امین) کے بارے میں تحقیق کریں اور ان کی ایک علمی کامیابی کو سوشل میڈیا یا کسی دوست کے ساتھ شیئر کریں۔
2۔ فیصلہ حکمت پر کریں، ظاہر پر نہیں۔
افراد کی قدر و قیمت ان کے ظاہر یا جنس کی بنیاد پر نہ لگائیں بلکہ ان کے علم اور فکر کی بنیاد پر کریں۔
عملی چیلنج: اس ہفتے کسی ایسے شخص سے سنجیدگی سے گفتگو کریں جسے آپ عموماً اس کے ظاہر کی وجہ سے نظرانداز کر دیتے ہیں، اور اس کی کوئی رائے یا خیال سنیں۔
۔ 3۔ حقیقی خوبصورتی فہم میں ہے
اصل قدر و منزلت اور خوبصورتی علم و حکمت سے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ ظاہری شکل و صورت سے۔
عملی چیلنج: اپنی کسی علمی مہارت یا صلاحیت کو تحریر کریں جس پر آپ کو فخر ہے، اور اس ہفتے اس کو مزید بہتر بنانے پر توجہ دیں۔
۔ 4۔ خداترس ذہنوں کی پیروی کریں، نہ کہ صرف چہروں کی
سوشل میڈیا پر اُن افراد کو فالو کریں جو حکمت، مثبت اقدار اور مفید افکار شیئر کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو صرف اپنی تصاویر اور ذاتی زندگی کی نمائش کرتے ہیں، آپ کی توجہ کے مستحق نہیں۔
عملی چیلنج: آج ایک ایسے اکاؤنٹ کو اَن فالو کریں جو صرف ظاہری نمائش کو فروغ دیتا ہو، اور اس کے بدلے ایک تعلیمی یا فکری صفحہ فالو کریں۔
حدیث کے تربیتی پیغامات: والدین کے لئے:
. 1۔ بیٹیوں کی فکری صلاحیت میں اضافہ کے اسباب مہیا فرمائیں۔
بیٹی کی تعلیم اور ذہنی نشوونما اتنی ہی اہم ہے جتنی بیٹے کی؛ اس لئے کہ آئندہ نسلوں کی تربیت کا دارومدار بیٹی پر ہے۔
عملی چیلنج:اس ہفتے اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھ کر اس سے اس کے سب سے بڑے تعلیمی یا پیشہ ورانہ خواب کے بارے میں پوچھیں، اور اس کی ابتدا کے لئےعملی راہ تجویز کریں۔
ہوتی ہے۔. 2۔ الفاظ ک کے چناؤ کی بڑی اہمیت
بیٹی کے ظاہر کی تعریف کے بجائے اس کی منطقی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو سراہیں۔
عملی چیلنج: اگلی بار جب وہ کوئی دانشمندانہ بات کہے تو اس سے کہیں
“میں تمہارے اندازِ فکر کی واقعی قدر کرتا/کرتی ہوں۔”
عمل بہت موثر ہوتی ہیں۔ 3۔ مائیں بطور نمونہ
بچوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کی مائیں بھی علم کی جستجو میں رہتی ہیں اور اپنی بصیرت کو اہمیت دیتی ہیں، نہ کہ صرف ظاہری پہلو کو دیکھیں۔
عملی چیلنج:اس ہفتے اپنے بچوں کو دکھائیں کہ آپ کسی نئے موضوع کا مطالعہ کر رہے ہیں، اور انہیں بتائیں کہ وہ آپ کے لیے کیوں دلچسپ ہیں۔
4۔ اپنی بیٹیوں سے مشورہ لیا کریں۔
جب آپ بیٹیوں کو گھر کے فیصلوں میں شامل کرتے ہیں تو آپ انہیں سکھاتے ہیں کہ ان کی رائے قابلِ اعتماد اور قابلِ قدر ہے، اور ساتھ ہی ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کرتے ہیں۔
عملی چیلنج: خاندانی بجٹ یا کسی گھریلو مسئلے پر اپنی بیٹی سے رائے لیں اور اسے سنجیدگی سے زیرِ غور لائیں۔
حدیث کے تربیتی پیغامات: ائمہ جماعت اور روحانی رہنماؤں کے لئے:
. 1۔ بصیرت اور دنیاوی عہدوں میں فرق
قارئین کو یاد دلاتے چلیں کہ کسی مسلمان خاتون کی حکمت و بصیرت کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ وہ کسی بڑے تعلیمی یا سماجی منصب پر فائز ہو۔ ایک سادہ مزاج خاتون، گھر کے ماحول میں بھی حکیم اور حکمت پرور ہو سکتی ہے، اور بعض اوقات اس کا مقام کسی سماجی منصب رکھنے والی خاتون سے زیادہ بلند ہوتا ہے۔
عملی چیلنج: اپنے خطاب میں ایسی خواتین کی مثالیں بیان کریں جنہوں نے گھر کے ماحول میں رہتے ہوئے عظیم اثرات چھوڑے ہیں۔
2۔ خواتین کی صدبی ہوئی لاحیتوں کوتلاش کریں اور پ انہیں ابھاریں ۔
مسلم خواتین اور لڑکیوں کی صلاحیتوں کی شناخت اور ان کی سرپرستی کے لیے ایک منظم پروگرام ترتیب دیں۔
عملی چیلنج: اس مہینے ایک چھوٹی ٹیم تشکیل دیں جو مسلم خواتین کے لیے سادہ رہنمائی اور صلاحیت شناسی کا منصوبہ تیار کرے۔
3۔مؤثر مسلم خواتین کے واقعات بیان کریں۔
ایسی مسلم خواتین کی حقیقی داستانیں اور تجربات بیان کریں جنہوں نے دین اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کیا ہو۔
عملی چیلنج: اگلی تقریر یا درس میں کسی ایک خاتون محققہ یا عالمہ کا تعارف اور اس کی زندگی سے ایک سبق بیان کریں۔
کریں۔ 4۔اہل علم خواتین سے بھی استفادہ کا اہتمام
ایسا باقاعدہ پروگرام ترتیب دیں جس میں آپ اور آپ کے مخاطبین پرہیزگار اور صاحبِ علم خواتین سے استفادہ کر سکیں۔
عملی چیلنج: آئندہ دو ماہ کے اندر کسی بااثر مسلم خاتون کو مسجد میں خطاب یا تدریس کے لیے مدعو کریں۔
۔ 5۔ صاحب علم وفضل خواتین کے احترام کو فروغ دیں
عملی چیلنج: اپنے خطاب میں یہ واضح کریں کہ ایک مؤثر مسلم خاتون کی پہچان کے معیارات کیا ہیں۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

