فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 15

Fatwa Panel of the Week - Volume 03 Issue 15
Last Updated: اپریل 12, 2026By Categories: فتویٰ پینل0 Comments on فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 150 min readViews: 3

مراجعِ عظامِ تقلید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی اور آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (دام عزّہم العالی) کے فتوؤں کے مطابق۔

ضروری وضاحت: یہاں پر لکھے ہوئے فتوے،  ان تین معزز مراجع کے درمیان مشترک فتوے ہیں۔ اور جس مسئلے میں کسی مرجع کا فتویٰ باقی مراجع سے مختلف ہو، تو  اسے اس مرجع کے نام کے ساتھ  الگ لکھا گیا ہے۔

نوٹ: اس پینل میں مسائل کا ذکر (بلا اختلاف یا حوالہ کےساتھ )
جومسائل بغیر کسی مخالف رائے یا خاص حوالہ کے ذکر کئے گئے ہیں، وہ تینوں بزرگ مراجع کے مشترک فتاوی ہیں۔ اور جہاں کسی ایک مرجع کا فتویٰ دوسرے دو سے مختلف ہو، وہاں اسی نمبر کے تحت  اس  مرجع کےنام کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔

متعدد  وطن (ایک سے زیادہ وطن رکھنا)

 تعددِ وطن (ایک سے زیادہ وطن رکھنا)

  •  سر دست دو یا تین  مختلف وطن رکھنا جائز ہے؛ یعنی انسان ان میں سے کسی  جگہ گھر اور رہائش رکھتا ہو اور سال کے دوران ہر ایک میں کچھ مہینے قیام  بھی کرے، تو وہ. جگہ، اس کا. وطن کہلاتا ہے۔
  • لیکن  ایک وقت میں تین سے زیادہ   وطن رکھنا محلِ اشکال ہے۔
  • اگر کوئی شخص طویل مدت (یا ہمیشہ کے لئے) کسی جگہ چند مہینے (مثلاً 3 یا 4 ماہ) رہنے کا ارادہ کرے تو:
  • اگر وہاں رہائش کے وسائل (جیسے گھر) بھی فراہم کرے تو عرف کے مطابق وہ   اسکا دوسرا وطن شمار ہوگا۔
  • لیکن اگر صرف تفریح (مثلاً سیاحت) کے لئے جائے اور رہائش کا انتظام نہ کرے تو اسے وطن کہنا مشکل ہے۔
  • متعدد وطن  بنانےکے لئے قیام کی مدت  کا برابر ہونا ضروری نہیں:
  • مثال کے طور پر:
    • دو وطن والا: ایک میں 5 ماہ، دوسرے میں 7 ماہ رہائش پذیر ہو۔
    • تین وطن والا: ایک میں 4 ماہ، دوسرے میں 3 ماہ، تیسرے میں چند ماہ رہائش پذیر ہو۔

ان تمام صورتوں میں وطن کے احکام جاری ہوں گے۔

  • آیت اللہ سیستانی: اگر کوئی شخص دو سے زیادہ مقامات کو اپنی رہائش کے لیے اختیار کرے تو وہ سب اس کے وطن شمار ہوں گے۔ معیار یہ ہے کہ عرفاً اسے وہاں رہنے والا کہا جائے، نہ کہ  رہائش کی  مدت  کامساوی تقسیم کرنا۔
  • آیت اللہ مکارم شیرازی: انسان کے دو یا تین وطن ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ہر جگہ اتنا قیام کرے کہ عرفاً وہ اس کی رہائش گاہ سمجھی جائے (مثلاً سال میں تقریباً 4 ماہ)۔

وطن کے احکام میں کسی کے تابع ہونا  (تابعی وطن)

وطن  کے احکام میں  کسی کے تابع ہونا، ایک عرفی مسئلہ ہے؛ یعنی جو شخص کسی کا تابع ہو، اس کا وطن بھی اسی کے تابع ہوگا۔

  • اہم مثال:
  • وہ اولاد جو اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہو، والدین کا وطن، ان کا بھی وطن شمار ہوگا۔
  • یہ حکم صرف اولاد تک محدود نہیں بلکہ :
  • بیوی (اگر شوہر کے ساتھ مستقل رہتی ہو)۔
  • خادم یا وہ شخص جو کسی کے ساتھ مستقل رہتا ہو۔
  • اس قسم کے وطن کے تحقق کے لئے:
  • مستقل نیت ضروری نہیں
  • صرف ساتھ رہنا کافی ہے، چاہے اس بات پر توجہ نہ بھی ہو۔
  • شرط یہ ہے کہ ترکِ وطن کا ارادہ نہ کیا ہو۔

اصلی اور اتخاذی وطن اور تابعی وطن میں فرق

اصلی اور اتخاذی وطن اور تابعی وطن میں فرق + اولاد کے احکام

  •  وطن کے احکام میں کسی کے تابع ہونے کا مسئلہ ،صرف اتخاذی وطن  میںپیش آتاہے، وطنِ اصلی میں نہیں۔
  • مثال:
  • اگر کوئی شخص بچپن سے کسی جگہ پلا بڑھا ہو، وہ اس کا وطنِ اصلی ہے، چاہے وہ والدین کا وطن ہو یا نہ ہو۔
  • اگر اولاد:
  • والدین کے وطن میں اتنا نہ رہی ہو کہ وہ اس کا اصلی وطن بن جائے (مثلاً پیدائش کے بعد کہیں اور جاکر رہائش پذیر ہوگئی ہو)،تو والدین کا وطن، ان کی اولاد کا اصلی وطن نہیں ہوگا،
  • لیکن بعد میں وہاں آ کر ان کے ساتھ رہنے سے وہ اتخاذی وطن بن سکتا ہے۔

اولاد کے بارے میں احکام:

  • اولاد اگر بالغ  بھی ہو (مثلاً لڑکی 12 سال یا لڑکا 16 سال کا)، اور وہ  اپنے   والدین کے ساتھ کسی جگہ رہنے جائے تو وہ  جگہ  ان کا وطن شمار ہوگا، چاہے ان کی وہاں پر وطن قراردینے کی نیت نہ  بھی رہی ہو۔
  • لیکن اگر  اولاد، وہاں رہنے کا ارادہ نہ رکھے، تو وہ جگہ اس کا وطن نہیں ہوگی، چاہے والدین کے زیرِ کفالت ہی کیوں نہ رہے۔
  • اگر اولاد  اپنےوالدین کی تبعیت میں کسی جگہ کو وطن بنائے اور پھر نیت بدل دے تو:
  • جب تک وہ اس جگہ سے باہر نہ نکلے، وطن کا حکم باقی رہے گا
    • اور اس کی نماز پوری   پڑھی جائے گی۔
اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔