تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 16
وہ مسکراہٹ جس کی جڑ اخلاص میں تھی
کبھی ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کامیابی کا تعلق نام و نمود سے ہونا چاہیے؛ لوگوں کی تعریف اور مجمع میں پہچان سے۔ لیکن بعض خوبصورت ترین کامیابیاں خاموشی کی گہرائی میں اور بے ادعا مسکراہٹ کے ساتھ جنم لیتی ہیں؛ وہاں جہاں انسان خود کو پیچھے ہٹا لیتا ہے تاکہ “خدا کا کام” زیادہ نمایاں ہو۔
مرحوم شیخ عباس قمیؒ اپنی ایک یادداشت میں ایسے ہی ایک لمحے سے پردہ اٹھاتے ہیں؛ ایسا لمحہ جو شاید ہزاروں منبروں اور کتابوں سے زیادہ اثر رکھتا ہو۔
وہ بیان کرتے ہیں: ایک دن میں نے اپنی کتاب “منازل الآخرة” تازہ تازہ تالیف کر کے شائع کی تھی۔ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ اس کی ایک کاپی ایک بزرگ عالم، شیخ عبدالرزاق کے ہاتھ لگ گئی؛ وہی شخص جو روزانہ حضرت معصومہؑ کے حرم کے صحن میں بیٹھ کر لوگوں کو احکام اور نصیحتیں سنایا کرتے تھے۔
میرے والد، جو ایک سادہ اور مخلص انسان تھے، ان کے بڑے عقیدت مند تھے اور کبھی ان کی مجلس نہیں چھوڑتے تھے۔ چند دنوں سے وہ بزرگ عالم یہی کتاب کھول کر لوگوں کو اس میں سے بیان کر رہے تھے۔
ایک دن میرے والد بہت خوشی اور جوش کے ساتھ گھر لوٹے۔ ابھی تھکن بھی پوری طرح نہیں اتری تھی کہ خاص جذبے کے ساتھ مجھ سے کہنے لگے:
“شیخ عباس! کاش تم بھی اس شیخ عبدالرزاق جیسے ہوتے… دیکھو کیسی خوبصورت کتاب پڑھتے ہیں اور کیسے دلوں کو متاثر کرتے ہیں!”
اس لمحے میرا دل لرز اٹھا… ایک جملہ میرے لبوں تک آیا؛ ایک سادہ سا جملہ مگر "میں”سے بھرا ہوا: یہ کہہ دوں کہ "ابا جان! وہ کتاب میں نے ہی لکھی ہے…”۔ لیکن میرے اندر کچھ تھا جو خاموش رہنے کی دعوت دے رہا تھا۔
میں نے اپنے آپ سے کہا: کیوں اس پاکیزہ فضا کو خودنمائی سے آلودہ کروں؟ کیوں اس ہدایت کی لذت کو اپنے نام سے جوڑوں؟
میں نے سر جھکا لیا، مسکرا دیا اور نرمی سے کہا:
"ابا جان! دعا فرمائیے کہ اللہ ہمیں بھی ایک دن ایسی خدمت کی توفیق دے۔”
میرے والد نے اطمینان سے سر ہلایا، اور میں… خاموشی میں اپنی زندگی کے سب سے میٹھے لمحے کا تجربہ کر رہا تھا؛ وہ لمحہ جب میں نے سمجھا کہ کبھی نظر نہ آنا، سب سے خوبصورت نظر آنا ہوتا ہے۔
اس دن “منازل الآخرة” میرے نام سے نہیں بلکہ اخلاص کے ساتھ دلوں میں جگہ بنا گئی۔ اور میں نے سیکھ لیا کہ اگر کام خدا کے لئے ہو، تو خدا خود اسے منزل تک پہنچا دیتا ہے۔
اس تبلیغی تجربے کے اسباق
1۔ اخلاص، اثراندازی کی اصل روح ہے: اگر مقصد لوگوں کی ہدایت ہو نہ کہ شہرت، تو انسان کا کام بغیر نام کے بھی دلوں میں اتر جاتا ہے۔ جو چیز باقی رہتی ہے وہ "نام” نہیں بلکہ "نیت” ہے۔
2۔ تواضع، علم اور تبلیغ کی زینت ہے: حقیقی عالم اپنے علم کو برتری کا ذریعہ نہیں بناتا۔ بعض اوقات عاجزانہ خاموشی ہزاروں تعارف اور اظہار سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔
3۔ خدا کی خاطر گمنام رہنا، اس کے نزدیک عزت کا سبب بنتا ہے: ایسے زمانے میں جب ہر کوئی نظر آنا چاہتا ہے، یہ تجربہ یاد دلاتا ہے کہ کبھی مخلوق میں پوشیدہ رہنا، انسان کو خالق کے حضور زیادہ بلند کر دیتا ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

