تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 08

Religious Outreach Experiences - Volume 03 Issue 08
Last Updated: فروری 17, 2026By Categories: تبلیغی تجربے0 Comments on تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 080 min readViews: 6

جب ہم نے خود کو امام کی محفل میں پایا۔

ماہِ مبارک رمضان ہمیشہ مبلغینِ دین کے لیے ایک نئے آغاز کی مہک لے کر آتا ہے۔ یہ ذمہ داری کی مہک ہے، سنجیدہ منبر کی مہک ہے، اور ایسے دلوں کی مہک ہے جو سننے اور بدلنے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔

دو سال قبل، اسی بابرکت مہینے کی آمد سے کچھ پہلے، مجھے ایک تبلیغی سیمینار میں خطاب کی دعوت ملی۔ مجلس اہلِ علم سے مزین تھی—ایسے علما اور روحانی شخصیات سے، جو برسوں سے مختلف ممالک میں مکتبِ اہلِ بیتؑ کا پیغام پہنچا رہے تھے۔ یہ وہ حضرات تھے جو خود منبر کے استاد، تحقیق کے اہل اور تجربے کے امین تھے۔

سچ کہوں تو ایسے مجمع کے سامنے موضوع کا انتخاب آسان نہ تھا۔ میں سوچتا رہا: کیا کہوں جو رمضان کی روح بھی رکھتا ہو، تازگی بھی، اور ایسا ہو کہ وہ اسے اپنے آئندہ منبروں میں بھی بیان کرسکیں؟

چند دن اسی تذبذب میں گزر گئے۔ پھر اچانک ایک خیال دل میں بجلی کی طرح چمکا—امام جعفر صادقؑ کا ایک سوال۔

ایک مختصر مگر ہلا دینے والی روایت۔

روایت میں آتا ہے کہ ایک دن امام جعفر صادقؑ نے اپنے ایک شاگرد سے فرمایا:
“اس مدت میں جو تم میرے ساتھ رہے ہو، کیا سیکھا؟ اس کا خلاصہ بیان کرو۔”

شاگرد نے اپنی ساری تعلیم کو آٹھ جملوں میں سمیٹ دیا—آٹھ مختصر مگر نہایت گہرے نکات۔ جب وہ خاموش ہوا تو امامؑ نے فرمایا:
“تمام انبیاء کی تعلیمات انہی آٹھ جملوں میں جمع کی جا سکتی ہیں۔”

یہی روایت میری تقریر کا محور بن گئی۔

جب میں اسٹیج پر آیا تو روایت سنانے سے پہلے حاضرین سے عرض کیا
“ہم سب امام جعفر صادقؑ کے شاگرد ہیں۔ برسوں سے حوزۂ علمیہ میں فقہ، اصول اور حدیث پڑھتے آئے ہیں۔ ذرا تصور کیجیے کہ امام آج ہم سے پوچھیں: ان برسوں میں تم نے  کیا سیکھا؟ ا تو س کا  ہم کیا  جواب دیں گے؟”

ہال میں غیر معمولی سناٹا چھا گیا۔

میں نے مزید کہا:
“اگر ہماری تمام تعلیم، مباحثہ، تحقیق اور تبلیغ کو چند جملوں میں سمیٹنا ہو تو ہم کیا کہیں گے؟”

پھر میں نے روایت بیان کی اور ان آٹھ نکات کی وضاحت کی۔ مگر آج سوچتا ہوں کہ اصل اثر شاید الفاظ میں نہیں تھا، بلکہ اس منظر میں تھا جو ہم نے مل کر تخلیق کیا تھا۔ میں نے حاضرین کو صرف روایت نہیں سنائی تھی؛ میں نے انہیں امام کی محفل میں لا کھڑا کیا تھا۔ میں نے انہیں یہ احساس دلایا تھا کہ وہ خود امام کے سامنے جواب دہ ہیں۔مجلس کی فضا بدل گئی۔ نگاہیں سنجیدہ ہو گئیں، چہرے متفکر۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہر شخص اپنے دل میں اپنا جواب تحریر کر رہا ہو۔

تقریر کے اختتام پر صلوات کی آواز میں بھی ایک نیا رنگ تھا—یہ محض اجتماعی نعرہ نہ تھا، بلکہ ایک باطنی لرزش کی گواہی تھی۔ بعد از مجلس بہت سے شرکاء میرے پاس آئے۔ کسی نے حدیث کا مکمل حوالہ مانگا،  اورکسی نے کہا:
“یہ ضرور رمضان کے منبروں میں بیان کریں گے۔”
اور کسی نے آہستہ سے کہا:
“اس سوال نے ہمیں اپنے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔”

اس دن میں نے ایک بڑا سبق سیکھا۔

ہم برسوں اماموں کے بارے میں گفتگو کرتے رہتے ہیں، مگر کبھی کبھی صرف اتنا کافی ہوتا ہے کہ خود کو ان کے حضور میں دیکھ لیں۔ امام کے بارے میں بولنے اور امام کی نگاہوں کے سامنے کھڑے ہونے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ وہاں تقریر احتساب بن جاتی ہے، اور اپنے امام کا براہِ راست سامنا۔ مجھے یقین ہے کہ اس مجلس کی غیر معمولی پذیرائی کا راز کسی خاص حدیث میں نہیں تھا، بلکہ “احساسِ حضور” میں تھا۔ چند لمحوں کے لیے ہم ایک رسمی سیمینار سے نکل کر امام کی درسگاہ میں داخل ہو گئے تھے۔ اور شاگرد کے جواب پر امام کی تصدیق ہمارے لیے ماہِ رمضان کی تبلیغ کا عملی منشور بن گئی۔

اس تبلیغی تجربے کے تین اہم سبق:

1۔ تربیتی تمثیل کی طاقت: سب سے مؤثر تبلیغ وہ ہے جس میں مخاطب صرف سامع نہ رہے بلکہ خود منظر کا حصہ بن جائے۔ امام کے حضور کا تصور ہزار دلائل سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔

 خلاصۂ کلام  کی اہمیت: درس و بحث کے انبار میں آخرکار جو باقی رہتا ہے وہ “اسکا نچوڑ ” ہوتا ہے۔ مبلغ کی مہارت یہ ہے کہ وہ وسیع معارف کو چند بنیادی اور عملی اصولوں میں ڈھال دے۔

3۔ تبلیغ  وہ ہے جو پہلے خود مبلغ  پر اثر کرے۔

امام کا سوال پہلے سامعین سے نہیں، ہم سے متعلق ہے۔ جب مبلغ خود کو اس سوال کے سامنے کھڑا کر دے تو اس کی بات دل سے نکلتی ہے—اور دل میں اترتی ہے۔کبھی کبھی پورا منبر بدلنے کے لیے ایک سوال کافی ہوتا ہے:  "تم نے کیا سیکھا؟”

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

آپ بھی پسند کر سکتے ہیں