موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 15

Topic of the Week - Volume 03 Issue 15
Last Updated: اپریل 12, 2026By Categories: موضوعِ ہفتہ0 Comments on موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 150 min readViews: 2

امام صادقؑ اور نوجوان؛ اُمت کے مستقبل کی تعمیر

سید ہاشم موسوی

تمہید

امام جعفر صادقؑ کی شہادت کے غمگین ایام کے قریب آتے ہی، ایک بار پھر اس عظیم امام کی علمی، تربیتی اور سماجی سیرت کی طرف توجہ مبذول ہوتی ہے۔ وہ ہستی جس نے اسلام کی تاریخ کے نہایت پیچیدہ دور میں ایک علمی اور تمدنی تحریک کی بنیاد رکھی اور ایک ایسا مکتب قائم کیا جو آج تک اسلامی معاشروں کے لئے الہام بخش ہے۔

آپؑ کا دورِ امامت فکری اور ثقافتی ہنگامہ خیزی کا زمانہ تھا؛ ایسا دور جس میں مختلف مکاتبِ فکر اور گمراہ کن گروہ جیسے “غُلات”، “مرجئہ” اور “زنادقہ” سرگرم  عمل تھے اور ایک قسم کی "نرم تمدنی جنگ” جاری تھی۔ ایسے ماحول میں امام صادقؑ نے ایک اسٹریٹجک نظر کے ساتھ "نوجوان” کو ثقافتی  تحریک کا محور قرار دیا۔ آپؑ نے بخوبی سمجھ لیا تھا کہ نوجوان کا ذہن، بہت سے بزرگوں کے برعکس، جمود اور پختہ تعصبات سے کم متاثر ہوتا ہے اور حق کو قبول کرنے کے لیے زیادہ آمادہ ہوتا ہے۔ اسی لئے آپؑ نے اپنی علمی و تربیتی تحریک کو نوجوان نسل کی تازگی اور استعداد پر استوار فرمایا۔

یہ فکر قرآن کریم کی تعلیمات  سے اخذ کی گئی ہے، جہاں جوانی کو انسانی صلاحیتوں کے عروج کا دور قرار دیا گیا ہے:
"لَمّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوی آتَیْناهُ حُکْمًا وَعِلْمًا”
"اور جب (یوسفؑ)  اپنی کامل قوت کو پہنچے تو ہم نے انہیں حکمت اور علم عطا کیا۔”

(یوسف: 22)

اور اس کی تفسیر میں امام صادقؑ نے  جوانی کے دور کو، انسان کے فکری بلوغ اور حکمت حاصل کرنے کا بہترین  دور قرار دیا ہے۔
اسی بنیاد پر آپؑ نے اپنے ایک  شاگردسے فرمایا:

عَلیکَ بِالأَحْداثِ فَإنّهُم أَسْرَعُ إلى کُلِّ خَیرٍ
"نوجوانوں کا ساتھ اختیار کرو، کیونکہ وہ ہر خیر کو جلدی قبول کرتے ہیں۔”

(بحار الانوار- ج ۲۳- ص ۲۳۶)

یہ مقالہ اسی تربیتی نقطۂنظر کا تجزیہ پیش کرتا ہے اور  اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آج کے دور میں بھی یہ فکر نوجوان نسل کے فکری و ثقافتی چیلنجز کا حل فراہم کر سکتی ہے۔

 نوجوان اور عبادت؛  روحانی ترقی کا سنہرا  دور

نوجوانی وہ زمانہ ہے جب انسان توانائی، جذبہ اور روحانی صلاحیتوں کے عروج پر ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ دور شخصیت کی روحانی بنیاد رکھنے کا بہترین موقع ہے۔

پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں:

"إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُبَاهِي بِالشَّابِّ الْعَابِدِ الْمَلَائِكَةَ”
"اللہ تعالیٰ عبادت گزار نوجوان پر فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے۔” (کنز العمّال، ج 15، ص 776، حدیث نمبر 43057)

امام صادقؑ بھی فرماتے ہیں:
"إِنَّ أَحَبَّ اَلْخَلاَئِقِ إِلَى اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ شَابٌّ حَدَثُ اَلسِّنِّ فِي صُورَةٍ حَسَنَةٍ جَعَلَ شَبَابَهُ وَ جَمَالَهُ لِلَّهِ وَ فِي طَاعَتِهِ (میزان الحکمه، ج ۵)

"اللہ کے نزدیک سب سے محبوب وہ نوجوان ہے جو اپنی جوانی اور خوبصورتی کو اللہ کی اطاعت میں صرف کرے۔”

یہ احادیث ظاہر کرتی ہیں کہ نوجوانی کی عبادت کی قدر اس لیے زیادہ ہے کہ یہ نفس کی خواہشات پر غلبہ کے ساتھ انجام پاتی ہے۔

مزید فرمایا:

مَنْ عَرَفَ اَللَّهَ فِي شَبَابِهِ لَمْ يَخْذُلْهُ عِنْدَ هَرَمِهِ”
"جو جوانی میں اللہ کو پہچان لے، اللہ اسے بڑھاپے میں تنہا نہیں چھوڑتا۔”

اہم بات یہ ہے کہ امام صادقؑ عبادت کو محض گوشہ نشینی نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے ایک “عقلانی عبادت” اور “روحانی مجاہدہ” قرار دیتے تھے—ایسی عبادت جو انسان کو معاشرتی ذمہ داریوں کے لئے تیار کرے۔

دوسرے لفظوں میں، نوجوان کے طویل سجدے ،  اسے طاغوتی طاقتوں کے مقابلے میں استقامت اور حق کے راستے پر ثابت قدمی تک پہنچنے کا ذریعہ بنیں، نہ  کہ اس کی کمزوری اور معاشرے سے کنارہ کشی کا سبب بنیں۔

امامؑ کی اپنی سیرت میں بھی ایک نہایت لطیف نکتہ پایا جاتا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں:
"میں اپنی جوانی میں بہت عبادت کیا کرتا تھا، تو میرے والد نے مجھ سے فرمایا: اس میں کچھ کمی کرو؛ کیونکہ اگر خدا کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو وہ اس کی کم عبادت پر بھی راضی ہو جاتا ہے۔”

یہ روایت ایک اہم تربیتی اصول کو واضح کرتی ہے:

"نوجوانی کی عبادت توازن، تسلسل اور گہرائی کے ساتھ ہونی چاہیے، نہ کہ صرف ظاہری افراط کے ساتھ۔”

حقیقت میں وہی عبادت قیمتی ہے جو ایک طرف روح کی تربیت کرے اور دوسری طرف انسان کو زندگی کے میدان میں مؤثر کردار ادا کرنے اور سماجی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے تیار کرے۔

نوجوان اور تعلیم؛ متخصص عملےکی  تعمیر

امام صادقؑ کی سب سے بڑی ترجیحات میں نوجوانوں کی علمی تربیت شامل تھی۔ آپؑ کے علمی مکتب میں ہزاروں شاگرد تربیت پائے۔

آپؑ فرماتے ہیں:

"لَسْتُ أُحِبُّ أَنْ أَرَى اَلشَّابَّ مِنْكُمْ إِلاَّ غَادِياً فِي حَالَيْنِ: إِمَّا عَالِماً أَوْ مُتَعَلِّماً”
"میں تمہارے نوجوانوں کو صرف دو حالتوں کے سوا  کسی تیسری حالت میں نہیں دیکھنا چاہتا: یا عالم ہو یا طالب علم۔”

(امالی طوسی، ص 664)

اور ایک اور جگہ پر فرمایا:

"لَوْ أُتِيتُ بِشَابٍّ مِنْ شَبَابِ اَلشِّيعَةِ لاَ يَتَفَقَّهُ فِي اَلدِّينِ لَأَوْجَعْتُهُ”

"اگر کسی ایسے شیعہ نوجوان کو  میرے پاس لایا جائے، جودین کی گہری سمجھ حاصل نہیں کرتاہے ،تو میں اسے سختی سے تنبیہ کروں گا۔” (المحاسن، ج ۱)۔

یہ ایک تمدنی فکر کا نمونہ ہے۔ کیونکہ بغیر بصیرت کے معاشرہ آسانی سے انحراف کا شکار ہو جاتا ہے۔

امامؑ کا طریقہ صرف تعلیم نہیں بلکہ متخصص افراد  کی تربیت  تھی تھا—ہر نوجوان کو اس کی صلاحیت کے مطابق ، اس کے پسندیدہ میدان  میں  ماہر  بنانا ۔ مثال کے طور پر  ہشام بن  حکم ہیں ، جنہیں آپ نے  جوانی  میں  مناظر ے کا  متخصص بنایا اور فرمایا:

"هذا ناصِرُنا بِقَلْبِهِ وَ لِسانِهِ وَ یَدِهِ”

"یہ نوجوان ہمارے دل، زبان اور عمل سے(  ہمارے مکتب کا)مددگار ہے۔”

(الکافی- ج ۲- ص ۲۱۹)

یہ اس بات کی علامت ہے کہ امامؑ نوجوانوں کو سماجی اور سیاسی شناخت بھی  عطا فرمایا کرتے تھے۔

اسی لئے  آپؑ  فرمایا کرتے تھے :

"بادروا أحداثکم بالحدیث قبل أن یسبقکم إلیهم المرجئة”

"اپنے نوجوانوں کو جلد اہل بیتؑ کی تعلیمات سے آشنا کرو، اس سے پہلے کہ دوسرے ان پر اثر انداز ہوں۔”

(الکافی- ج ۶- ص ۴۷)

یہ "پیشگی تربیت” کا اصول ہے، نہ کہ ردِعمل والی تربیت۔

 نوجوان اور ادب؛ سماجی شخصیت کی بنیاد

تربیت میں “ادب” بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ امام صادقؑ فرماتے ہیں:

"إِنَّ خَيْرَ مَا وَرَّثَ اَلآْبَاءُ لِأَبْنَائِهِمُ اَلأَدَبُ لاَ اَلْمَالُ”
"والدین اپنے بچوں کو جو سب سے بہترین میراث دے سکتے ہیں، وہ  ادب  سکھانا ہوتا ہے، نہ کہ مال و دولت چھوڑجانا۔”(کافی، ج ۸)

امام علیہ السلام  کی نظر میں ، ادب، ایک  متوازن  اخلاقی نظام  ہے،  جس کے سبب ، چھوٹوں  اور  بڑوں  کے درمیان  توازن برقرار  رہتا ہے ۔ چنانچہ آپؑ  نے فرمایا:

"ليَسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرْ كَبِيرَنَا وَ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا”

"وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر رحم نہ کرے۔”(کافی، ج ۲)

اہل بیتؑ کی سیرت میں بھی اس طرح کا متوازن ادب نمایاں نظرآتاہے۔

روایت  میں ہے کہ امام حسینؑ، امام حسنؑ کی موجودگی میں کبھی آگے نہیں بڑھتے تھے اور بغیر اجازت گفتگو نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح رسولِ اکرم ﷺ نے جب ایک نوجوان کو بزرگ سے پہلے بولتے دیکھا تو فرمایا: الکبیر، الکبیر یعنی حقِ تقدّم بزرگ کو ہے۔

یہ تعلیمات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ ادب سماجی قبولیت اور انسانی ترقی کی بنیاد ہے، اور اسے انسان کے وجود میں نوجوانی ہی سے راسخ کیا جانا چاہیے۔

 نوجوان اور قرآن؛ انحراف سے حفاظت

نوجوانوں کی تربیت کا سب سے اہم ذریعہ قرآن سے تعلق ہے۔قرآن نہ صرف ہدایت کی کتاب ہے بلکہ انسان کی شناخت کا  ایک بنیادی ذریعہ بھی ہے۔ اسی حوالے سے امام صادقؑ کا ایک نہایت گہرا بیان موجود ہے، جو نوجوان کے قرآن کے ساتھ جسمانی اور روحانی تعلق کی بہترین تعبیر کے مترادف ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں:

"مَنْ قَرَأَ اَلْقُرْآنَ وَ هُوَ شَابٌّ مُؤْمِنٌ اِخْتَلَطَ اَلْقُرْآنُ بِلَحْمِهِ وَ دَمِهِ؛”
"جو نوجوان ایمان کے ساتھ قرآن پڑھتا ہے، قرآن اس کے گوشت اور خون میں رچ بس جاتا ہے۔”

یہ ایک گہرا بیان ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ نوجوانی میں شخصیت ابھی تشکیل پا رہی ہوتی ہے اور قرآن اس میں گہرائی سے اثر انداز ہو سکتا ہے۔

قرآن بھی فرماتا ہے:
"إِنَّهُمْ فِتْیَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى”
“وہ نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا۔” (کہف: 13)

لہٰذا نوجوانی میں قرآن سے تعلق ، اپنی”پہچان”  بناتاہے، نصرف عبادت کا  سبب  ہی نہیں بنتا ہے۔

خلاصۂ کلام:  امام صادقؑ کی نظر میں نوجوان، تبدیلی کا محور

امام جعفر صادقؑ کی سیرت سے واضح ہوتا ہے کہ آپؑ نوجوان کو مسئلہ نہیں بلکہ ایک “اسٹریٹجک موقع” سمجھتے تھے۔

آپؑ کا تربیتی ماڈل چار ستونوں پر قائم ہے:

  1. روحانی تقویت کے لئے بامقصد عبادت
  2. عقل کی  بلندگی کے لئےعمیق تعلیمی مہارت
  3. تعلقات میں توازن پیدا کرنے کے لئے سماجی ادب
  4. اپنی شناخت  بنانے اور اس کو بچائے رکھنے کے لئےقرآن سے مضبوط تعلق

آج کے دور میں بھی اگر اسلامی معاشرہ ترقی اور شناخت سازی چاہتا ہے تو اسے اسی فکر کو زندہ کرنا ہوگا—ایسی فکر جو نوجوان کو علم، ایمان اور بصیرت سے آراستہ ہو۔

آخری  بات  یہ  کہامام صادقؑ کی یاد صرف سوگ منانے تک محدود نہیں ہونی چاہئے، بلکہ ان کی تربیتی تعلیمات کو زندہ کرنا اور نوجوان نسل کو ان کی ذمہ داریوں سے آشنا کرنا  ہی حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔