دلچسپ اورپر کشش واقعہ – جلد 03 شمارہ 13

Inspirational Tales - Volume 03 Issue 13

اُحد کا میدان؛ اطاعت اور وفاداری کا امتحان

اُحد کے میدان پر سورج طلوع ہوا، اور اس کی روشنی ایک خاموش تنبیہ کی طرح پہاڑوں پر پھیل گئی۔ مؤمن مضبوطی سے کھڑے تھے؛ ان کے دل پُرعزم تھے اور نگاہیں رسولِ خدا ﷺ پر جمی ہوئی تھیں۔ ان میں ایسے مرد بھی تھے جن کا ایمان فولاد سے زیادہ مضبوط تھا، اور ایسے نوجوان بھی جن کی شجاعت ان کی عمر سے کہیں بڑھ کر تھی۔

ابتدا میں فتح یقینی دکھائی دیتی تھی۔ دشمن پسپا ہونے لگا؛ ان کی صفیں ٹوٹ گئیں اور مؤمنوں کی استقامت کے سامنے ان کی طاقت بکھر گئی۔ تیر انداز، جنہیں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے پہاڑی پر مقرر کیا گیا تھا، ان کے لئے ایک واضح حکم تھا:
"اپنی جگہ ہرگز نہ چھوڑنا، چاہے تم کچھ بھی دیکھو۔"
لیکن دنیا فریب دے سکتی ہے۔

جب دشمن بھاگا، تو بعض تیر اندازوں نے نیچے دیکھا اور میدان میں پھیلا ہوا ،مال غنیمت  آنکھوں میں چمکنے لگا۔ فتح مکمل محسوس ہو رہی تھی۔ ان کے دل میں خیال آیا: شاید جنگ ختم ہو چکی ہے… شاید ہمیں جا کر اللہ کی دی ہوئی نعمتیں سمیٹ لینی چاہئیں۔
ایک لمحے کی غفلت … تاریخ کا رخ بدلنے کا سبب بن گئ۔

اکثر نے اپنی جگہ چھوڑ دی۔ اور اسی خلا میں دشمن نے موقع پا لیا۔ خالد بن ولید — جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھا — کی قیادت میں سوار دستہ پہاڑ کے پیچھے سے گھوم کر آیا۔ جیسے کوئی طوفان اچانک پلٹ آئے، انہوں نے پیچھےسے حملہ کر دیا۔ انتشار پھیل گیا۔ صفیں بکھر گئیں۔ وہ مؤمن جو کچھ لمحے پہلے فتح کے مقام پر تھے، اب خود کو  دشمن کےگھیرے میں پانے لگے۔

اسی ہنگامے میں ایک آواز گونجی:
"محمد ﷺ شہید ہو گئے!”
دل کانپ اٹھے۔ کچھ لوگوں نے غم میں ہتھیار  پھینک دئے۔ کچھ حیرت میں کھڑے رہ گئے، یہ نہ سمجھ سکے کہ اب کس کے لئے لڑیں۔
لیکن کچھ ایسے بھی تھے جو ثابت قدم رہے؛ ان کا ایمان فتح سے وابستہ نہیں تھا، بلکہ حقیقت سے جڑا ہوا تھا۔  اور وہ علی بن ابی طالبؑ تھے۔

وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑے رہے، ان کا دفاع کرتے رہے، اور ہر آنے والے حملہ آور کو روکتے رہے۔ ایک کے بعد ایک وار، انہوں نے رسول خدا ﷺ کی حفاظت کی، یہاں تک کہ جب دوسرے منتشر ہو چکے تھے۔ ان کی تلوار اٹھتی اور گرتی تھی — نہ شہرت کے لئے، نہ غنیمت کی خاطر — بلکہ خالص وفاداری  کی بنا پر۔

رسول اکرم ﷺ زخمی ہو گئے۔ ان کے مبارک چہرے سے خون بہہ رہا تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے دشمن کو بددعا نہ دی؛ بلکہ ہاتھ اٹھا کر ان کی ہدایت کی دعا کی۔

جنگِ اُحد، بدر جیسی فتح نہ تھی… لیکن اس سے کہیں بڑھ کر تھی۔
یہ ایک درس تھا۔

ایک ایسا درس کہ اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت مشروط نہیں ہوتی۔ بلکہ  مکمل اور مطلق  ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ
ایک لمحے کی نافرمانی ایک پوری امت کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ اور یہ کہ ایمان آسائش  و آرام میں ثابت نہیں ہوتا، بلکہ  خطرناک حالات میں،  نقصان اور خوف کے درمیان اپنا حقیقی  چہرہ دکھاتاہے۔

اور سب سے بڑھ کر، یہ کہحقیقی وفاداری وہ ہے جو اُس وقت بھی قائم ر ہے، جب پوری دنیا بکھر  آپ کو اکیلا کردے۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔