دلچسپ اورپر کشش واقعہ – جلد 03 شمارہ 16

Inspirational Tales - Volume 03 Issue 16

درخت، لغزش، انسانی زندگی کا  آغاز: حضرت آدمؑ کی داستان

زمین سے ماورا، اس وقت جب ہمارے  لئے زمان کا کوئی مفہوم نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ، پہلے انسان کو پیدا کیا اور فرشتوں سے فرمایا:
"میں زمین میں ایک خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں۔” (سورۂ بقرہ، آیت 30)

ابتدا ہی سے آدمؑ کی تقدیر زمین سے جڑی ہوئی تھی؛ یہ کسی ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک الٰہی منصوبے کا حصہ تھا۔ اللہ نے "تمام ناموں کا علم انہیں سکھایا(سورۂ بقرہ، آیت 31) ا ور انہیں ایسا علم عطا کیا جو فرشتوں کے پاس بھی نہ تھا۔ جب فرشتوں نے یہ دیکھا تو سب نے اطاعت میں سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے، جس نے تکبر کی بنا پر انکار کیا ۔(سورۂ بقرہ، آیت 34)

پھر اللہ نے فرمایا:
"اے آدم! تم اور تمہاری زوجہ جنت میں رہو اور جہاں سے چاہو کھاؤ، مگر اس درخت کے قریب نہ جانا، ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔” (سورۂ بقرہ، آیت 35)

آدمؑ اور حواؑ   پرسکون   زندگی گزار رہے تھے، یہاں تک کہ وسوسہ آیا۔ شیطان نے حکم نہیں دیا بلکہ فریب دیا:
"کیا میں تمہیں ہمیشہ رہنے والے درخت اور ایسی بادشاہی کی طرف رہنمائی نہ کروں جو کبھی ختم نہ ہو؟” (سورۂ طہ، آیت 120)

اور یوں انہوں نے اس درخت سے کھا لیا۔

قرآن اس لمحے کو نہایت سادہ مگر گہرے  انداز میں بیان کرتا ہے:
"پس دونوں نے اس میں سے کھایا تو ان پر ان کی شرمگاہیں ظاہر ہو گئیں” (سورۂ  اعراف، آیت 22)

لیکن اس کہانی کا مرکز لغزش نہیں بلکہ واپسی ہے:
"پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھے، تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی؛ بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔” (سورۂ بقرہ، آیت 37)

 شیعہ روایت میں یہ “کلمات” ایک گہرا مفہوم رکھتے ہیں: اللہ کی طرف رجوع اس کے محبوب بندوں، اہلِ بیتؑ کے وسیلے سے—ایسا راستہ جو توبہ کو کامل بناتا ہے اور بندے کو اپنے رب کے قریب کرتا ہے۔

اس کے باوجود، اللہ نے فرمایا:
"تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ پھر جب میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے، تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا، اس پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوگا۔”   (سورۂ بقرہ، آیت 38)

آدمؑ کو زمین پر بھیجا گیا؛ نہ کہ تنہا چھوڑا گیا، بلکہ ہدایت کے ساتھ۔ نہ کہ مردود کیا گیا، بلکہ معاف کیا گیا۔

ان کا زمین پر آنا ہماری کہانی کا آغاز تھا—ایک ایسی زندگی جس میں آزمائش، کوشش اور اللہ کی طرف واپسی شامل ہے۔

یہی اس داستان کا درس ہے:
پہلا انسان بھی لغزش کا شکار ہوا، مگر توبہ کے ذریعے بلند ہو گیا۔ دروازہ بند نہیں ہوا بلکہ مزید کھل گیا۔

پس جب بھی تم سے لغزش ہو، آدمؑ کو یاد کرو۔ واپسی کا راستہ ہمیشہ موجود ہے، اور اللہ ہر اس شخص کو قبول کرنے کے لئے تیار ہے جو اس کی طرف لوٹ آئے۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔