دلچسپ اورپر کشش واقعہ – جلد 03 شمارہ 08
وہ خواب جس نے دو بھائیوں کو اپنے استاد تک پہنچایا۔
ایک رات بغداد میں، شیخ المفید رحمۃ اللہ علیہ طویل مطالعہ اور تدریس کے بعد سو گئے۔شہر خاموش تھا۔ چراغ مدھم ہو رہے تھے۔ دریائے دجلہ چاندنی میں خاموشی سے بہہ رہا تھا۔ اسی حالت میں انہوں نے ایک خواب دیکھا۔ انہوں نے حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء (سلام اللہ علیہا) کو دیکھا، نورانی اور باوقار۔ ان کے مبارک ہاتھوں کو تھامے ہوئے دو کم سن لڑکے تھے۔ آپؑ نے انہیں آگے بڑھایا اور فرمایا: (اے شیخ) ” ان بچوں کو تعلیم دو”۔
شیخ المفید بیدار ہوئے تو ان کا دل لرز رہا تھا۔ اس خواب کا کیا مطلب تھا؟ یہ بچے کون تھے؟ انہیں ایسا خواب کیوں دکھایا گیا ؟
وہ اس خواب کو دل میں لئے رہے، اس پر غور کرتے رہے اور اسےسمجھنےکی دعا کرتے رہے۔ اگلے ہی دن جب وہ اپنے درس کے حلقے میں بیٹھے تھے، ایک باوقار خاتون دو کم سن لڑکوں کے ساتھ اندر داخل ہوئیں۔ وہ امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھیں۔ ان کی شخصیت میں وقار نمایاں تھا۔ وہ شیخ المفید کے قریب آئیں اور بولیں :
اس لمحے شیخ المفید کا دل ٹھہر سا گیا۔ “یہ میرے بیٹے ہیں۔ میں انہیں آپ کے پاس لائی ہوں تاکہ آپ انہیں تعلیم دیں۔”
یہی وہ خواب تھا۔ ان کے سامنے کھڑے یہ دونوں لڑکے وہی تھے جنہیں انہوں نے حضرت فاطمہ الزہراء (سلام اللہ علیہا) کی آغوش میں دیکھا تھا۔
بڑا بیٹا علی تھا، جو بعد میں سید المرتضیٰ کے نام سے معروف ہوا۔ چھوٹا محمد تھا، جو آگے چل کر سید الرضی کہلایا۔
شیخ المفید نے اپنے اوپر ذمہ داری کا بوجھ محسوس کیا۔ یہ معمولی تعلیم نہ تھی، یہ ایک امانت تھی۔ اسی دن سے وہ دونوں بھائی ان کے حلقۂ درس میں بیٹھنے لگے۔
انہوں نے انہیں علمِ کلام، فقہ اور اصولِ عقیدہ کی تعلیم دی۔ ان کی فکری تربیت کی۔ ان میں تواضع اور انکساری پیدا کی۔ ان کے استدلال کو نکھارا۔ اور انہیں یاد دلایا کہ علم دراصل امامِ زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی خدمت ہے۔ کئی سال گزرتے گئے۔
بڑا بھائی شیعہ اسلام کے عظیم ترین متکلمین میں شمار ہونے لگا۔ اور چھوٹے بھائی نے امام علی (علیہ السلام) کے خطبات اور خطوط کو جمع کر کے نہج البلاغہ مرتب کی، اور یوں ایسے کلمات محفوظ کر دیے جو آج بھی دلوں کو ہلا دیتے ہیں۔ لیکن یہ سب ایک خواب سے شروع ہوا تھا۔ ایسا خواب جو عزت کے بارے میں نہیں، بلکہ ذمہ داری کے بارے میں تھا۔ اور شاید ہمارے لئے بھی یہی سبق ہے۔کبھی اللہ تعالیٰ آپ کے سپرد کوئی چھوٹی سی امانت کر دیتا ہے: ایک بچہ، ایک شاگرد، نوجوانوں کا ایک حلقہ۔ اس وقت شاید آپ کو اس کی اہمیت کا اندازہ نہ ہو۔ لیکن اخلاص کے ساتھ دی گئی تعلیم نسلوں کو بدل سکتی ہے۔یہ ایک تاریخ ساز سبق ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

