تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 12

Religious Outreach Experiences - Volume 03 Issue 12
Last Updated: اپریل 4, 2026By Categories: تبلیغی تجربے0 Comments on تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 120 min readViews: 5

 حجرے سے ندامت گاہ تک

ماہِ رمضان ہمارے لئے—یعنی طلبۂ حوزہ کے لئے —صرف عبادت کا مہینہ نہیں تھا؛ یہ ہجرت کا موسم تھا۔ ایک ایسا زمانہ جب  اپنےسادہ کمروں  اور  درسی کتابوں سے کچھ دیر کے لئے  دوری اختیار کرنا پڑتا تھا، اور لوگوں کے درمیان جا کر دین کا پیغام پہنچانا ہوتا تھا۔ حوزوی کلینڈرمیں  ماہ رمضان کا مطلب ہوتا ہے: سطحِ عالی  کے دروس کی  چھٹی اور تبلیغ کا آغاز۔

وہ سال میری طلبگی کا چوتھا سال تھا؛ نہ اتنا  بےتجربہ کار کہ  موسم تبلیغ میں بے کار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا  رہوں، اور نہ اتنا مجھا ہوا مبلغ کہ پورے اعتماد کے ساتھ منبر پر بیٹھ جاؤں۔  اسی لئےمیری خواہش تھی کہ کسی تجربہ کار مبلغ کے ساتھ رہوں اور قریب سے سیکھوں۔

آخر موقع مل ہی گیا۔  مدرسے کے ایک  طالب علم  نے، جو مجھ سے ایک سال آگے تھے، قبول کیا کہ ماہِ مبارک کے صرف پہلے ہفتے میں میں ان کے ساتھ رہ سکتا ہوں۔ جب  مجھے یہ پتہ چلا کہ  تبلیغ  کا مرکز ، اپنے علاقے کی ایک دور افتادہ جیل ہے تو میرا اشتیاق اور بڑھ گیا؛ یہ ایسا تجربہ تھا جو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا۔

ماہِ مبارک کی پہلی رات، عین رمضان کے آغاز کے وقت، ہم وہاں پہنچ گئے۔ جیل کے انتظامی حصے میں ایک چھوٹا سا کمرہ ہمیں دیا گیا۔ سفر کی تھکن ابھی باقی تھی کہ ہم نماز کے قیام اور پہلی شب کی تقریر کے لیے روانہ ہو گئے۔

میرے دل میں عجیب کیفیت تھی؛ ایک طرف پہلی تبلیغی سفر کا جوش، اور دوسری طرف قیدیوں کو قریب سے دیکھنے کی ہلکی سی گھبراہٹ۔ سچ کہوں تو “قیدی” کی جو تصویر میرے ذہن میں تھی وہی تھی جو اکثر لوگوں کے ذہن میں ہوتی ہے: سخت چہرے، سنجیدہ اور شاید خطرناک لوگ۔ انہی تصورات کی وجہ سے دل میں کچھ اندیشہ بھی تھا۔

جیسے ہی ہم اندر داخل ہوئے، ایک بڑا سا بورڈ نظر آیا: "ندامت گاہ”۔ یہ لفظ حقیقت کی پہلی مار تھی جو مجھ پڑی؛ وہ ایک ایسی جگہ جو  پھر سے اپنی زِندگی  بنانےکے لئے تیار کی گئی ہو۔ جب ہم اس کے نماز خانے میں داخل ہوئے تو میرے تصور کے برعکس ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جن کے چہرے نہ خوفناک تھےاور نہ ہی  انکی نگاہوں میں کوئی دشمنی کی جھلک۔ بلکہ انہوں نے توقع سے بڑھ کر احترام اور محبت کے ساتھ ہمارا استقبال کیا۔

میرے دوست نے پہلی رات کی تقریر کی۔ اس کے بعد حال  چال پوچھنےکا سلسلہ شروع ہوا۔ قیدیوں میں سے ایک نے کہا:
"یہ سید صاحب بھی کچھ فرمائیں۔”

میں نے کہا کہ میں تو صرف ٹریننگ  کے لئے آیا ہوں، مگر انہوں نے اصرار کیا:
"آپ سید ہیں، رسولِ خدا ﷺ کی اولاد کو بھی کچھ کہنا چاہیے۔”

قیدیوں کے اصرار کی وجہ سے میرے دوست نے مجھ سے کہا کہ دوسری رات میں گفتگو کروں۔ اس رات صبح تک میں اسی کشمکش میں رہا کہ توبہ اور گناہ میں سے کون سا موضوع منتخب کروں۔ اچانک ذہن میں ایک سوال چمکا:
"کیا تم خود ندامت کے مقام تک پہنچے ہو کہ دوسروں کو اس کی دعوت دو؟”

میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ میں نے طے کیا کہ نصیحت کرنے کے بجائے سچائی کے ساتھ معذرت کرلوں۔ مائیکروفون پر گیا اور کہا:
"جب میں نے یہاں کے دروازے پر "ندامت گاہ”  کا لفظ  لکھادیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ میں خود بھی اس مقام تک پہنچنے کا محتاج ہوں۔ لہٰذا اگر اجازت ہو تو میں بھی آپ کے ساتھ شاگرد بن کر رہوں، اور براہِ کرم مجھ سے تقریر کی درخواست نہ کریں۔”

میں نے سمجھا کہ بات ختم ہو گئی۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس ہو گیا! ان دو منٹ کی سچائی نے ان کے دلوں پر ایسا اثر ڈالا جو کسی بڑی تقریر سے بھی زیادہ تھا، اور ان کا اصرار مزید بڑھ گیا۔ میں پھر بھی اپنے مؤقف پر قائم رہا۔

آخرکار یہ طے ہوا کہ نمازِ جماعت اور سوال و جواب کی ذمہ داری میرے  ذمہ ہو گی، جبکہ تقریریں میرے دوست کریں گے۔ انہوں نے یہ تجویز قبول کر لی… اس طرح ہم وہاں رہنے لگے۔

طے تو یہ ہوا تھا کہ میں صرف ایک ہفتے کے اپنے سینئر دوست کے ساتھ رہونگا مگرپہلا ہفتہ ایک پورے مہینے میں بدل گیا۔ اس ایک مہینے میں میں نے عجیب واقعات دیکھے۔ ایک بار ایک قیدی استخارہ کے لیے آیا۔ نتیجہ بہت برا نکلا۔ بعد میں اس نے اعتراف کیا کہ اسے فرار ہونے کا موقع ملا تھا اور وہ تذبذب میں تھا کہ بھاگے یا نہیں۔ ہم نے اس موقع کو غنیمت جانا اور انہیں استخارہ کے صحیح معنی اور اس کی شرائط کے بارے میں بتایا۔

کچھ لوگ آتے اور اپنی زندگی کی کہانیاں سناتے—اپنی غلطیاں، دھوکے، اور کمزوری کے وہ لمحے جو انہیں یہاں تک لے آئے تھے۔ انہی دنوں میں نے سمجھا کہ کبھی کبھی سب سے اہم کام بولنا نہیں بلکہ سننا ہوتا ہے۔ البتہ  کسی   کے بارے کوئی راۓکئے بغیر۔

در حقیقت ان میں سے بہت سے لوگ مجرم بننے سے پہلے ، کسی نہ کسی روحی مشکل کا شکار رہےتھے۔

بہرحال،اس  ماہ رمضان میں میں دوسروں کی ہدایت کے لئے نہیں گیا تھا؛ دراصل میں اپنی تربیت کے  لئےگیا تھا۔

اس تبلیغی تجربے کے بعض اسباق

1۔ نظریات کی تبدیلی میں الفاظ کی طاقت

کسی جگہ کو "جیل” کے بجائے "ندامت گاہ” کا نام دینا،  انسان کی شناخت کو "مجرم” سے "واپس  لوٹ آئے والا انسان”میں بدلنے کا پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم لوگوں کو جس نام سے پکارتے ہیں، وہی ہمارے رویّے کا رخ متعین کرتا ہے۔

2۔ صداقت، فصاحت سے زیادہ مؤثر ہے

لوگ—خصوصاً وہ طبقے جو زندگی کے زخموں سے گزر چکے ہوں—تقریر اور دل کی بات کے فرق کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ جب مبلغ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرتا ہے تو  اس سےمخاطب کے دل کی دیواریں گر جاتی ہیں اور اعتماد کا پل بن جاتا ہے۔

3۔ بولنے سے زیادہ سننے کی  اہمیت

بہت سے اخلاقی اور سماجی بحرانوں میں لوگوں کو نصیحت یا سرزنش سے زیادہ کسی   کے بارے کوئی راۓ قائم کئے بغیر ایک سننے والےکان کی ضرورت ہوتی ہے۔
کسی دردمند کےدرد کو بیان کرنے کا موقع دینا،  اس کی ہدایت کے لئے  ایک ضروری مقدمہ ہوتا ہے۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔