تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 09

Religious Outreach Experiences - Volume 03 Issue 09
Last Updated: فروری 26, 2026By Categories: تبلیغی تجربے0 Comments on تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 090 min readViews: 38

جب چند میٹر کا فاصلہ، کئی برسوں کا سبق بن گیا۔

تبلیغی سفر میرے لئے  کبھی محض جغرافیائی نقل و حرکت نہیں رہے؛  بلکہ ہر سفر فہم اور نگاہ کی تبدیلی  کا سبب بھی ہوتا  رہا۔ انہی سفروں میں سے ایک، جس کی تصویر آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے، میکسیکو کا سفر تھا۔

اس ملک کے شمالی حصے کے ایک شہر میں، جو امریکہ کی سرحد سے زیادہ دور نہ تھا، اُس علاقے میں واحد شیعہ مسجد واقع تھی؛ ایک چھوٹی، پُرسکون اور کسی حد تک گمنام مسجد۔ مستقل روحانی کی عدم موجودگی کے باعث ہفتے کے اکثر دن اس کے دروازے بند رہتے تھے اور صرف اتوار کے دن غیر مسلم طلبہ کو اسلام سے متعارف کرانے کے مختصر پروگرام کے لئے  کھلتے تھے۔ یہ پروگرام چند دوستوں کی کوششوں سے چلتا تھا، جو دینی معارف کا محدود علم رکھتے تھے۔

جب میں اس مسجد میں داخل ہوا تو ایک عجیب احساس دل میں تھا؛ اجنبیت کا بھی اور امید کا بھی۔ ہم نے پہلی نمازِ جماعت کم سے کم افراد کے ساتھ ادا کی؛ ایک چھوٹا مگر شوق رکھنے والا مجمع۔ روحانی کی آمد اور جماعت کے قیام کی خبر آہستہ آہستہ شہر کے شیعوں میں پھیل گئی۔ روز بروز تعداد بڑھنے لگی۔ ظہر و عصر، مغرب و عشاء… صفیں آہستہ آہستہ بننے لگیں۔ جو مسجد اکثر خاموش رہتی تھی، اب سانس لینے لگی تھی۔

ایک رات پروگرام کے اختتام کے بعد ہم چند مسجدی دوست بیٹھے اسی نئی رونق پر گفتگو کر رہے تھے۔ ایک دوست نے اپنا موبائل نکالا اور اُس رات کی نمازِ جماعت کی تصویر دکھائی۔ میں نے مسکرا کر تصویر کو دیکھا؛ مگر وہ مسکراہٹ چند لمحوں سے زیادہ برقرار نہ رہ سکی۔

تصویر میں ایک منظر ایسا تھا جس نے مجھے حیران بھی کیا اور قدرے رنجیدہ بھی۔ خواتین کی صف مردوں کی صف سے غیر معمولی اور نمایاں فاصلے پر قائم تھی؛ ایک ایسا فاصلہ جو عرفاً مناسب نہ تھا۔

میں نے اُن دوستوں سے، جو ہر رات میرے پیچھے نماز پڑھتے تھے، پوچھا:
“کیا یہ فاصلہ ہر رات اتنا ہی ہوتا ہے یا صرف آج ایسا ہوا ہے؟”

انہوں نے پورے اعتماد سے جواب دیا:
“نہیں، ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ جیسے آپ نے فرمایا تھا کہ خواتین کی صف مردوں کے پیچھے ہونی چاہئے ، یہ بھی مردوں کے پیچھے ہی کھڑی ہیں۔”

ظاہراً جواب درست تھا، مگر باطناً ایک اہم نکتہ اس میں پوشیدہ تھا۔ انہوں نے شرعی مسئلےکا اصل سنا تھا، مگر اس کے نفاذ کی باریکی نہیں جانتے تھے۔ “پیچھے ہونا” سمجھ لیا تھا، لیکن “صفوں کا اتصال” اور “غیر متعارف فاصلے سے اجتناب” نہیں سمجھ سکے تھے۔

اسی لمحے میرے ذہن میں ایک چنگاری روشن ہوئی۔
“دین کی تبلیغ میں، خصوصاً جب مخاطب نو مسلم ہو یا کم علمی کا حامل مسلمان ہو، تو  لوگوں کے ممکنہ علم پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا۔ حتیٰ کہ نماز جیسے ابتدائی احکام بھی دقیق، عملی اور باریکیوں کے ساتھ تعلیم کے محتاج ہیں۔”

اس رات میں نے اُن لوگوں پر اعتماد کیا تھا جو صفوں میں نمایاں طور پر موجود تھے۔ میرا گمان تھا کہ اگر کوئی اشکال ہو گا تو وہ ضرور متنبہ کریں گے۔ مگر میں اس سے غافل تھا کہ یا تو انہیں خود اس مسئلے کا مکمل شعور نہ تھا، یا وہ اس سلسلے میں اپنے آپ کو ذمہ دار نہیں سمجھتے تھے۔

مجھے رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت یاد آئی، جب آپ نماز کی تعلیم میں صرف الفاظ پر اکتفا نہیں کرتے تھے۔ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے اور فرماتے:

صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي
“نماز ایسے پڑھو جیسے تم مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔”

اسلام میں تعلیم صرف معلومات کی منتقلی نہیں؛ یہ “طریقے” کی منتقلی ہے، “دقت” کی منتقلی ہے، اور عمل کی صحت کے بارے میں حساسیت پیدا کرنے کا نام ہے۔

اگلے دن نماز سے پہلے میں نے نہایت پُرسکون اور دوستانہ لہجے میں صفوں کے اتصال کا نکتہ بیان کیا۔ نہ ڈانٹ، نہ سرزنش؛ بلکہ یہ سمجھاتے ہوئے کہ نمازِ جماعت کی خوبصورتی دلوں اور صفوں کے جڑنے میں ہے۔

وہ تصویر میرے لئے  محض ایک تصویر نہیں تھی؛ ایک پائیدار سبق تھی۔ ایک ایسا سبق جس نے مجھے سکھایا کہ تبلیغ میں کوئی چیز “بدیہی” فرض نہیں کی جا سکتی—حتیٰ کہ سب سے بدیہی مسائل بھی نہیں۔

کبھی کبھی دو صفوں کے درمیان چند میٹر کا فاصلہ انسان کو کئی برسوں کے تجربے کے برابر اپنی ذمہ داری کا احساس دلا دیتا ہے۔

اس تبلیغی تجربے کے تین اسباق:

1۔ مخاطب کے ظاہری علم پر اکتفا نہ کرنا۔

نو مسلم یا کم علمی رکھنے والے مخاطبین کے ساتھ سابقہ معلومات یا اردگرد کے لوگوں کے علم پر انحصار نہیں کرنا چاہئے ۔ بنیادی احکام کی تعلیم دقت، وضاحت اور تکرار کی محتاج ہے۔

2۔ عملی تعلیم، محض گفتاری تعلیم سے زیادہ مؤثر ہے۔

جیسے رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے عمل سے نماز کی تعلیم دی، ویسے ہی تبلیغ میں صحیح طریقہ عملی طور پر دکھانا، صرف عمومی باتیں بیان کرنے سے کہیں زیادہ کارآمد ہے۔

3۔اجتماعی ذمہ داری کا شعور پیدا کرنا ضروری ہے۔

صرف پہلی صف میں کھڑا ہونا فضیلت نہیں؛ اجتماعی عبادت کی صحت کے بارے میں آگاہی اور احساسِ ذمہ داری اس سے بڑھ کر فضیلت ہے۔ دینی معاشرے میں ہر فرد کو خود کو عبادتِ جمع کی درستی کا محافظ سمجھنا چاہئے ۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔