اداریہ – جلد 03 شمارہ 08
تقویم سے آگے: ہمارے عہد میں ایمان بطور زاویۂ نظر
مقدمہ
ہر ہفتے یہ بلیٹن اہم عالمی اور اسلامی مناسبتوں کوپیش کرتا ہے، تاکہ علماء، اساتذہ اور مفکران، اپنے خطبات، دروس اور تقاریر میں ایمان اور ا اسکے بدی قدروں کو عصرِ حاضر کی ضروریات سے جوڑ سکیں۔
آنے والا ہفتہ ہمیں ایک بار پھر مسلمانوں میں موجود علمی و اخلاقی شخصیات کی یاد تازہ کرنے کا موقع دیتا ہے، اور اس بات پر غور کی دعوت دیتا ہے کہ اسلام ہر دور میں اخلاقی قیادت، عدلِ اجتماعی اور انسانی وقار کے تحفظ کے لئے کیسے رہنمائی فراہم کرتا رہا ہے۔
اس ہفتے کی پہلی مناسبت : ابوعلی سینا کا یومِ وفات ، یکم ماہ رمضان ، سن(۴۲۸) ہجری میں ہے۔
ابوعلی سینا اسلامی دنیا کے عظیم طبیب اور فلسفی تھے۔ ان کی شہرۂ آفاق تصنیف "القانون فی الطب” صدیوں تک علمِ طب کی بنیادی کتاب رہی ہے۔ وہ ایمان، عقل اور تحقیق کے حسین امتزاج کی علامت تھے۔
آج جب دنیا معلومات کے ہجوم اور فکری انتشار کا شکار ہے، ابنِ سینا ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ علم کا اصل مقصد حقیقت کی تلاش اور انسانیت کی خدمت ہے۔ اسلام ایسے علم کو عزت دیتا ہے جو خدا کی رضا اور خلقِ خدا کی بھلائی کے لئے حاصل کیا جائے۔
آج کا پیغام: ایسا علم حاصل کریں جو آپ کے ایمان کو گہرا کرے اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔
یکم ماہ رمضان، وفاتِ سیدہ نصرت امین اصفہانی کا دن بھی ہے۔ (۱۴۰۳ھ / ۱۹۸۳ء)
سیدہ نصرت امین اصفہانی ایران کی ممتاز عالمہ تھیں جنہوں نے تفسیرِ قرآن اور فقہ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ علم، تقویٰ اور معنوی عظمت صرف مردوں سے وابستہ نہیں۔ آج جب بعض اوقات خواتین کی آواز کو یا تو نظرانداز کیا جاتا ہے یا دبادیا جاتا ہے، ان موصوفہ کی حیات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اسلام نے خواتین کو علمی و روحانی قیادت کا بھرپور حق دیا ہے۔
آج کا پیغام: خواتین کو علم، ایمان اور سماجی قیادت کے میدان میں بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
) ہے۔ تیسری ماہ رمضان، وفاتِ شیخ مفید رحمہ اللہ کا یومِ وفات (۴۱۳ھ
شیخ مفید ، علمِ کلام اور فقہ کے ممتاز ستون تھے۔ انہوں نے عقل اور وحی کی روشنی میں اسلامی عقائد کا دفاع کیا، عظیم شاگردوں کی تربیت کی اور شیعہ فکری روایت کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ آج جب فکری شکوک اور نظریاتی انتشار عام ہے، شیخ مفید کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان کو علم، بصیرت اور مکالمے کے ساتھ مضبوط کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ قرآن ہمیں اہلِ علم سے رجوع کرنے کی ترغیب دیتا ہے::
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
(سورۂ نحل، آیت 43) “اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لیاکرو۔”
آج کا پیغام: ایمان کی حفاظت سیکھنے، سوال کرنے، مکالمہ اختیار کرنے اور حکمت اپنانے سے کی جاتی ہے۔
کے طور پر منایا جاتا ہے: 20/فروری: عالمی یومِ سماجی انصاف
یہ دن اقوامِ متحدہ کی جانب سے دنیا بھر میں عدل، انصاف اور انسانی حقوق کے فروغ کے لئے مخصوص ہے۔
اگرچہ آج عدل کا نعرہ ہر کوئی لگاتا ہے، لیکن اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی عدل کی بنیاد الٰہی ہدایت پر ہونی چاہئے، نہ کہ وقتی نظریات یا بدلتی ہوئی سماجی ترجیحات پر۔ سچا عدل وہی ہے جو وحی الہی کی روشنی میں پرکھا جائے۔ چنانچہ ارشاد رب العزت ہے :
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ
“ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف قائم کریں۔”
(سورۂ حدید،آیت25)
آج کا پیغام: ہر اُس چیز کو عدل نہ سمجھیں جو میڈیا پیش کرے۔ حقیقی انصاف وہ ہے جو الٰہی میزان سے ہم آہنگ ہو۔
21/فروری: عالمی یومِ مادری زبان: یہ دن لسانی تنوع اور ہر قوم کے اپنی زبان اور ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے کے حق کا اعتراف کرتا ہے۔
عالمیّت کے اس دور میں بھی اسلام تنوع کو تقسیم نہیں بلکہ خدا کی حکمت اور نشانی سمجھتا ہے۔ زبانیں اور ثقافتیں انسانی شناخت کا حصہ ہیں اور ان کا احترام ایمان کا تقاضا ہے۔
آج کا پیغام: زبانوں اور ثقافتوں کو اختلاف نہیں بلکہ اللہ کی نشانیوں کے طور پر دیکھیں اور ان کا احترام کریں۔
خلاصہ یہ کہ تمام مناسبتیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اسلام محض ماضی کی یادگار نہیں، بلکہ ایک زندہ اور فعال رہنماہے، جو علم، عدل، وحدت اور انسانی وقار کی بنیاد پر معاشرہ تشکیل دینے میں ہماری مدد کرتاہے۔
جب ہم عصری چیلنجز کا جواب الٰہی اقدار کی روشنی میں دیتے ہیں، تو ہم اپنی برادریوں کو فکری پختگی، اخلاقی استحکام اور باوقار قیادت کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

