دلچسپ اورپر کشش واقعہ – جلد 03 شمارہ 11

Inspirational Tales - Volume 03 Issue 11

امام علیؑ کی شہادت کی رات جیسی رات کوفہ وا لوں   نے پھر دیکھی ۔

ایک بھاری خاموشی پورے شہر پر چھا گئی تھی۔ وہ گلیاں جن میں کبھی امیرالمؤمنینؑ کے قدموں کی آہٹ گونجتی تھی، اب اس قدر سنسان لگتی تھیں گویا پوری دنیا ہی سوگ میں ڈوب گئی ہو۔ مرد آہستہ آہستہ چل رہے تھے اور ان کے سر جھکے ہوئے تھے۔ عورتیں اپنے گھروں میں خاموشی سے آنسو بہا رہی تھیں۔ حتیٰ کہ بچے بھی محسوس کر رہے تھے کہ کوئی بہت بڑی چیز،   ان سے کھو گئی ہے۔

چند ہی گھنٹے پہلے ایک خبر طوفان کی طرح شہر میں پھیل گئی تھی: امام علیؑ مسجد میں نماز کے دوران ضربت کھا گئے   اور وہ زخم انہیں اس دنیا سے لے گیا ۔ وہ ہستی جو رات کی تاریکی میں محتاجوں تک کھانا پہنچاتی تھی، جو بیواؤں اور یتیموں کے لئے آٹے کی بوریاں اپنے کندھوں پر اٹھا کر لے جاتی تھی، جس کا عدل و انصاف ظالموں کو لرزہ براندام کر دیتا تھا —اب وہ ہستی لوگوں کے درمیان موجود نہ تھی۔

شہر کے کنارے ایک چھوٹے سے گھر میں ایک بیوہ عورت اپنے کمسن بیٹے کے ساتھ رہتی تھی۔ کئی سالوں سے ایک نامعلوم شخص دیر رات ان کے دروازے پر آتا تھا۔ وہ دروازے کے پاس روٹی اور کھجور کی ایک تھیلی، کبھی آٹا اور کبھی تیل رکھ جاتا تھا۔ وہ کبھی شکریہ نہیں چاہتا تھا اور نہ ہی کبھی اپنا نام بتاتا تھا۔ وہ عورت اور اس کا بیٹا اسے صرف ایک مہربان انسان کے طور پر جانتے تھے۔

اس رات لڑکا دروازے کے پاس بیٹھا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے آہستہ سے پوچھا:
"امّاں، ہمارے مہمان ابھی تک کیوں نہیں آئے؟”
بچے کی ماں نے اپنے آنسو پونچھے اور مسکرانے کی کوشش کی۔ اس نے کہا:
"شاید آج رات وہ دیر سے آئیں۔”
مگر گھنٹے گزرتے گئے اور دروازے پرخاموشی ہی  چھائی رہی۔

اگلی صبح شہر کے لوگ غم میں اکٹھے ہوئے۔ جب وہ امام علیؑ کے جنازے کی تیاری کر رہے تھے تو کوفہ کے غریبوں کے درمیان سرگوشیاں ہونے لگیں۔ بیوائیں ایک دوسرے سے بات کر رہی تھیں اور یتیم حیران چہروں کے ساتھ اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔ ایک نے کہا:
"وہ آدمی جو ہمیشہ ہماری مدد کرتا تھا، کل رات نہیں آیا۔”
دوسری نے کہا:
"ہمارے پاس بھی نہیں آیا۔”
آہستہ آہستہ حقیقت ان پر آشکار ہونے لگی۔

جب امام علیؑ کے جسدِ مبارک کو غسل دیا جا رہا تھا تو ان کے ساتھیوں نے ایک حیران کن چیز دیکھی۔ آپؑ کے مبارک کندھوں پر گہرے نشانات موجود تھے؛ ایسے نشانات جو برسوں تک بھاری بوجھ اٹھانے سے پڑ گئے تھے۔ لوگوں نے ان کے فرزندوں، امام حسنؑ اور امام حسینؑ سے ان نشانات کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے آنکھوں سے آنسو ل بہاتے ہوئے جواب دیا:
"یہ ان تھیلوں کے نشانات ہیں جو ہمارے والد راتوں کو غریبوں کے گھروں تک کھانا پہنچانے کے لئے اپنے کندھوں پر اٹھا کر لے جایاکرتے تھے۔”

اسی لمحے کوفہ کی بیواؤں اور یتیموں کو حقیقت سمجھ میں آ گئی۔

وہ نامعلوم شخص جو برسوں ان کی خبرگیری کرتا رہا تھا، کوئی اور نہیں بلکہ امام علیؑ تھے۔

شہر مزید گریہ و زاری میں ڈوب گیا۔ مگر آپؑ کی شہادت ایک عظیم درس چھوڑ گئی:
حقیقی قیادت طاقت اور عہدوں میں نہیں ہوتی؛ اصل عظمت خدمت، عاجزی اور محتاجوں کی خبرگیری میں ہے۔

اور اگرچہ امام علیؑ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کا نمونہ ہمیشہ زندہ رہے گا اور ہر اس مؤمن کے لئے راستہ روشن کرے گا جو عدل، مہربانی اور ایمان کے راستے پر چلنا چاہتا ہے۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔