تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 15
دنیا کی بھیڑ میں دل کی خلوت
کبھی کبھی بعض تجربے نہ کسی کلاس میں ملتے ہیں، نہ کتابوں اور پیچیدہ علمی مباحث میں؛ بلکہ زندگی کے درمیان، سب سے سادہ مناظر سے حاصل ہوتے ہیں، جوانسان کو بہت گہرا سبق سکھادیتے ہیں۔
آیت اللہ سیدان نقل کرتے ہیں: جوانی کے زمانے میں میں نے "مرشد چلوئی”کے بارے میں بہت سنا تھا؛ ایک ایسا شخص جو کاروبار میں مصروف ہونے کے باوجود سلوک اور معرفت کا اہل سمجھا جاتا تھا۔ ” دنیاوی بازار” اور "روحانیت” کا یہ امتزاج میرے لئے عجیب تھا۔ میں سوچتا تھا: کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص دنیا کے شور و غل میں رہتے ہوئے بھی حضورِ قلب اور عرفان کی منزل پر فائز ہو؟
انہی سوالات نے مجھے ایک دن مجبور کیا کہ میں اسے قریب سے دیکھوں۔
جب میں اس کی چلوکباب کے ریسٹورنٹ پر پہنچا تو میری توقعات کے بالکل برعکس منظر تھا: بہت بڑا ہجوم، لمبی قطار، آرڈرز کی آوازیں، گاہکوں کی آمد و رفت، اور میزیں جو مسلسل بھر رہی تھیں اور خالی ہو رہی تھیں۔ وہ جگہ مکمل طور پر ایک شور و ہنگامے کا ماحول بنائے ہوئی تھی۔
میں نے دل میں کہا: ” کیا یہی وہ شخص ہے جسے لوگ عارف کہتے ہیں؟! اس قدر شور و غل میں کوئی خدا کو کیسے یاد کرسکتا ہے؟! لگتا ہے یہ صرف لوگوں کے کام میں مصروف ہے، سلوک میں نہیں۔”
میں تقریباً واپس جانے والا تھا، مگر سوچا: “جب آ ہی گیا ہوں تو کم از کم کھانا کھا لوں۔” میں قطار میں کھڑا ہو گیا۔ جب میری باری آئی تو ایک میز پر بیٹھ گیا۔ کچھ ہی دیر بعد میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کے ہاتھ میں کرمانشاہی گھی کا برتن تھا اور وہ میزوں کے درمیان گھوم رہا تھا۔ وہ سکون کے ساتھ ہر گاہک کے کھانے پر گھی ڈال رہا تھا۔ اس کی حرکات سادہ تھیں، مگر اسی سادگی میں ایک وقار اور باطنی حضور نظر آتا تھا۔
جب وہ میرے پاس پہنچا، تو بغیر کسی نمایاں انداز کے، آہستہ سے جھکا اور نہایت نرم مگر اثر انگیز لہجے میں کہا:
” اےجوان! جسم کا مصروف ہونا کوئی مسئلہ نہیں… دل کا خلوت میں ہونا ضروری ہے۔”
یہ ایک جملہ گویا میرے تمام خیالات کو توڑ گیا۔
اسی لمحے مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا؛ میں”عرفان” کو ظاہری خاموشی میں ڈھونڈ رہا تھا، جبکہ اس نے اسے "باطنی خلوت” میں پا لیا تھا۔
جب میں وہاں سے نکلا، تو وہ چلوکباب کا ریسٹورنٹ میرے لئے ایک ریسٹورنٹ نہیں ؛ بلکہ ایک مدرسہ بن گیا تھا، جہاں میں نے سلوک کی حقیقت کا ایک اہم سبق سیکھا: انسان زندگی کے سب سے مصروف ماحول میں رہ کربھی ، اپنے دل کو کامل سکون کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ رکھ سکتا ہے۔
اس تبلیغی تجربے کے تربیتی اسباق
1۔ ظاہری خلوت اور قلبی خلوت میں فرق
روحانیت کا تعلق معاشرے سے کنارہ کشی سے نہیں؛ اصل چیز تو دل کی حاضری اور اندرونی توجہ ہے، نہ کہ بیرونی خاموشی۔
2۔ سماجی زندگی اور روحانی سیر و سلوک کا امتزاج ممکن ہے
لوگوں کی خدمت اور عملی زندگی میں سرگرمی، روحانی ترقی کے خلاف نہیں بلکہ اس کا ذریعہ بن سکتی ہے— بشرطیکہ دل اللہ سے جڑا ہوا ہو۔
3۔ تبلیغی کاموں میں ظاہری فیصلوں کا خطرہ
ایک دینی مبلغ کو چاہئے کہ صرف ظاہری حالات دیکھ کر لوگوں کے باطن کا فیصلہ نہ کرے؛ اکثر اوقات ،حقیقت ، انسانوں کے سادہ کاموں کے پیچھے چھپی ہوتی ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

